کوروناکی تیسری لہر:بچوں کو زیادہ اثرانداز ہونے کے ہیں امکانات ،محتاط رہیں،ماہر ڈاکٹروں کی تجویز

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ :۔(خصوصی رپورٹ):۔کورونا کی پہلی لہر میںبزرگ افراد، دوسری لہر میں درمیانی عمر والے افراد اوراب یہ بات مزید خوف پیدا کررہی ہےکہ کورونا کی تیسری لہر بچوں کو اپنی چپیٹ میں لے رہی ہے۔ کورونا کی تیسری لہر کے متعلق عوام میں بہت ساری غلط فہمیاںاوربدگمانیاں ہیں،انہیں دور کرنے کیلئے روزنامہ نے ایک خصوصی ملاقات شہر کے معروف بچوں کے ماہر ڈاکٹر ڈاکٹر دھننجئے سرجی اور ڈاکٹروکرم سے کی جس میں انہوں کورونا کی تیسری لہر کے تعلق سے بے حد مفید معلومات دی ہیں ۔ڈاکٹر دھننجئے سرجی نے بتایا کہ یہ بات سچ ہے کہ جسطرح کورونا کی پہلی اوردوسری لہر نے قہر برپا کیا تھا اسی طرح تیسری لہر بھی اپنا اثر ضروری دکھائیگی اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کورونا کی پہلی لہر سے خطرناک دوسری لہر ثابت ہوئی ہےلہٰذایہ بھی ہوسکتا ہے کہ تیسری لہرپچھلے ان دوو لہروں سے بھی زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہاںایک راحت کی بات یہ ہے کہ کورونا کی تیسری لہر خطرناک ہونے کے باوجود بچوںکی جانوں کو نقصان نہیں پہنچائےگی۔ کیونکہ ہم یہ دیکھ چکے ہیںکہ کورونا کی پہلی لہر میں 80سال کے بوڑھے متاثر ہوئے تھے، لیکن اسکی بنسبت دوسری لہر میں30 سے 45 سال والے افراد زیادہ تعداد میں ہلاک ہوئے ۔ اسی طرح تیسری لہر بچوں کو ضرور متاثر کریگی لیکن اس لہر میں بچوں کے اموات کی شرح بہت کم ہوسکتی ہے۔ جن بچوں میں کورونا پازٹیو ہوگا ان میں بخار، سردی ، کھانسی، پیٹ درد ،دست اور جسم کا سرخ ہونااور جسم میں شدید درد جیسی علامتیں پائی جاتی ہیں۔یہ انفیکشن6 سال سے 8 سال کے اوپرکے بچوں میں زیادہ ہوسکتا ہے ۔ ڈاکٹر وکرم نے کورونا کی تیسری لہر سے بچوں کی حفاظت کیلئے چند بےحد اہم اور لازمی احتیاطی تدابیر بتائیں ہیں جس پر عمل کرتے ہوئےبچوں کو کورونا سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے مطابق ماسک پہننا، ہاتھوںکو بار بار دھونا اور سوشیل ڈسٹینس برقرار رکھنا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی گھر میں کسی کو کورونا پہلے ہوچکا ہے تو یہ ضروری ہے کہ ان کے بچوں میں اگر بخار، سردی ، کھانسی جیسے علامات دکھائی دیتے ہیں تو وہ لوگ تاخیر نہ کریں بلکہ فوراً کورونا کا ٹیسٹ کروالیںتاکہ ابتدا میں ہی علاج کرنے سے کورونا سے لڑا جاسکتا ہے۔واضح ہوکہ ہمیں اگلےتین 4 مہینوں تک بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں جانے سے باز رہنا چاہئے۔ لاک ڈائون کھل بھی جائے تو ہمیں چاہئے کہ بھیڑ سے دور رہیں اورخاص طور پر بچوں کو ایسے علاقوں میں ہرگز نہ لے جائیں جہاں 10 سے زیادہ لوگ جمع ہوتے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ جن بچوں کیلئے کورونا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ا ن میں زیادہ تر موٹے بچے، قلبی امراض والےبچے، جن بچوں میں پیدائشی طور پر کسی طرح کی کمی ہے،جوبچے ذیابطیس میں مبتلاء ہیںاور گردے کےامراض میں مبتلا ء پائے جانے والےبچوں کیلئے زیادہ نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے،ان کے علاوہ دیگر تمام بچوں کو کورونا کا اثر ہوسکتا ہے لیکن یہ خطرناک نہیں ہوگا۔ڈاکٹر سرجی کےمطابق جن بچوں میں مسلسل 3 دن سے زیادہ تیز بخار، آنکھوں کاسرخ ہونا اور انگلیوں میں سوجن جیسی علامتیں نظرآتی ہیںتو بالکل بھی دیرنہ کریںفوراً بچوں کے ماہرین ڈاکٹرس علاج کروائیں۔ انہوں نےویکسین کے تعلق سے معلومات دی ہے کہ ہر ایک شخص کو کوروناکی ویکسین لینا ضروری ہے، ویکسین کو لیکر لوگوں میں بہت ساری بدگمانیاں ہیں وہ سب غلط اورافواہوں پر مبنی ہیں۔ ویکسین سے کسی کو کسی بھی طرح کا کوئی نقصان نہیں ہے ، بلکہ یہ ہمیں کورونا جیسی جان لیو ا بیماری سے حفاظت کرتا ہے۔
(نوٹ۔ اس انٹرویو کو آپ آج کا انقلاب کے یوٹیوب چینل پر بھی دیکھ سکتے ہیں، یوٹیوب پر انقلاب شیموگہ سرچ کریں۔)