ایک سوال جس کا جواب جان کربھی اہلِ علم ہورہے ہیں انجان; کیا مسجدکو شہیدکرنےوالی سیاسی جماعت اور شہادت کی تائیدکرنےپر خوشی منانےوالی سیاسی جماعت کی مسلمان تائید کرسکتے ہیں؟

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔روزنامہ آج کاانقلاب نے موجودہ سیاسی حالات کے مدِ نظر ریاست کے اہلِ علم حضرات جو شرعی امور پر باریکی سے نظر رکھتے ہیں اور علم کے سمندر ہیں ، اُن سے بذریعہ واٹس ایپ ایک سوال پوچھا گیاتھا جس کا جواب اہلِ علم حضرات جانتے ہوئے بھی انجان بننے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ سوال کسی فتنے کو بڑھاوا دینے یاپھر تکرار پیداکرنے کیلئے نہیں بلکہ حالاتِ حاضرہ کے مدِ نظرایک فکر پیداکرنے کیلئے پوچھا گیا تھا ۔ روزنامہ نے جو سوال اہل علم حضرات سے پوچھاتھاوہ کچھ اس طرح سے تھا ۔}  اگر کوئی سیاسی جماعت کسی مسجد کو شہید کرتی ہے تو کیا اس سیاسی جماعت کی تائید کی جاسکتی ہے؟.  اورکیا مسجد کی شہادت کے فیصلے کودرست قرار دیکر جشن منانے والے شخص کی تائید کی جاسکتی ہے؟ جواب ارسال کریں مہربانی ہوگی۔{۔ اس سوال کو ریاست کے قریب 13/معتبر اہلِ علم حضرات کے سامنے پیش کیاگیاتھا،مگرصرف ایک صاحب بصیرت نے جواب دیاہے کہ جو سیاسی جماعت مسجد کی شہادت کیلئے ذمہ دارہے،اُس کی تائیدنہیں کی جاسکتی اور نہ ہی خوشی منانے والی سیاسی جماعت کی تائیدکی جاسکتی ہے ،ایسا کرنے والے مسلمان سراسر ظلم کی تائید کرنےوالوں میں سے ہیں۔یہ سوال بھلے ہی عام فہم میں اس وقت نہ پوچھے جانےوالاسوال ہے ، مگر حالاتِ حاضرہ کی نزاکت کے مطابق یہ سوال بے حد ضروری ہے ۔ اب عام مسلمانوں کو تو اس سوال کاجواب بھی معلوم ہے،مگر فکرمندو دانشواران اس سوال کے سلسلے میں جس طرح سے خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں وہ نا قابل قبول بات ہے ۔اہلِ علم کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس طرح کے سوالات کاجواب دیاجائے ،اگر جواب نہیں دیاجاتاہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے دبائومیں آکر یا کسی کے خوف میں رہ کر جواب دینے سے گریزکیاجارہاہے۔اب عام لوگ ہی اس سوال کا جواب اپنےطورسے لے سکتے ہیں۔اس وقت یقیناً فرقہ پرستوں کو دور رکھنے کی بات ہورہی ہے،مگر ظاہری اور باطنی فرقہ پرست کس معیارکا ہے اس پر بھی توجہ دیتے ہوئے تیسری راہ اپنانے کی ضرورت ہے۔چونکہ مسلمانوں کے نزدیک اہلِ علم حضرات نہایت معتبر مانے جاتے ہیں،ایسے میں معتبریت کو بحال رکھنے کیلئے حق کہنا ضروری ہوگیاہے۔