افسوس ضرورہے لیکن ناامید نہیں ہوں ;مذہب کی بنیاد پر ووٹوں کا بٹوارہ ہوا، مسلمان کانگریس گئے ، ہندو بی جے پی کی طرف : آئینور منجوناتھ 

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ : ۔میں اپنی ہار کو قبول کرتاہوں ، مجھے افسوس ضرور ہے لیکن میں ناامید نہیں ہوں ، جو مدعے میں نے عوام کے سامنے رکھے تھے اسکی تائید مجھے نہیں ملی ہے یہی افسوس کی بات ہے ۔ اس بات کااظہار جے ڈی یس کے شکست یافتہ امیدوار آئینور منجوناتھ نے کیا ہے ۔ انہوںنے آج پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امن ، بھائی چارگی ، سرکاری مسائل  کے مدعوں کو سامنے رکھ کر میںنے الیکشن لڑا تھا لیکن جو امید میںنے کی تھی اس امید کے مطابق مجھے ووٹ نہیں ملے ،جن مدعوں پر میں نے غور کیا تھا انہیں عوامی تائید نہیں ملی ۔ اس دفعہ کے الیکشن میں کانگریس بھی مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگا تھا ، کیرلا اسٹوری کو واٹس اپ کے ذریعے ہندوئوں کو پہنچایا گیا جس کی وجہ سے بی جے پی کے لئے ہندو ووٹ بینک متحد ہوا ۔ ہندو اور مسلمانوں کے ووٹوں کے منجمد ہونے سے میری شکست ہوئی ہے ۔ میں یہ سمجھتاہوں کہ جو شکست مجھے ملی ہے وہ شکست میری نہیں بلکہ جن مدعوں پر میںنے الیکشن کیا تھا ان مدعوں کو لوگوں نے شکست دی ہے ۔ اگر شیموگہ میں حالات خراب کئے جاتے ہیں تو اسکی شدید مخالفت کی جائیگی ، اس سال گنیش تہوار کے موقع پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ شرپسند اس تہوار میں شر پھیلاسکتے ہیں ۔ ووٹروں کو بھڑکانے اور بہکانے سے ووٹروں کی سوچ بدل جاتی ہے ایسی سوچ کو بدلنا مشکل ہے ، ہندومہاسبھا کے رکن کو رکن اسمبلی بنایا جاتاہے تو ایسے شخص سے امن کی کیسے امید کی جاسکتی ہے ۔ کانگریس اور بی جے پی نے اس الیکشن میں بے تحاشہ پیسہ بہاکر غریبوں کے ووٹ خریدے ہیں اس وجہ سے مجھے ووٹ نہیں ملے ہیں ۔غریبوں اور محنت کش لوگوں کے مسائل پر میں نے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے ، لیکن یہاں جذباتی بناکر ووٹوں کو تقسیم کیا گیا ہے ۔ شیموگہ میں کرفیو سیکشن نافذ نہ ہو اسکے لیے میں آگے بھی کام کرونگا، سابق رکن اسمبلی کے بی پرسنناکمار اور یم سری کانت نے میرا بھر پور ساتھ دیاہے اسکے لئے میں انکا شکریہ ادا کرونگا ۔ مزید انہوںنے کہا کہ جن لوگوںنے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچایا ہے ان تمام کو عوام نے گھر بھیجا ہے ، کانگریس کے گیا رنٹی کارڈ سے لوگ متاثر ہوئے ہیں اس لئے ووٹروںنے کانگریس کا ساتھ دیاہے ۔ کانگریس پارٹی سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر کھرا اتریگی ۔  بدعنوانیاں ، ریزرویشن ، ین پی یس ، او پی یس اور مذہبی منافرت بی جے پی کی شرمناک ہار کے اسباب ہیں ۔ وزیر اعظم کے دور ے بھی بی جے پی کو نہیں بچا سکے ۔ ساحلی کرناٹک اور ملناڈ کے 28 اسمبلی حلقوں میں سے 15 پر کانگریس پارٹی کو جیت حاصل ہوئی ہے ، شیموگہ میں مودی اور ترقی کو نہیں دیکھا گیا بلکہ ہندوتوا کی بنیادوں پر الیکشن ہواہے ، مسلمان کانگریس کی جانب گئے تو ہندو بی جے پی کو ووٹ دئے ہیں ، جس طرح سے جمہوری اقدار پر ووٹنگ ہونا تھاوہ ممکن نہیں  ہوسکا۔ تبدیلی کی چنگاری آہستہ سے سلگ رہی ہے ، میںنے جو 8 ہزار ووٹ لئے ہیں اسے 80 ہزار ووٹوں میں تبدیل کرنے کیلئے وقت لگے گا ۔ سابق رکن اسمبلی کے بی پرسنناکمار نے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مذہب کی سیاست ہوئی ہے باوجود اسکے ہم جیتنے والوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور شہر میں امن کی توقع کرتے ہیں ۔ جن لوگوںنے بھی ہماراساتھ اسکے لئے ہم انکا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ اس موقع پر جے ڈی یس کے ضلعی صدر یم سریکانت وغیر ہ موجود تھے ۔