شیموگہ: محکمہ تعلیم عامہ تعلیمی سال کے پہلے ہی دن ضلع کے لوئر ،پرائمری اور ہائرپرائمری اور ہائی اسکولوں کے 262005 طلباء کو نصابی کتابیں اور یونیفارم تقسیم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ضلع میں جملہ 2001 اسکول ہیں جن میں 902 لوئر پرائمری اسکول، 935 ہائر پرائمری اسکول، 164 ہائی اسکول شامل ہیں۔ حکومت کی طرف سے صدفیصد نصابی کتابیں پہلے ہی فراہم کی جا چکی ہیں اور قریب 99.50فیصد نصابی کتابیں بی ای او دفاترتک پہنچائی گئی ہیں۔ضلع کےتعلیمی سال 2022-23 کے لیے ضلع کی نصابی کتاب کی مانگ کے لیے 1156816 لاکھ کتابوں کی ضرورت درکارتھی،لیکن امسال پہلی جماعت میں داخل ہونے والے بچوں کا ڈیٹا دستیاب ہونا باقی ہے۔ حکام نے بتایا کہ نصابی کتاب کی فراہمی گزشتہ سال کے اعدادوشمار کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے۔ماضی میں اسکول دوبارہ شروع ہونے اور کلاسز شروع ہونے کے باوجودکتابیں طلبا کے ہاتھ پہنچنے میں تاخیر ہوتی تھی۔ جس کی وجہ سے طلبہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتاہے،اس وجہ سےمحکمہ تعلیم نے کلاس کے پہلے دن بچوں میں نصابی کتابیں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سکول 29 مئی سے شروع ہوں گے۔اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ (DDPI) کے ڈپٹی ڈائریکٹر سی آر پرمیشورپا نے کہاہے کہ29 مئی سے 3 جون تک ہر تعلقہ میں تعلیمی افسران کی ایک ٹیم کے ذریعہ بچوں کو اسکول میں داخل کرنے کے لیے ایک بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے۔تمام سی آرپیز اور بی آرپیز کی ایک میٹنگ چیف ایگزیکٹیو افسران کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی موجودہ گائڈلائن، بنیادی ڈھانچے بشمول بیت الخلا، اسکول کیمپس کی صفائی، پینے کے پانی کی فراہمی، اکشرا دسوہا پروگرام پر عمل آوری، بچوں کےداخلے اور ترغیبی اسکیموں کی تیاری کریں۔ایل کے جی کے بچے کا اسکول میں داخلہ لینے کے لیے 3 سال 10 ماہ اور کلاس 1 کے لیے 5 سال 10 ماہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2025-26 سے یہ اصول ہے کہ ایل کے جی کے بچے کی عمر 4 سال اور پہلی جماعت کا بچہ یکم جون تک 6 سال کا ہونا چاہیے۔
