رملہ:۔فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی ایک بستی کے قریب مسلح فلسطینی نے فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم چار یہودی آباد کار ہلاک اور چار شدید زخمی ہوگئے۔ ان میں سے ان میں دو حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ادھر قابض فوج نے فائرنگ کرنے والے دونوں فلسطینیوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا ہے۔ قابض فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک مزاحمت کار کو فائرنگ کے موقعے پر ہی گولی ماری گئی ،جبکہ دوسرے نے اپنی گاڑی پر فرار ہونے کی کوشش کی، جسے کچھ دیر بعد کچھ فاصلے پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔اسرائیلی ریڈیو کے مطابق ’عیلی’ یہودی بستی میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے ایک پٹرول اسٹیشن پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم سے کم چار یہودی آباد کار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی مزاحمت کار موقعے پر ہی شہید ہوگیا۔دوسری طرف حماس نے غرب اردن میں انجام دی جانے والی مسلح مزاحمتی کارروائی میں دشمن کو جانی نقصان پہنچنے پرفلسطینی قوم، مسلم اور عرب اقوام کو مبارک باد پیش کی ہے۔ حماس نے فدائی حملے میں شہید ہونے والے دونوں مجاہدین کی جرأت مندانہ کارروائی کو سراہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ شہید ہونے والے فلسطینی مجاہدین جماعت کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے رکن تھے۔ ان میں سے ایک کی شناخت 26 سالہ مہند فالح شحادہ کے نام سے کی گئی ہے۔ وہ حافظ قرآن تھے اور اسرائیلی جیلوں میں قید بھی رہ چکے تھے۔ ان کا تعلق غرب اردن کے شمالی شہر نابلس کے عوریف قصبے سے تھا۔شہید ہونے والے دوسرے القسام کارکن 24 سالہ خالد مصطفی صباح تھے جنہوں نے جنوبی نابلس میں گذشتہ روز کی بہادرانہ کارروائی میں حصہ لیا اور بعد میں دشمن فوج کے حملے میں جام شہادت نوش کرگئے تھے۔
