باگلکوٹ:۔ بی جے پی سے اسمبلی ٹکٹ دلانے کا لالچ دیتے ہوئے گووندا بابو پجاری نامی تاجر سے کروڑوں روپے وصول کرنے والی کٹر ہندوتووا وادی کارکن چئیترا کنداپورا کا فریبی جال توڑنے کی راہ میں سی سی بی پولیس کو زبردست کامیابی ملی ہے ۔ چئیترا سمیت اس کے دیگر ساتھیوں کو کسٹڈی میں لے کر تفتیش کر رہی سی سی بی پولیس کی ٹیم نے باگلکوٹ سے چئیترا کے ساتھی کرن کے پاس سے ایک کِیا کار ضبط کی جو چئیترا نے دھوکے بازی سے حاصل شدہ رقم سے خریدی تھی ۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ کار کرن نے چئیترا کے لئے شولاپور سے خریدی تھی اور باگلکوٹ لے آیا تھا ۔ پولیس نے کرن کو گرفتار کرتے ہوئے کار ضبط کر لی ہے ۔پولیس نے جانچ کے دوران چئیترا کے پاس موجود 3 کروڑ روپے مالیت کی پراپرٹی ضبط کرنے کے علاوہ چئیترا کے دوست سریکانت کے نام پر بینک میں فکسڈ ڈپازٹ کے طور پر جمع 1.8 کروڑ روپے اور ایک کوآپریٹیو سوسائٹی میں جہاں چئیترا کا بہنوئی منیجر ہے ، وہاں جمع کیے گئے 40 لاکھ روپے بھی ضبط کر لیے ۔ اس کے علاوہ فریب دے کر وصول کی گئی رقم سے خریدے گئے 65 لاکھ روپے مالیت کے سونے زیورات بھی چئیترا کے گھر سے برآمد کیے گئے ۔ پولیس نے چئیترا کے ساتھی سریکانت کے گھر سے بھی 45 لاکھ روپے ضبط کیے ہیں ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس ٹولی کے ایک اور مفرور ملزم ہالاشری سوامی جی نے 50 لاکھ روپے گووندا بابو کو پہلے ہی واپس لوٹائے ہیں ۔ چئیترا کے ذریعے خریدی گئی دوسری جائیداد کا بھی پولیس نے پتہ لگایا ہے اور اسے ضبط کر دیا گیا ہے ۔ پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چئیترا نے کوٹیشورا میں موجود اپنی بہن کے گھر کی مرمت اور رینوویشن کے لئے 15 لاکھ روپے خرچ کیے تھے ۔ اس کے علاوہ کوٹیشورا میں ہی اس نے ایک پلاٹ بھی خریدا تھا ۔ ملزموں سے پوچھ گچھ کے دوران سی سی بی پولیس نے پتہ لگایا ہے کہ گووندا بابو سے حاصل کی گئی رقم 29 اکتوبر 2022 کو صبح 6 بجے مرونتے میں لائی گئی تھی اور اسے آپس میں بانٹنے کا کام بیچ پر کیا گیا تھا ۔اسی طرح چیترا کنداپور کے خلاف دھوکہ دہی کا ایک اور معاملہ درج ہواہے جس میں مچھلی فروخت کے کاروبار سے وابستہ برہماور تعلقہ کے کوڑی کنیانہ گاؤں کی رہنے والی سودینا (33) نے چترا کندا پورہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اس کی طرف سے کپڑوں کی دکانیں لگانے کا وعدہ کرتے ہوئے اسے تقریباً 5 لاکھ روپے کا دھوکہ دیا ہے شکایت کنندہ نے چترا پر جان کی دھمکی دینے کا بھی الزام لگایا ہے۔ اس نے کنڈا پور کے اڈوپی اور کوٹا میں اس کے لیے ٹیکسٹائل کی دکانیں لگانے کا وعدہ کیا۔کئی سالوں کے دوران، چیترا نے مبینہ طور پر سودینا سے اکثر رابطہ کیا، 2018 اور 2022 کے درمیان اس سے تقریباً 3 لاکھ روپے حاصل کئے۔ یہ رقوم کوٹک مہندرا بینک (وجئے واڑہ برانچ) اور کرناٹک بینک (سستان برانچ) میں سودینا کے کھاتوں سے چیترا کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئیں۔ سودینا کا دعویٰ ہے کہ اس نے 2023 تک باقی رقم کیش میں ادا کر دی ہے۔ جب اس نے چیترا کا سامنا کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ یا تو وعدے کے مطابق ٹیکسٹائل کی دکان لگائے یا رقم واپس کرے، تو اس نے مبینہ طور پر اس کے خلاف عصمت دری کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کے لیے غنڈوں کی خدمات حاصل کرنے کی دھمکی دی۔
