مسجد طیبہ کمیٹی ہوسپیٹ نے واضح پیغام دیا ہے کہ بچوںکی عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم اور بیداری بھی ضروری ہے  – ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی

اسٹیٹ نیوز
مسجد طیبہ منتظمہ کمیٹی ہوسپیٹ کا جلسہ تقسیم انعامات
  ہوسپیٹ:- ۱؍اکتوبر ۲۰۲۳ء؁ کو مسجد طیبہ کمیٹی ہوسپیٹ نے ایک نہایت شاندار تقسیم انعامات کا جلسہ منعقد کیا جس میں خصوصی مہمانان گرامی کی حیثیت سے ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ شاعروادیب ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی ریاست کرناٹک کے وقف بورڈ کے ریاستی چیرمین جناب انورپاشا نے شرکت کی۔
اس بار یوم میلادالنبیﷺ کے موقع سے مسجد طیبہ کمیٹی ہوسپیٹ نے آس پاس کے اسکولوں کے طلبا و طالبات کے لیے مسابقتی جلسے کا انعقاد کیا تھا۔ اس جلسے میں بلکہ یوں کہیں کہ مسابقے میں بہت سارے طلبا نے حصّہ لیا۔ اور اذان، قرأت قرآن کریم، اور تقاریر کے مسابقوں میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ بچوں نے بڑی محنت اور لگن سے تعلیمی ماڈلز بھی بنائے۔ ان مسابقوں کے ججوں نے ایمانداری کے ساتھ اپنے فیصلے سنائے۔ اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بچوں کی فہرست بنائی اورطے پایاکہ ان سارے طلبا کو ایک خصوصی اجلاس میں ریاست کی کسی اہم شخصیت کے ہاتھوں انعام و اعزاز پیش کیے جائیں گے۔ انہیں اعزازات وانعامات کی تقسیم کے لیے اس خصوصی جلسے کا انعقاد کیاگیا۔
اس جلسے کے انعقاد اور تیاری میں مسجد طیبہ کمیٹی کے صدر وسکریٹری اورشہر کے دوسرے انجمنوں، تنظیموں اور درس گاہوں کے ذمہ داروں نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ جبکہ شہر کے عمائدین نے بھی اپنا بھرپور تعاون دیا۔ اس طرح ایک جشن کا ماحول بن گیا۔ اور ہال خواتین و حضرات اور بچوں اور بزرگوں سے بھرگیا۔ ہال کا سماں عید کا منظر پیش کرتا تھا۔ اور لوگوں کے جذبات دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔ جلسے کی صدارت کے فرائض جناب فیروز پیراں صاحب نے ادا کیے۔ شہر میں خوشی کی لہر اس لیے دوڑ گئی تھی کہ سوسے زائد کتابوں کے مصنف حافظؔ کرناٹکی صاحب بہ نفس نفیس شرکت کے لیے تشریف لائے تھے۔ لہٰذا لوگوں کی خواہش کے مطابق ان کو خصوصی خطاب کے لیے دعوت دی گئی۔حافظؔ کرناٹکی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ’’میں سب سے پہلے مسجد طیبہ کمیٹی ہوسپیٹ کے صدر و سکریٹری اور تمام اراکین و ذمہ داروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنی سوجھ بوجھ سے کام لے کر بچوں میں تعلیمی بیداری کا جذبہ پیدا کرنے والے پروگراموں پر توجہ کی۔انہوں نے کہا کہ آپ حضرات نے واقعی ثابت کردیا کہ مسجدیں صرف اذان و نماز اور مسجد کمیٹیاں صرف مسجد ہی کے انتظام کے لیے نہیں ہوتی ہیں وہ مسجد نبوی اور صفہ نبوی کی سنت کو زندہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔ آپ حضرات نے اسکول کی سطح سے لے کر تعلق اور ضلع کی سطح تک بچوں کے مسابقے کا اہتمام کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہماری ملّت میں آج بھی دوراندیش لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس کام کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ہم سبھی لوگوں کی ہے۔
آپ حضرات نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو عصری تعلیم ضرور دینی چاہیے مگر اس طرح کہ ہمارے بچے ہمارے دین اور اسلامی وراثت سے غافل نہ ہوں۔ یہ بہت بڑی بات ہے کہ عیدمیلاالنبیﷺ کے موقع سے جو بھی پروگرام ہوسکتے ہیں انہیں آپ حضرات نے ایک نئی سمت دی ہے۔ اس موقع سے سیرت النبیﷺ پر بچوں کے درمیان تقریروں کا مقابلہ کرانا، اذان کی مشق کرانا، قرآن کریم کی قرأت کا مقابلہ کرانا، اور حمد و نعت کا مسابقہ کرانا ایک مثبت طریقہ ہے۔ اس سے عوام الناس میں اتحاد و اتفاق بھی پیدا ہوگا۔ اور نئی نسل کی ذہنی تربیت بھی ہوگی۔ میں آپ سبھی حضرات کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
حافظؔ کرناٹکی نے کہا کہ میری دلی خواہش ہے کہ اس طرح کے پروگرام ہر شہر میں منعقد کیے جائیں۔ تا کہ روشنی کا سفر طویل ہو سکے۔ انہوں نے بچوں کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ بھی عصری اور دینی تعلیم کا خوب صورت سنگم بنیے۔ اسی سے ہماری قوم کو سربلندی حاصل ہوگی۔ اخیر میں حافظؔ کرناٹکی نے کہا کہ میں ان تمام طلبا کے والدین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے انعامات و اعزازات حاصل کیے ہیں۔‘‘
ریاستی وقف بورڈ کے چیرمین جناب انورپاشا نے کہا کہ’’میں نے ابھی ابھی وقف بورڈ کے چیرمین شپ کا عہدہ سنبھالا ہے۔ مگر میں آپ حضرات کو یقین دلاتاہوں کہ وقف بورڈ جو کام کرسکتی ہے وہ پہلے کی بہ نسبت زیادہ عمدگی اور تیزی کے ساتھ کرے گی۔ ہماری حکومت بھی اس بات پر زور دیتی ہے کہ وقف بورڈ کا کوئی کام تعطل کا شکار نہ ہو۔ ہمارے وقف بورڈ کے وزیر جناب ضمیرپاشاہ صاحب نہایت فعال و زیرہیں۔ اس لیے آپ لوگ یقین رکھیے کہ وقف بورڈ بہترین کام کرے گا۔ آپ کے جو بھی تقاضے ہیں اسے پورا کرے گا۔ میں عنقریب پوری ریاست کادورہ کروںگا۔ وقف بورڈ کے کاموں کا جائزہ لوں گا اورجہاں جس کام کی ضرورت ہوگی اسے جلد سے جلد پورا کروںگا۔‘‘
امام نیازی صاحب صدر انجمن نے کہا کہ؛’’یہ بہت ضروری ہے کہ ہم سبھی لوگ اسی طرح مل جل کر اتحاد و اتفاق سے کام کریں۔ کسی طرح کے اختلاف میں نہ پڑیں، انہوں نے وقف بورڈ کی چیرمین صاحب کو متوجہ کرکے کہا کہ ہم ایک اسپتال چلارہے ہیں مگر اس کے لیے کوئی عمارت نہیں ہے، اس لیے اگر وقف بورڈ اس سلسلے میں کوئی تعاون کرے تو بہترہوگا۔ اور ہم سب کے لیے راحت کا سامان مہیّا ہوگا۔‘‘حافظ ابوبکر نے مسجد طیبہ کمیٹی ہو سپیٹ کے کاموں، اور خدمات کو سراہا، اور کہا کہ آپ لوگوں نے واقعی بہت اچھا کام کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ دوسری مسجدوں کی کمیٹیاں بھی آپ لوگوں سے سیکھے گی اور ملّت میں اتحاد کے ساتھ تعلیم کی فضا بنائے گی۔
اس جلسے کی نظامت کی ذمہ داری حافظ عبدالصمد صاحب نے سنبھالی تھی اور اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے نظامت کے دوران کہا کہ آپ کو جان کر خوشی ہوگی کہ جب اسکولوں کے طلبا، ان کے والدین اور شہر کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ ہمارے درمیان فخر کرناٹک حافظؔ کرناٹکی صاحب تشریف لارہے ہیں تو وہ خوشی سے بے تاب ہوگئے۔ لوگوں نے اسے اپنا اعزاز سمجھا کہ وہ اتنی ساری کتابوں کے مصنف سے براہ راست ملاقات کریں گے۔ بچے حیران تھے کہ جس شاعر کی نظمیں وہ اپنی نصابی کتابوں میں پڑھتے ہیں، اور جن کی حمدوں، نعتوں، لوریوں کی ویڈیوز وہ موبائیل پر دیکھتے اور سنتے ہیں وہ بہ نفس نفیس ہمارے درمیان ہوں گے۔ یہ جو ہال میں آپ کو جشن کا سماں نظر آتا ہے یہ حافظؔ کرناٹکی صاحب کی جادوئی شخصیت کا اعزاز ہے اور سچ پوچھیے تو اس طرح کے پروگراموں کا حاصل بھی ایسی ہی شخصیات کی موجودگی ہے۔عادلہ خانم نے اسٹیج پر انعامات حاصل کرنے والے بچوں کے نام لے لے کر انہیں بلانے اور معززین کے ہاتھوں انعامات و اعزازات تقسیم کرانے میں نہایت ہنرمندی کا ثبوت پیش کیا۔ پروگرام کی ابتدا میں حافظ عبدالصمد صاحب نے حافظؔ کرناٹکی صاحب کا مختصر مگر جامع خاکہ پیش کرکے حافظؔ کرناٹکی صاحب کو لوگوں کی توجہ کا مرکز محور بنادیا۔ اس خاص اجلاس کو جن حضرات گرامی نے اپنی حاضری سے رونق بخشی ان میں سید فیروز پیراں صدر مسجد طیبہ کمیٹی ہوسپیٹ، سیدشاہ سکریٹری مسجد طیبہ کمیٹی ہوسپیٹ، امام نیازی صاحب صدر انجمن میلادالنبی کمیٹی، نظام الدّین صاحب ،کے نذیراحمد صاحب، کے، یونس صاحب، محمد غوث صاحب، بابومیاں صاحب، باشاصاحب، عبدالحمید صاحب، حافظ ابوبکرصاحب، حافظ عبدالصمد صاحب، کے،اے منجوکونسلر صاحب، قادررفاعی صاحب سابق صدر انجمن کے بڑاولی صاحب چیرمین میلاد النبی کمیٹی، عادلہ خانم صاحبہ لکچرر، اور علیم صاحب کے علاوہ بھی بہت سارے معززین حاضر تھے۔چوں کہ سید شاہ سکریٹری مسجد طیبہ کمیٹی ہوسپیٹ نے اپنے سارے ذمہ داریوں اور عہدداروں کے ساتھ اس اجلاس کے لیے کافی محنتیں کی تھیں تو انہوں نے ہی نہایت خوب صورت انداز میں تمام مہمانوں کا طلبا اور ان کے والدین کا، شہر کے عمائدین اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔اور اس مجلس کے اختتام کا اعلان کیا۔