تلوارپکڑنا ہندوئوں کو بھی آتاہے:ایشورپا

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔تلوارپکڑنا صرف جلوس میں شامل نوجوانوں کو ہی نہیں بلکہ ہندوئوں کو بھی آتاہے،ہندو سماج کے لوگ کسی سے ڈرنےوالوں میں سے نہیں ہیں،جن لوگوں نے جلوس میں تلوار گھمایاہے اُنہیں پولیس نے کیوں حراست میں نہیں لیا ہے ۔یہ بات سابق ریاستی وزیر کےا یس ایشورپانے کی ہے۔انہوں نے آج شہر کے حالات پر بات کرتے ہوئے کہاکہ گنیش کا تہواربھی ہوا مگر ذرا برابربھی انتشارپیدانہیں ہوا،جبکہ میلادکے موقع پرحالات بگڑگئے ہیں جس کی وجہ سے شیموگہ کو شرمسارہوناپڑاہے۔انہوں نے کہاکہ جلوس کے دوران تلوارلیکر نوجوان گھوم رہے تھے،آخروہ کسے ڈرانا چاہتے ہیں ، تلوارپکڑنا ہندوئوں کو بھی آتاہے،ہندو تلواروں سے ڈرنےوالوں میں سے نہیں ہیں۔وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشورکاکہناہے کہ کسی نےبھی تلوارنہیں پکڑی ہے،دراصل وزیر داخلہ مسلمانوں کے غلام بن چکے ہیں ۔اورنگ زیب،ٹیپوکے کٹ آئوٹ،بڑی بڑی تلواریں لٹکائی گئی ہیں،ایک طرح سے شہرمیں خوف کا ماحول بنایاگیاہے ،مسلمانوں کے تہوارہی ہندوئوں کو ڈرانے کیلئے منعقدکئے جاتے ہیں۔راگی گڈے میں مسلمانوں نے منہ پرنقاب ڈال کر ہندوئوں کے گھروں پر حملہ کیاہے،پولیس پر پتھرائوکیاہے،ایسے میں پولیس نے پورے شہرمیں 144 سیکشن جاری کیا ہے ۔ مسلم لیڈروں کو چاہیے کہ وہ ایسے غنڈوں پر لگام کسیں،تبلیغی جماعت کے لوگ اس تہوارمیں شامل نہیں تھے،صرف سُنی جماعت کے لوگوں نے میلاد منایا ہے ، ایسے لوگوں کو بلاکر پیس میٹنگ کرنےکی ضرورت ہے۔
ہندوئوں کی حالت بدترہے:چنبسپا
رکن اسمبلی چنسبپانے آج پر یس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہاکہ میں نے راگی گڈے کا معائنہ کیاہے،جلو س سے قبل اور جلوس کے بعد بھی وہاں کا دورہ کیا،کل ہونےوالی پُرتشددوارداتوں میں زخمی ہونےوالے زخمیوں کی عیادت بھی کی ہے،لیکن شانتی نگرمیں ہندوئوں کی حالت بدترہے،وہ خوف کےماحول میں وہاں جی رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ راگی گڈے میں نہ صرف ٹیپوسلطان کا فلکس لگایاگیاہے بلکہ مسلم سامراج کے فلکس بھی لگے ہوئے ہیں۔آخر مسلمان کیا چاہتے ہیں یہ سمجھ سے باہرہے۔انہوں نے کہاکہ کیا اورنگ زیب کی اولادیں راگی گڈے میں ہیں؟یہاں پر تلواروں کا راج چل رہا ہے،اگر ایساہی ماحول رہاتو ہندوئوں کو بھی اپنا تحفظ کرنے کا طریقہ معلوم ہے ۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ وہ تاجروں اور کاروباریوں کو تجارت کرنے کا موقع فراہم کریں۔