بی جے پی کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے راگی گڈے کے حالات کا لیا جائزہ

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
ہندوئوں کومعاوضہ دینے کیلئے کچھ بات نہیں ہوئی ، نہ ہی ہندوتواپر کھولی زبان،جوڈیشیل انکوائری کا کیا مطالبہ
شیموگہ:۔بی جے پی کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے آج صبح شیموگہ کے راگی گڈے یعنی شانتی نگر میں یکم اکتوبرکومیلاد جلوس پر ہونےوالے پتھرائو کے بعد پیداہونےوالی کشیدگی کے تعلق سے سچائی کا جائزہ لینے کیلئے دورہ کیا،اس دوران بی جے پی کے ریاستی صدرنلین کمار کٹیل،کے ایس ایشورپا،بی وائی راگھویندرا،چنبسپا،رودرے گوڈا،ڈاکٹر سی ایس اشوتھ نارائن،ارگا گنیانیدرا،بھارتی شیٹی،این روی کماراور ڈی ایس ارون موجودتھے۔بی جے پی کے لیڈروں نے اُن تمام ہندوئوں کے گھروں کا معائنہ کیا،جن کے گھروں پرپتھرائوکئے جانے کا الزام لگایاگیاتھا۔باری باری سے تمام گھروں کا معائنہ کیاگیااور متاثرین سے وفد نے تبادلہ خیال کیا ۔اس جانچ کمیٹی کی آمدکو لیکر راگی گڈے کے متاثرین کو اُمیدتھی کہ ان کیلئے بی جے پی مالی تعائون جاری کریگی ،مگر بی جے پی کے لیڈروں نے اس تعلق سے زبان تک نہیں کھولی۔بی جے پی کے اس وفدکے دورے کے بعد اس علاقے کے لوگ ہی اس بات کارچرچہ کررہے ہیں کہ بی جے پی اس مدعے کو لیکر ووٹ بینک کی سیاست کرر ہی ہے نہ کہ بینکوں کے ذریعے سے متاثرین کی مدد کرنے کاکام کررہی ہے۔کئی لوگ اسی بات کا انتظار کررہے تھے کہ بی جے پی کے لیڈران ان کی مالی امداد کرینگے،مگر ایسانہ ہونے کی وجہ سے یہ تمام لوگ افسردہ ہیں۔ان لوگوں کے سامنے اگربی جے پی کے لیڈروں نے کہاہے تو جئے شری رام کے نعرے تھے ،اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملاہے،اس کے علاوہ بی جے پی کے لیڈروں نے ہندوتواکے تحفظ کے نام پر سوال کیاگیاتو اُس بھی خاموشی دکھائی۔حالات کا جائزہ لینے کیلئےجیسے ہی متاثرین کے ساتھ تبادلہ خیال شروع کیاگیاتو اس دوران بی جے پی نے جواب دینے کے بجائے نشست کو ہی برخواست کردیا۔اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئےبی جے پی کے ریاستی صدر نلین کمارکٹیل نے کہاکہ جب سے کانگریس حکومت اقتدارمیں آئی ہے،اس کے بعد سےریاست میں مسلسل اس طرح کے واقعات رونما ہورہے ہیں،ہندوئوں کو تحفظ نہیں مل رہاہے ، فسادیوں کو حکومت کی پشت پناہی مل رہی ہے ۔ جب راگی گڈے میں پتھرائو ہورہاتھا تو اس دوران ایس پی پر بھی پتھرائو ہواہوتو باقی عام لوگوں کا کیا حشر ہوگا۔راگی گڈے میں جان بوج کر گنیش کا تہوار منانےوالوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ، ماضی میں ٹیپوسلطان جینتی کے موقع پر اس طرح کے واقعات رونماہورہے تھے،لیکن اب میلادکے موقع پربھی ہندوئوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے ، اس تعلق سے جوڈیشیل انکوائری کی ضرورت ہے۔