70ہزار مسلمانوں کی آبادی،50سے زائد مساجد،مالداراوقافی ادارے; لیکن وقت پر ایک بھی مفت ایمبولنس نہیں

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔شیموگہ شہرمیں مسلمانوں کی آبادی70 ہزار سے زائد ہے، ان 70 ہزار مسلمانوں کیلئے 60سے زائدمساجدہیں،شیموگہ شہرمیں اوقافی اداروں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے،ان اوقافی اداروں کی سالانہ آمدنی لاکھوں روپیوں میں ہے۔ان سب کے باوجود شیموگہ میں ضرورت کے وقت غریب اور مستحق افرادکیلئے ایک عدد ایمبولنس نہیں ہے،جس سے غریب مریضوں کو مفت میں اسپتالوں کو پہنچانے کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔کچھ سال قبل شہرمیں دو مختلف اداروں کے ذریعے سے مفت ایمبولنس کی سہولت شروع کی گئی تھی ،لیکن ان ایمبولنس کےانتظامات کے اخراجات نہ ہونے کی وجہ سےان ایمبولنس کی خدمات روک دی گئی تھیں ، اس کے بعد اس سمت میں کسی بھی ادارے کی جانب سے پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔آج بھی کئی مریض ایمبولنس کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں اور بعض موقعوں پر ایمبولنس کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے موت کا شکارہوجاتے ہیں۔شہرمیں سینکڑوں کی تعدادمیں ایمبولنس موجودہیں،لیکن یہ تمام ایمبولنس ایک گروہ کی شکل میں کام کرنے کی وجہ سے لوگوں کا معقول داموں میں سہولت نہیں ملتی۔شہرکے اوقافی ادارے اور مسجدوں کےز یر اہتمام اس طرح کی سہولت شروع کی جاتی ہے تو یقیناً درجنوں مریضوں کو مفت یا معقول داموں میں ایمبولنس کی سہولت دی جاسکتی ہے،لیکن بیشتر ادارے صرف اور صرف اپنے اداروں کی آمدنی کو تعمیراتی کام پر خرچ کررہے ہیں۔ایسابھی نہیں ہے کہ مالداروں کی جانب سے یہ سہولت شروع نہیں کی جاسکتی،لیکن مالداروں کابڑا طبقہ بھی شیموگہ میں رہنے کے باوجود ایسے کاموں پر توجہ کم دی جاتی ہے۔آسان سی بات یہ ہے کہ ایمبولنس کی خریداری کیلئے ایک مشت رقم کی ضرورت پڑتی ہے،اس کے بعد سالانہ بجٹ کیلئے زکوٰۃ،صدقہ ،چندہ اور اداروں کی آمدنی کا استعمال کیا جاسکتاہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ شہرکے ذمہ داران اس سمت میں توجہ دیں اور مریضوں کی مددکیلئے آگے آئیں۔