شہیدنہ سہی شہیدوں کی شہادت دی

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ملک بھرمیں مسلمانوں کی بڑی بڑی جماعتیں،بڑےبڑے ادارے،بڑے بڑے عمائدین،بڑے بڑے علماء اور بڑے بڑے قائدین جہاں فلسطین ،حماس اور غزہ کا لفظ استعمال کرنے سےقبل سومرتبہ سوچ رہے ہیں،غزہ،فلسطین کے حق میں احتجاج تو دورایک مذمتی بیان دینے کیلئے بھی خوف کھارہے ہیں اور اس بات سے لرز رہے ہیں کہ وہ مودی،یوگی اور جانچ ایجنسیوں کے جال میں نہ آجائیں۔ملک کے ان نام نہاد قائدین اور تنظیموں کی جانب سے فلسطین کو لیکر جو دوہراموقوف اختیارکیاجارہاہے وہ عام مسلمانوں کیلئے تشویش کا باعث بنتاجارہاہے۔عام لوگ یہ سوال کررہے ہیں کہ آخر ملک کی مسلم نمائندہ تنظیمیں فلسطین کے معاملے میں احتجاج کی بات تو دور ایک میمورنڈم کے ذریعے سے حکومت کو اپنے موقف سے بآورکیوں نہیں کروارہے ہیں۔آخرملک کے مسلم نمائندے اس معاملے میں اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟۔ان تمام سوالات کے درمیان کرناٹک کے ایک چھوٹے سے شہربھٹکل کے غیورمسلمانوں نے فلسطین کیلئے جامِ شہادت تو نوش نہیں کیا البتہ وہاں شہیدہونےوالے شہداء کی شہادت ضرور دی ہے اور اس بات کا مظاہرہ کیاکہ قومِ مسلم اب بھی زندہ ہےاوروہ فلسطینیوں کے تعلق سے اپنے دلوں میں شدید غم رکھتے ہیں اور اسرائیل کی صیہونی حکومت کے خلاف اُن کاغصہ یقینی طورپر ہے۔بھٹکل میں جمعہ کے دن ایک احتجاج کیاگیاجس میں صدرِ ہند مکتوب روانہ کیاگیا،اس احتجاج میں ہزاروں کی تعدادمیں مسلمان شریک رہےاور اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ س لیکر فلسطین کے تئیں اپنی ہمدردی کا مظاہرہ کیااور اسرائیل کی شدید مذمت کی۔یہ ملک میں دوسرابڑا احتجاج ہے جس میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں نے پورے اہتمام اور منصوبہ بندی کے تحت فلسطین کے حق میں احتجاج کیاہے۔وہیں دوسری جانب قدآورعلماءآن لائن احتجاج کررہے ہیں اور بیت المقدس کی اہمیت پر گھنٹوں کی تقریریں کررہے ہیں اور ان تقریروں کو سننے والے محض علماء کے معتقدین ہیں۔اس کے علاوہ اور کہیں بھی احتجاج کی آواز سننے کو نہیں مل رہی ہے۔ظاہرسی بات ہے کہ جامِ شہادت نو ش کرنے کی تقریر کرنےوالے ،اللہ کی راہ میں نکلنےکیلئے ابھارنےوالےاورحق وناحق کےخلاف آواز بلندکرنے کی ترغیب دینےوالے آج میدانِ کار سے غائب ہوچکے ہیں۔بھٹکل کی عوام نے فلسطین کے تئیں اپنے درد کا جو مظاہرہ کیاہے وہ بھلے ہی انصاف کی لڑائی میں ادنیٰ سے عمل ہے،مگر انہوں نے جو پیش رفت کی ہے وہ تاریخی ماناجاسکتاہے،کیونکہ مسلمانوں کے درمیان جو تنظیمیں وادارے ہیں وہ اس بات کے منتظرہیں کہ حکومتیں انہیں احتجاج کی اجازت دیں،جب احتجاج کی اجازت کا پروانہ ان کے ہاتھوں میں ملنے لگے تووہ احتجاج کیلئے سفید پوش بن کر میدانوں میں دکھائی دینگے،لیکن یہ لوگ بھول چکے ہیں کہ احتجاج اجازت سے نہیں بلکہ مخالفت کے ذریعے سے کیاجاتاہےاور احتجاج کیلئے کوئی اجازت نہیں دیتابلکہ جلسے وجلسوں کیلئے اجازت لی جاتی ہے۔حق تو یہ ہے کہ آج کوئی مزاحمت اور مخالفت کیلئے تیارنہیں ہے،کیونکہ ان باتوں سے حکومتوں سے دشمنی مول لینی پڑتی ہے اور اس کا اثر سیدھے طورپر تنظیموں کے بینک کھاتوں،ذمہ داروں کی جائیداد ،آمدنی اور مال ودولت پرپڑیگا۔اس لئے کوئی نہیں چاہتاکہ حکومت سے دشمنی مول کر اپنے مال ودولت پر نشانہ لگائے۔جو لوگ صرف خداسے ڈرتے ہیں اور جن کی منزل واحدت،شجاعت اور شہادت ہوتی ہے وہ لوگ حکومتوں سے ڈرنےوالوں میں سے نہیں ہیں۔تاریخ میں جب بھی مسلمانوں پر حملے ہوئے اُس وقت دوسرے مسلمان مخالفت کیلئے اُٹھ کھڑے ہوئے،لیکن یہاں یہ بات ظاہرہورہی ہے کہ یاتو باقی دُنیاکے مسلمان فلسطینیوں کو مسلمان نہیں مانتےیاپھر خودکو مسلمان قرارنہیں دے رہے ہیں۔ہوناتویہ چاہیے تھاکہ ملک میں نعرے بازی وتشددکے احتجاج کے بجائے خاموشی کے ساتھ ہر علاقے سے مسلمان فلسطینیوں کے تحفظ کیلئے بھارت سرکار سے مطالبہ کرتے۔یہ بات اورہے کہ بھارت سرکار مسلمانوں کی بات مانے یا مانے لیکن یہ پیغام تو ضرور پہنچ سکتاتھاکہ مسلمان ایک جسم کی مانندہیں،وہ اپنے کسی بھی ملک کے مسلمان پر ہورہے ظلم کے خلاف آوازاُٹھاتے ہیں۔مسلمانوں کی یہی خاموشی آج دہلی پولیس کیلئے ہتھیاربن گئی اور انہوں نے مسجدوں میں فلسطینیوں،غزہ کے مسلمانوں کے حق میں دعائیں کرنے پر پابندی لگائی ہے۔وہ دن دورنہیں جب بھارت میں بھی مسلمانوں پر ہونےوالے ظلم پر اُٹھنےوالی آوازوں کو دبانے کیلئے دہلی پولیس کی طرح ہر ریاست کی پولیس عمل پیراہوگی۔سلامتی ہو بھٹکل کے اہلِ ایمان پر جنہوں نے فلسطین کے حق میں آواز اُٹھائی۔