ہبلی؛۔ثناء بی ایڈ کالج ہبلی میں بی ایڈ ڈگری سے فراغت ہونے والے طلباء کے لئے الوداعی جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس میں پروفیسر ایم.ایس. ملا ، ٹیپو شہید انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (پولی ٹیکنک) ہبلی کے ریٹائرڈ پرنسپل مہمان خصوصی تھے۔ تقریب کی صدارت ثنا ایجوکیشنل چارٹیبل ٹرسٹ کے ایکزکیٹیو ٹرسٹی محمد ایوب ساونور نے کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی پروفیسر ایم.ایس. ملا نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم محض ذریعہ معاش ہی نہیں ہے بلکہ انسانیت کے لئے ایک عظیم خدمت انجام دینے کا ذریعہ ہے۔ اور زندگی کا شعوری طورپر زندگی کے اصل مقصد کو انجام دینے کی اللہ کے طرف سے ایک نعمت ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ تعلیم کا اصل مقصد کردار، آداب، اور ذمہ دارانہ سماجی رویے کے لیے صحیح رویہ پیدا کرنا ہے۔ تعلیم ایک تبدیلی کا سفر ہے، جو افراد کو ایک ہم آہنگ اور اخلاقی کمیونٹی میں شراکت داروں کی شکل دیتا ہے۔ یہ کسی کو ایمانداری کے ساتھ زندگی میں گھومنے پھرنے کی طاقت دیتا ہے، ایک جامع ترقی کو فروغ دیتا ہے جو مالی فوائد سے بالاتر ہے۔ یہ ایک بامعنی وجود کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے، جہاں ذاتی ترقی سماجی بہبود کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ پروفیسر ملا نے فارغ ہونے والے طلباء کو مزید نصیحت کی کہ وہ ایک اہم ذمہ داری نبھاتے ہوئے مستقبل کے تدریسی پیشے کو محض نوکری کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ایک سنجیدہ ذمہ داری کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ان کا کردار کلاس روم سے آگے بڑھتا ہے۔ انہیں نوجوان ذہنوں کی تشکیل اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس فرض کو پورا کرنے کے لیے انہیں علم کی فراہمی اور آنے والی نسل کی فکری نشوونما کے ذریعے ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک ذمہ داری ہے جو انفرادی کیرئیر سے بالاتر ہے، جس معاشرے کی وہ خدمت کرتے ہیں اس کے اجتماعی مستقبل کو متاثر کرتی ہے۔انہوںنے مستقبل کے معلمین سے مزید فرمایاکہ جب آپ نوجوان ذہنوں کی تشکیل کے عظیم سفر کا آغاز کر رہے ہیں، یاد رکھیں کہ آپ کا اثر نصابی کتب سے کہیں زیادہ ہے۔ اپنے اندر ہمدردی، مہربانی اور لچک پیدا کریں، کیونکہ یہ صفات آپ کی اگلی نسل کی پرورش کا سب سے بڑا ذریعہ ہوں گی۔ الہام کی روشنی بنیں، سیکھنے کے لیے محبت پیدا کریں، اور طالب علم کی زندگی پر آپ کے اثرات کو کبھی کم نہ سمجھیں۔ خلیفہ ہارون رشید ،استاد ارسطو اور سکندر اعظم بادشاہ کے واقعات کے حوالوں سے طلباء کو استاد کی اہمیت کا پیغام دیا اور فرمایا کہ استاد کا پیشہ صرف اور صرف خوش نصیب لوگوں کو ملتا ہے ۔ چنانچہ اس اہمیت کو جانتے ہوئے اپنے ذمہ داری کو بخوبی انجام دیں۔ تقریب کی صدارت کرتے ہوئے محمد ایوب سونور نے فارغ ہونے والے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ کتابیں، رسالے اور اخبارات پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ اس سے نہ صرف ان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان کے علم میں اضافہ کرتا ۔ سیکھنا ایک مسلسل عمل ہے جو افراد کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ رہنے اور بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ رفتار برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنے اور حالات حاضرہ سے باخبر رہنے کے لیے یہ بے حد ضروری ہے۔ مطالعہ کی عادت کو فروغ دینا فکری نشوونما اور لسانی مہارت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جو زندگی بھر سیکھنے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔اور انہوںنے فرمایا کہ معلم کا پیشہ ایک بڑا ہی مقدس پیشہ ہے اور ہماری نبی اکرم ﷺ کو دنیا کے لئے معلم بناکر بھیجا گیا ہے۔ اور جناب محمد ایوب سونور صاحب نے فرمایا کہ استاد خود بادشاہ نہیں ہوتا بلکہ اپنے شاگردوں کو بادشاہ بناتاہے۔ ایکزیکیٹوٹرسٹی محمد طارق مجاہد خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اساتذہ قوم وملت کا سرمایااور ملک کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اساتذہ کو چاہئے کہ اپنی ذمہ داری کو بخوبی انجام دیں اس لئے کہ اساتذہ کے ہاتھوں بچوں کا مستقبل رہتا ہے۔ اور یہی بچوں کی صحیح تربیت ہوتو یہی بچے ملک کے لئے ایک اچھے شہری اور ملت کے لئے ایک عظیم تاریخ بن سکتے ہیں۔ تقریب کا آغاز کا تلاوت قرآن پاک سے ہوا پرنسپل ڈاکٹر R.S. پٹگی استقبالیہ کلمات پیش کئے ۔ اس تقریب میں گولڈمیڈل حاصل کرنے والے طالبات مس مرلن ہونگل اور مس تبسم قاضی کو تہنیت پیش کی گئی۔ ثنا شاہین کے لیکچرر شرمتی سونم پوارجنہوںنے کرناٹک یونیورسٹی، دھارواڑ سے ایم ایڈ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کے لیے اعزاز سے نوازا گیااور تہنیت پیش کی گئی۔ پروگرام میں اڈمنیسٹریٹر انجم خان ، پی یو کالج کے وائس پرنسپل ڈاکٹر عارفہ مکاندار، ثنا پبلک اسکول کے پرنسپل شازیہ سلطانہ شریک رہے۔ اور ثناکالج پورا اسٹاف اور طلباء نے شرکت فرمائی۔پروگرام کا اختتام ڈاکٹر ہونڈیکر کے تشکرانہ کلمات سے ہوا۔
