بنگلورو:(انقلاب نیوز):۔کرناٹکا حکومت کی جانب سے مختلف سرکاری محکموں میں تقرری کیلئے پچھلے دو سالوں سے عرضیاں طلب کی گئی تھیں،ان عرضیوں کے تحت مختلف محکموں کیلئے تقرری بھی ہوچکی ہے۔اگر اس تقرری کی فہرست پر سرسری نگاہیں ڈالی جائیں تو اس بات کااحساس ہوگاکہ مسلمان سرکاری ملازمتوں میں جانے سے صرف الرجی محسوس نہیں کررہے بلکہ سوقدم دور بھاگ رہے ہیں۔ حکومت کے مائناریٹی ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت آنے والے مرارجی دیسائی اسکول،مولانا ابوالکلام آزاد ماڈل اسکول،مارئناٹی ہاسٹلس،مائنارٹی گرس ہاسٹل،مائناریٹی بوائس ہاسٹل کیلئے سینکڑوں عہدوں کو پُر کیاگیاہے۔ان تمام عہدوں میں سوائے اردو ٹیچرس کے اور کسی عہدے کیلئے مسلمانوں کی تقرری ہوئی ہو وہ بات سامنے نہیں آئی ہے۔صرف مائنارٹی ڈیپارٹمنٹ ہی نہیں بلکہ فاریسٹ،آر ٹی او،کے پی ایس سی کے ایس ڈی سی،ایف ڈی سی ،گروپ اے،ڈاکٹر بی آر امبیڈکر ڈیولپمنٹ بورڈ،کارپوریشن ومیونسپل کائونسل میں ہیلتھ انسپکٹروں کی تقرری میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی نہ کہ برابر ہے۔اس سلسلے میں جانکاروں کا کہناہے کہ مسلمانوں کی جانب سے ہمیشہ یہ شکوہ رہاہے کہ انہیں سرکاری ملازمت نہیں دی جاتی اور تعصب کی بنیاد پر اُنہیں نوکریوں سے محروم رکھاجاتاہے۔لیکن اس وقت یہ دلیل سراسر جھوٹی ہے،کیونکہ ریاست میں تقررات میرٹ،سی ای ٹی،ٹی ای ٹی،این ای ٹی جیسے امتحانات کے ذریعے سے کئے جاتے ہیں اور ان امتحانات میں وہی نمبرات ظاہر ہوتے ہیں جو کچھ لکھاگیاہو،جوابی پرچوں کی جانچ کمپیوٹرائز سسٹم سے ہوتی ہے اور کمپیوٹر ذات ،مذہب ،زبان و شخصیت کونہیں دیکھتا۔دراصل مسلم نوجوان ان عہدوں کیلئے عرضیاں ہی نہیں دیتے اور جنگ لڑنے سےپہلے ہی شکست مان لیتے ہیں کہ انہیں نوکری نہیں ملے گی۔اس طرح سے ریاست میں مسلمانوں کی سرکاری ملازمتوں میں نمائندگی کی شرح روزبروز کم ہونے لگی ہے۔کرناٹکا پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے مختلف عہدوں کیلئے جو تقررات ہوئے ہیں،پچھلے دوسالوں میں تقریباً7 ہزار عہدوں کیلئے مختلف امتحانات لئے گئے ہیں،ان میں سے صرف 110 کے قریب ہی مسلم نوجوان کامیابی حاصل کئے ہوئے ہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ جب مسلم نوجوانوں کے پاس سرکاری نوکری حاصل کرنے کے ذرائع اور مواقعے ہیں تو ایسے میں وہ کیونکرسنجیدگی کے ساتھ ان نوکریوں کو حاصل کرنے کیلئے پیش رفت نہیں کررہے ہیں۔مسلمانوں کو پچھلے چالیس پچاس سالوں سے گلف ممالک میں روزگارکے مواقع تھے،لیکن اب وہاں پر بھی زمین تنگ ہوتی جارہی ہے۔ایسے میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دربدر بھٹکنے کے بجائے تین سال کی ڈگری کے بعد،ایک سال نوکری حاصل کرنے کیلئے پڑھائی کریں،ویسے بھی تین سال کی ڈگری کے بعدبھی والدین کو اپنے بچے چھوٹے بچے ہی دکھائی دیتے ہیں،اگر وہ بڑا بھی بن جائے تو وہ کماکر پالنے والوں میں سے نہیں ہوگا،بلکہ اپنے دوستوں کے ساتھ شوقیاں پورا کرنے والوں میں سے ہوگا۔اس لئے پہلے نوکری دلوانے کیلئے غورکیاجائے اس کے بعد اپنے بچوں کوآزادی دینے کے تعلق سے سوچیں۔
