از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
کچھ دن قبل ملک کے مختلف مقامات پربابائے تعلیم سرسیداحمدخان کی یوم پیدائش منائی گئی،بعض جگہوں پر ان کی یوم پیدائش کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی کے طورپر منایاگیاتو بعض جگہوں پر انہیں بابائے تعلیم کے نام سے یادکیاگیا۔سرسیداحمدخان مرحوم کی شخصیت بے مثال ہے اور آج کے اس دورمیں جو لوگ تعلیمی میدان میں خدمات انجام دینے کا جو دعویٰ کررہے ہیں،ان کیلئے یہ ایک نمونہ ہیں۔سرسیداحمد خان نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیادرکھنے کیلئے جو محنت،قربانیاں ،لوگوں کے طعنے،لوگوں کی بے مروتی،اپنوں کی دوری کا سامنا کرتے ہوئے اپنے آپ کو ملت اسلامیہ کو تعلیم سے آراستہ کرنےکیلئے جی جان لگا دی،جس کی وجہ سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی عمل میں آئی اوریہ یونیورسٹی آج تناوردرخت بن چکاہے۔جس طرح سے کسان اچھی فصل کیلئے زمین کو زرخیز کرنے سے لیکر بیج اگانےکیلئے تک دن رات محنت کرتاہے،اُسی طرز سے سرسیداحمد خان نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کوپروان چڑھانے کیلئے محنت کی ہے۔اب سرسیداحمدخان سے ہٹ کر آج کے دورکی بات کرتے ہیں۔کہنے کوتو آج بھی مسلمانوں کے کئی تعلیمی ادارے مسلمانوں کی تعلیم کیلئے کام کررہے ہیں،مسلمانوں کو تعلیم سےآراستہ کرنے کادعویٰ کررہے ہیں۔لیکن سرسیداحمد خان جیسی قربانیاں دینےوالے ایک بھی فرد آج کے معاشرے میں دکھائی نہیں دے رہاہے،شائد یہی وجہ ہے کہ آج مسلمانوں کے تعلیمی ادارے صر ف عالیشان عمارتوں تک محدودہوچکے ہیں نہ کہ تعلیم کے سرچشمے بن کر اُبھرے ہیں۔کچھ سال قبل تک دینی مدارس کے نام پر کچھ جھوٹے لوگ قومِ مسلم کا مال،مالِ غنیمت سمجھ کر اینٹھتے رہے،اب باری عصری تعلیم اداروں کی ہے جو مسلمانوں کو ڈاکٹر،انجینئر بنانے کے خواب دکھا کر لوٹ رہے ہیں۔ایسی بات نہیں ہے کہ ان اداروں کو قائم کرنےوالے لوگ سرسیداحمد خان کی طرح مجبور لوگ ہیں ،بلکہ یہ لوگ آج کے دورکے مالدارہیں اور ان مالداروں کے پاس اس قدرمال ہے کہ وہ چاہیں تو برسوں تک بچوں کو مفت تعلیم دے سکتے ہیں۔کہاوت ہے کہ” مالِ مفت بے رحم”اس کہاوت کے مصداق ہی آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ جو تعلیمی میدان سے جڑاہواہے،وہ طبقہ صرف دوسروں سے مددکی اُمید رکھتاہے،جبکہ طلباء سے بھی یہ لوگ فیس برابرکی وصول کرتے ہیں۔اگر واقعی میں قومِ مسلم کو تعلیم سے آراستہ کرناہے،مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں آگے لاناہے،اس کیلئے قربانیاں تو دینی ہونگی،لیکن ان قربانیوں کیلئے دوسروں کوبلاوجہ قربان کرنا انسانیت نہیں ہے۔انگریزی کا ایک محاورہ ہےکہ Charity begins at Homeیعنی خیر کاکام اپنےگھر سے شروع ہو۔سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو قربان کرناپڑتاہے،پھر اس کے بعد دوسروں سے مددمانگنی پڑتی ہے۔اگرکوئی یہ کہتاہے کہ لکھنےوالاکیاقربانی دے چکاہے تو یہ بتادیں کہ اسی لکھنےاور کہنے کے چکرمیں لکھنےوالےاپنی زندگی کا بڑاسرمایہ خرچ کرچکاہےا ور اب بھی مقروض ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی بھی کام کو انجام دیتے وقت اخلاص کا ہوناضروری ہے،جب اخلاص انسان میں آجائے تو خیرکاکام خودبخود آگے بڑھنے لگتاہے۔سماج میں مالداروں کا ایک طبقہ ایسابھی ہے جو قومِ مسلم کیلئے اپنے مال کو خرچ کررہاہے،ان کا مقصد ریاکاری نہیں ہوتابلکہ ان کامقصدقوم کو فائدہ پہنچاناہوتاہے۔ان لوگوں کے اخلاص کاصحیح فائدہ اٹھاکران کی امدادکو سہی سمت میں خرچ کرنا بھی اس دورمیں ایک طرح سے مجاہدہ ہے،لیکن اکثرلوگ مالِ مفت بے رحم کی طرح اس مال کو ہڑپنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر ایساہی رہاتو آنےوالے دنوں میں لوگ کسی کی مددکرنے سے گریزکرینگےاورجو لوگ حقیقت میں کام کررہے ہیں اُن کی مددکرناچھوڑ دینگے۔
