داونگیرے:۔ ملک کی عوام کے رجحان میں روز بروز تبدیلی پیدا ہورہی عوام مرکز میں بھاچپا کواقتدار سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں ،پچھلے دس سالوں سے مرکز میں برسرِ اقتدار بی جے پی حکومت نے عوام کو وعدوں کے سواء کچھ نہیں دیا ،اگر دیا بھی ہے تو وہ صرف اپنے چند دوستوں کو جن کا نام راہل گاندھی کے ذریعہ لینے پر بھی بی جے پی وبال مچاتی نطر آتی دیکھائی دیتی ہے اور راہل گاندھی ہیں کہ وہ اپنی ہر تقریر میں وزیر اعظم کے اُن دوستوں کا نام لینے سے گریز نہیں کررہے،وزیر اعظم نے اپنے چند دوستوں کو 16 لاکھ کروڑ روپیئے دئے مگر کبھی ملک کے کسانوں کی پریشانیان اُنہیں نظر نہیں آئی۔اِن خیالات کا اظہار شہر کے باپوجی آڈیٹوریم میں ریاست کے استحصال ذدہ افراد اور بچھڑے و پسماندہ طبقات کی تنظیم کی جانب سے منعقد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئرکانگریس لیڈر سید سیف اُللہ نےکیاہے۔اس اجلاس میں کرناٹکا شوشیتہ سمودایا گلا مہا وکوٹا کے ریاستی صدر رامچندرپا ،اڈوکیٹ اننت نائیک ،ماولی شنکر ،شریک رہے،سید سیف اُللہ نے مزید کہا کہ مرکز کی بی جےپی حکومت نے اقلیتی،پسماندہ ،واستحصال زدہ اقوام کےطلباء و طالبات کی تعلیمی اسکالرشپ کو ختم کیا۔! کیا مطلب کیا ملک کی ایک بڑی آبادی تعلیم سے محروم رہے اور اگر ایک بڑی آبادی تعلیم سے محروم رہی تو ملک کیسے ترقی کرے گا کیا نریندر مودی کو ملک کی ترقی پسند نہیں ، اقلیت و استحصال زدہ و بچھڑے طبقات کوحکومت کی تمام سہولتوں محروم جو کیا گیا کیا ایک جمہوری حکومت کا یہ شیوہ نہیں ہونا چاہیئے کہ جمہوری طرز پر منتخب وزیر اعلیٰ کو سلاخوں پیچھے ڈال کر من مانی کرے یہ ہٹلر طرز اور اس ملک میں کوئی ہٹلر طرز کو پسند نہیں کرتا ،کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم کے اس ہٹلر طرز سے خود اُن کی پارٹی بی جے پی میں بھی اندورنی طور پر ناراضگی پایا جاتی ہے مگر ای ڈی اور آئی ٹی کا ایسا خوف ہے کہ زبان بند ہ ہے، ہو نا تو یہ چاہیئے کہ ملک کی تمام عوام کو ساتھ لے کر چلے،مگر بی جے پی ایسا کرنے تیار نہیں وہ پھوٹ ڈالو حکومت کرو کی پالیسی پر ہی چل رہی ہے،یہی وجہ ہے آج تما م طبقات نے بھی اپنا ذہین بنا لیا ہے کہ ہر حال میں مرکز میں بی جے پی حکومت نہ بنے ،ملک میں بسنے والے اقلیت پسماندہ و بچھڑےو استحصال زدہ طبقات کا مرکز کی بی جے پی حکومت نے کیا کبھی کوئی وکاس کیا صرٖ ف زبانی جمع خرچ سے کام لےکر ذات پات کے نام پر نفرت کی دیوار کھڑی کرنے کا کام کیا ،اور 2024 ء عام پالیمانی الیکشن میں جب دیکھا کہ کہ پیرون تلے اقتدار کی زمین کھسکتی دیکھائی تو مسلمانون کے خلاف جس ڈھنگ سے خود وزیر اعظم نے جو زہر اگلا کیا اس منصب پر فائز فرد کی زبان سے ایسے الفاظ شیوہ دیتے ہیں ،کیا ایساء آدمی اُ س منصب کے لئے اہل ہوسکتا ہے ،ایسے فرد کو اس منصب پر بٹھانے سے کیا عالمی پیمانے پر ملک کی شبیہ خراب نہیں ہوگی یہی وہ باتین ہیں ،جن کی بنیاد پر ملک کی عوام میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، لاکھ کوشش کے باوجود بی جے اور اس کا اتحاد اس مرتبہ 200 پار نہیں کرسکے گا ،داونگیرے حلقہ پارلیمان سے ایک باصلاحیت خاتون ڈاکٹر پربھا ملیکارجن کانگریس پارٹی سے اُمیدوار ہے جو ایک عرصہ سے لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے ضلع کی عوام میں مقبول عام ہے،یہی وجہ ہے کانگریس نے اپنے پارٹی سروئے رپورٹ کی بنیاد پر اُنہیں اُمیدوار بنایا جبکہ کبھی بھی پربھا ملیکارجن نے خود کواُمیدواری کا دعوٰی نہیں کیا پربھا ملیکارجن کے اُمیدورا بننے سے کارکنوں کے جوش میں اضافہ ہوا یہی وجہ ہے ہر ایک کارکن اپنے طور پر انتخابی مہم کا حصہ بنا ہوا ہے ،ضلع میں موجود تمام طبقات ازخود پربھا ملیکا رجن کو اپنی تائید کا اعلان کرتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں ،داونگیرے پارلیمان سےکانگریس پارٹی اُمیدوار ڈاکٹر پربھا ملیکارجن کی کامیابی یقینی ہے۔
