تحریکِ آزاد ی ہند میں علمائے کرام کی قربانیاں

مضامین
از۔ڈاکٹر محمد نصراللہ خان۔9845916982
یہ ہیں وہ سورما وہ مجاہد ہیں
یہ فیض سے جن کے یہ ملک آزاد ہے 
ان کو ہم بھول جائیں یہ زیبا نہیں
یہ وطن ان کے احساس سے آباد ہے 
قوموں کی تاریخ میں غلامی اور آزادی کی مثالیں ان گنت ملیں گی۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ زر ، زیور ،شہرت ، عزت ، ، سرمایہ ، دولت ، زمین ،علاقہ ، کھیت ، باغ ، گھر ، دار ، یا حکومت میں توسیع و ترقی چاہتا ہے۔ اگر یہ ترقی نیک نیتی و رضائے الٰہی کے لئے ہو تو چلو اس کو ہم جائز مان لیں۔ لیکن دشمنی اور لالچ سے یہ سب کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ اس طرح کی بدنیتی نے انسان کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ ہندوستان صدیوں سے اپنی ذرخیزیت کے لئے دنیا بھر میں مشہور رہا ہے ۔ اس لئے یہاں پر بیرونی علاقوں ، خطوں، ممالک وبرِ اعظموںسے لوگ آنے لگے ، تجارت کرنے لگے ، یہاںسے پیسہ مال و دولت اپنے ممالک کو لے جانے لگے ۔پہلے کوئی ملکوں کی سرحدیں نہیں ہوتی تھی ۔ اس طرح ہند میں قریب گیارہ سو سال قبل مسلمانوں کی آمد ہوئی ۔مسلمان آتے رہے ، تجارتیں کرتے رہے پھر بعد میں اسی سر زمین کو مسلمانوں نے اپنا مسکن بنالیا ۔ قریب ساڑھے آٹھ سو سال مسلمانوں نے یہاں پر حکومتیں کی جن میں ، غوری ،سید ، لودحھی ۔ایبک ،خلجی، سلطنت غلاماں، تغلق،مغل،بہمنی ، قطب شاہی ، عادل شاہی ، اماد شاہی ، برید شاہی ،نظام شاہی ، عثمانیہ،سلطنت خداداد وغیرہ خاندان و سلطنیں یہان پر بے مثال ھکومتین کی۔ اس کے علاوہ درجنوں نوابوں، راجائوں نے چھوڑی بڑی مسلم سلطنیں قائم کرکے حکومتیں کیں۔
  سترویںصدی کے آس پاس یورپ سے کئی قومیں جن میں پرتگال ،ڈچ ، فرنچ اور برطانیہ سے انگریزوںکی آمد ہونے لگی ۔ ویسے بھی دنیا جہاں میں بھی اکثر خطوں میں انہوں نے جنگ وجدل کے ذریعے ،حکومتوں پر قبضہ کیا ۔ اکثر ہندوستان کے علاقوں پر مسلمانوں کی حکو متیں تھیں ۔ ایک اندازے کے مطابق قریب ستر فیصد ہندوستان کی سر زمین پر مسلم حکمرانوں کی حکومت رہی ۔ انگریزوں نے اکثر حکومتیں مسلمانوں سے چھینی تھیں۔ جیسے مغلیہ ، نواب سراج الدولہ کی سلطنت ، ٹیپو سلطان سے سلطنت خداداد، اس طرح چھوٹی بڑی ہر ریاست و علاقے پر مسلمانوں سے چھین کر انگریزوں نے حکومت بنائی ۔ ظاہر بات ہے جس کی سلطنت چھینی گئی مزاحمت بھی تو وہی کریگا۔ بالکل اسی طرح جہاں بھی زوردار مزاحمتیں انگریزوں کے خلاف ہوئی وہ مسلمانوں سے تھیں ۔ لیکن انگریزوں نے بڑی شاطر دماغی سے پڑوسی ریاستوں کو اپنے پاس لے لیا پھر انہیں تن تنہا کرکے حکومتیں ہڑپنے کا آغاز کیا اور اس میں وہ بہت کامیاب ہوتے گئے۔ کہیں میر جعفر تو کہیں میر صادق ملتے رہے اور انگریزوں کا کام آسان ہوتا گیا۔
جب انگریز پوری طرح ملک پر قابض ہوگئے تو بادشاہوں ، نوابوں اور راجائوں کا دور ختم ہوگیا ۔ مسلمان بے یار و مددگار ہوگئے ۔اس کسمپرسی کے عالم میں تحریک آزادی کی کمان جنہوں نے سنبھالی وہ کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے علمائے کرام تھے۔ ایک قابل غور بات یہ ہے کہ اس وقت علماء مسلکوں میں نہیں بٹے تھے۔صرف مسلم علماء تھے۔(انگریز اپنی شاطرو عیاری سے مسلمانوںمیں مسلکوں کا بیج بودیا جس کا اثر تب نہیں ہوا مگرآج ہورہا ہے)  انگریز مسلم قوم کو اپنے راستے کا کانٹا سمجھ رہے تھے ۔اور اس قوم کی پکڑ علماء کے ہاتھوں میں تھی ۔ اس لئے انگریز علمائے کرام پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے ، جیلو ںمیںڈالا ، لاٹھی ، ڈنڈا کے زور پر گولی و سولی کے زور پر ازیتیں دی۔ ملک بدر کیا ۔گولیاں چلائی ، اکثر شمالی ہند کے علاقے جیسے دہلی  ویوپی، بہار ،لاہور وغیرہ کے اکثر مقامات پر علماء کو سر عام پھانسیاںدیکر جھاڑوں پر لٹکایا گیا۔ بادشاہوں اور نوابوں کو انہوں نے ٹھکانے لگادی ۔ لیکن اب سیاسی سماجی قیادت ہمارے علمائے کرام نے سنبھالی۔ مسجدوں، مدرسوں ، خانقاہوں سے اپنا مشن آازادی کا آغاز کیا ۔ ایسی عظیم قربانیاں پیش کی کہ دنیا جس کی نہیں مثال دے سکتی ۔ علماء نے اپنے واعظموں ، تقریر ، تحریر ،ترسیل ہر طرح سے جذبئہ آزادی کو ابھارا ، جہاد کا اعلان کردیا ۔ دنیا کی تاریخ میں کسی مذہبی رہنمائوں کی اتنی عظیم قربانیاں شاید ہی ملتی ہوں گی ۔علماء نے جان، مال ، اولاد ، املاک غرض کہ ساری زندگیاںختم کرلئے لیکن جذبئہ آزادی کو نہیں چھوڑے۔بس پیغام یہی تھا کہ
میں نے تو تن بدن کا لہو نذر کردیا
اے شہرِ یار تو بھی تو اپنا حساب دے
ہمارے علماء اس وقت اکثر عالم ، فاضل مفتی ،محدث ، مقرر، مدبر ، مدرس ، مفکر ، مجاہد تو تھے ہی ساتھ ہی اکثر ان میں میدان صحافت کے شہشوار بھی تھے۔یا صحافت ایک پُل صراط ہے اب اس پر چل کر دکھانا ہی صحافیوں کا کام ہے ۔یہ ایسا میدانِ کار زار ہے ۔جس میں غوطل لگانے کی ہمت ہمارے علمائے کرام نے کیا ۔ ویسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ساحل کے تماشائی کو سمندر اور طوفانوں سے در پیش مسائل کا کیا اندازہ ہوگا۔کسی بھی ملک یا علاقے کی صحافت وہاں کا حافطہ ہوتی ہے وہاں کی تاریخ ہوتی ہے۔ تہذیب کا جیتا جاگتا ثبوت ہم صحافت سے دیکھ سکتے ہیں۔یقینا ہمارے علماء نے اپنی صحافت اور اپنی جد وجہد آزادی سے تاریخ رقم کی ہے۔علمائے کرام نے آزادی کا جذبہ ابھارا اور انگریزوں کو اتنا تنگ کردیا کہ وہ کبھی اخبار بند کرتے تو کبھی انہیں جیل میں ڈالتے کبھی پھانسی پر لٹکا د یتے ۔
  مولانا شاہ محد دہلوی کو انگریزوں نے بہت ساری ازیتیں دی انہیں زہر دیا گیا ان کی بینائی جاتی رہی ،شہر دہلی سے بدر کردیا گیا ،ان کے دو شاگرد ایک تھے مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی دوسرے مولانا اسماعیل انہوں نے ملک سا را گھوم کر آزادی کا جذبہ ابھا را اور انگریزوں کے خلاف جہاد کیلئے عوام کو ابھارا ۔۱۸۶۶  میں دارالعلوم دیو بند کا آغاز ہوا ۔ یہ یہی انجمن ہے جس کی ہراینٹ  ہرریزہ  اور ہر ذرہ آزادی کی عذیم تحریک اور بے مثال قربانوں کا گواہ ہے ۔  اس ضمن میںمولانا محمود حسن شیخ الہند نے جو کام کیا  اس سے متعلق خود انگریز کہتے تھے اگر شیخ الہند کو جلا کر راکھ کردیں تو اس راکھ سے بھی انگریز دشمنی کی بو آئے گی۔ریشمی رومال کی تحریک نے انگریزوں کی ناک میں دم کر دیا ۔ خود انگریزاس تحریک کو سمجھ نہیں پائے وہ سمجھ رہے تھے مولانا عبید اللہ سندھی اس تحریک کے پیچھے ہیں جبکہ یہ مولانا شیخ الہند کا دماغ تھا۔ اس کے لئے سندھی صاحب کو جیل بھی جانا پڑا ۔شیخ الہند آگے چل کر دارولعلوم دیو بند کے بڑے استاد بنے اور اپنی شاگردوں کی ایک ایسی جماعت تیار کی جنہوں ملک کے چپہ چپہ پرجذبئہ آزادی کو پھیلا دیا ۔ پھر انہیں گرفتار کر کے مالٹا جیل بھیج دیا گیا ۔ پھر جمعتہ العلماء الہند کو مشورہ دیکر کانگریس کا ساتھ دیکر آزادی کی جد و جہد جاری رکھنے کا مشورہ دیا ۔ شیخ الہند کی وفات کے بعد ان کے شاگرد اور مالٹا جیل کے ساتھی مولانا مفتی احمد مدنی اور مولانا مفتی کفایت اللہ نے یہ کام جاری رکھا ۔
  تحریک آزادی میں شامل علمائے کرام میں کے مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی، مولانا عبدالقادر دہلوی،مولانا شاہ عبالعزیزدہلوی، مولانا شاہر فیع الدین دہلوی، مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی ،مولاناشاہ اسحاق دہلوی،مولاناعبدالحسن تھانوی،مولانا شاہ اسماعیل شہید،مولانا ولایت عظیم آبادی،مولانا جعفر تھانیسوری،مولانا عبداللہ صادق پوری ،مولانا نذیر حسین دہلوی،مولانا نذیر حسین ، مولانا دمفتی صدرالدین آزردہ، مولانا مفتی عنایت اللہ کاکوری، مولانا فریدالدین شہید دہلوی، مولانا سید الطاف حاجی امداد اللہ مہاجر مکی،مولانا قاسم نانوتوی، مولانا شہید گنگوہی، مولانا قاضی عنایت اللہ تھانوی،حافظ ضامن شہید مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا فضل حق خیر آبادی، مولانا عبد الرحیم تھانوی، مولانا رضی اللہ بریلوی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا احمد اللہمدراسی،مولانا محمود حسن دیوبندی،  مولانا عبدالرحیم رائے پوری،محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی( ملک کو انقلاب زندہ باد کا نعرہ دینے والے)، مولانا شوکت علی رام پوری، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا برکت اللہ بھوپالی، مولانا سیف اللہ کابلی، مولانا وحید احمد فیض آبادی ، مولانا محمد میاں انصاری ،  مولانا عزیز گل پشاوری ، مولانا حکیم نصرت حسین فتح پوری ، مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، مولانا ابو المحاسن سجاد پٹواری ، مولانا  حفیظ الرحمن ، مولانا محمد میاں دہلوی ، مولانا عبد الحلیم صدیقی ، مولانا نو الدین بہاری ،  مولانا محمد میاں حبیب الرحمن ، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا احمد علی لاہوری ،سیف الرحمان کابلی وغیرہ ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں ہمارے علمائے کرام نے اس تحریک کو جلابخشی اور ملک کی آزادی میں بحیثیت ایک طبقہ سب سے بڑی قربانیاں پیش کئے۔آج لوگ اکثر ان کے نام بھلاتے جا رہے ہیں ۔ حقیقی معنوں میں وطن کے رکھوالے یا وطن پر مر مٹنے والے یہی علمائے دین تھے۔ یہ علماے کرام کی جلائی ہوئی مشعلیں تھیں کہ آزادی کا جذبہ ور دور تک پھیل گیا ۔
اردو کا پہلا اخبار ــ ۱۸۲۳؁ء  میںکلکتہ سے محمد حسین آزاد کے والد محترم محمد باقر صاحب نے نکالا تھا جس کا نام ــ’’ جام جہاں نما‘‘تھا۔ آپ کو انگریزوں نے موت کی سزا دی ۔ مولانا حسرت موہانی جنہوں نے انگریزوں کے خلاف ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ دیا اور وہ نعرہ ہندوستان کے چپہ چپہ میں مشہور ہوکر اسطرح پھیلا کہ جس کی صدائیں آج بھی سنی اور محسوس جاسکتی ہیں۔مولانا ابو الکلام آزاد کے دواخبار’’الہلال‘‘ او ردوسرا ’’البلاغ ‘‘پر انگریزوں نے پابندی لگادی کیونکہ یہ اخبارات ان کی حکومت کے لئے درد سر بن گئے تھے۔ اس طرح ہمارے علمائوںنے سینکڑوں کی تعداد میں اخبار نکالے جس سے انگریزوں کیلئے اپنی حکومت بچانا مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تحریک آزادی میںسب سے زیادہ قربانیاں ہمارے علمائے کرام کی ر ہیں ۔ان علماء میں بہت سارے میدانِ صحافت کے بھی شہسوار تھے ۔ علماء اپنا یا اپنی تنظیم کا اخبار چلاتے جس کی وجہ سے عوام میںآزادی کی ایک تحریک جنم لینے لگی۔اسطرح علماء کا طبقہ انگریزوں کی ناک میں دم کرچکاتھا۔ اسلئے کہ ایک تو علماء جن کا اچھا اثر عام مسلمانوں پر ہوتا ہے دوسرا صحافی جن کی ایک ایک بات ایک ایک جملہ انگریزوں کی جابر و ظالم حکومت کی دیوار میں آخری کیل ثابت ہو رہا تھا۔ اس لئے انگریزوں نے سب سے زیادہ ظلم انہیں پر ڈھایا۔ بیشمار علماء کو پھانسی دی گئی اور بے حساب علماء کو دار ورسن میںبند کیا گیا ۔ کالہ پانی کے نام پر کئی علمائے کرام کو دور دراز علاقوں میں بھیجا گیا۔ہر طرح سے سزائیں دی گئیںلیکن وہ سینے جن کے اندرقرآن کا علم اور حضور صلی علیہ و صلعم کی سچی و پکی محبت تھی کبھی بھی اپنے عزائم وارادوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔’حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘ کہ مصداق بنفس ِنفیس ِسارے مصائب و سزائوں کو برداشت کیا اور خوشی خوشی جانوں کی قربانیاں بھی دی۔
اس بزم جنوں کے دیوانے ہر راہ سے پہنچے یزداں تک 
ہیں عام ہمارے افسانے دیوار چمن سے زنداں تک 
  لیکن تقسیم ہند نے ان کی اتنی عظیم قربانونیوں کو نقصان پہنچایا۔ حقیقی معنوں میںتقسیم ہند ایک بڑی غلطی تھی ۔اس لئے کہ ہماری زیادہ تر نشانیاں دہلی سے وابستہ ہیں۔لو گ تقسیم کے بعد ایسے مگن ہوگئے کہ انہیں سب کچھ حاصل ہوگیا آج ان ممالک کو دیکھ سکتے ہیں کیا حالات ہیں وہاں کہ ۔فیض نے صحیح کہا تھا کہ
یہ داغ داغ اجالہ یہ شب گزیدہ سحر
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کے مل جائے گی کہیں نہ کہیں
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی