از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔9902672038

بچپن کی سنہری یادیں زندگی کا وہ حسین خزانہ ہیں جن کی چمک عمر کے ہر دور میں دل کو منور رکھتی ہے۔ وہ دن جب دل میں نہ کوئی خوف تھا، نہ کسی غم کا سایہ۔ مٹی کے کھلونوں میں خوشی کا جہاں بسا تھا، بارش کے قطروں میں قہقہوں کی گونج تھی، اور صحن میں کھیلتے وقت ماں کی آواز میں بلانے کی مٹھاس الگ ہی لطف دیتی تھی۔ اسکول جاتے وقت بستے سے زیادہ خوابوں کا بوجھ تھا، اور چھٹی کی گھنٹی گویا جشنِ آزادی کی صدا لگتی تھی۔ شام ڈھلے گلیوں میں دوستوں کے ساتھ کھیلنے کا وہ بیفکری بھرا عالم، چاندنی راتوں میں دادی کے قصے، اور ماں کے ہاتھ کی خوشبودار روٹی،یہ سب لمحے دل کے کسی نرم گوشے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں۔ وقت کی دوڑ نے بچپن کو ہم سے چھین تو لیا، مگر اس کی خوشبو اب بھی دل کے آنگن میں بسی ہوئی ہے۔ جب کبھی زندگی کے بوجھ سے دل تھکنے لگتا ہے، تو انہی یادوں کا در کھلتا ہے۔ جہاں معصومیت، محبت اور خلوص اپنی پوری چمک کے ساتھ جگمگاتے نظر آتے ہیں۔ بچپن، دراصل زندگی کا وہ مقدس باب ہے جو وقت تو لے جاتا ہے، مگر اس کی مٹھاس کبھی نہیں مٹتی۔
آج ایک بار پھر دل نے بچپن کی یادوں کے در وا کیے اور تیسری جماعت کے میرے غیر مسلم ہم جماعت بَسپا کی یاد شدت سے جاگ اٹھی۔ ہماری قصاب محلہ اولڈ ہبلی میں واقع گورنمنٹ اردو اسکول میں وہی واحد غیر مسلم طالب علم تھا، جو نہایت خاموش، سنجیدہ اور اپنی پڑھائی میں مگن رہتا۔ وہ ہمیشہ سب سے الگ تھلگ ایک کونے میں بیٹھا نظر آتا۔ اسکول کی گھنٹی بجتے ہی کتابیں سمیٹ کر سیدھا گھر چلا جاتا۔ ہم سب بچوں کی طرح میں نے بھی کبھی اس سے گہری بات نہ کی، نہ ہی کھیل کود میں شریک کیا۔ شاید یہی بیرخی اور تنہائی اس کے دل پر گراں گزری ہو کہ تیسری جماعت کے بعد وہ کبھی اسکول لوٹ کر نہ آیا۔
آج جب اس کی یاد دل کے دریچوں پر دستک دیتی ہے، تو ضمیر کی خلش اور پشیمانی دل کو گھیر لیتی ہے۔ سوچتا ہوں، اگر اُس وقت میں نے ذرا سا حوصلہ کیا ہوتا، آگے بڑھ کر دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہوتا، تو شاید اُس کے تعلیمی سفر کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ مگر افسوس! کم سنی میں شعور کہاں ساتھ دیتا ہے — دل کھیل کود میں مگن ہوتا ہے، احساسات ابھی بالغ نہیں ہوتے۔آج پھر برسوں بعد وہ بچپن کا گمشدہ ساتھی یاد آیا، اگر اساتذہ اُس وقت ذرا سا التفات فرما لیتے، اُس کے والدین سے مل کر نرمی و محبت سے اُس کے اسکول چھوڑنے کی وجہ دریافت کر لیتے، اُن کے دلوں میں تعلیم کی روشنی کے چراغ پھر سے جلا دیتے، تو شاید آج کہانی کچھ اور ہوتی۔ یا یہ بھی ممکن ہوکہ اساتذہ نے اپنی بھرپور کوشش کی ہوگی لیکن بات نہیں بنی۔
بسپا، وہ معصوم غیر مسلم ہم جماعت، جو اپنی خاموش مسکراہٹ میں دوستی کا پیغام لیے ہمارے درمیان بیٹھتا تھا، ہماری تعلیمی قافلے کا ایک تابناک ہم سفر بن جاتا۔
وہ آج بھی ہمارے ساتھ ہوتا ، علم و محبت کے اس کارواں میں ایک ایسی علامت کے طور پر، جو مذہب و ملت کی دیواروں سے ماورا ہو کر قومی یکجہتی کا مینار بن کر کھڑا رہتا۔
افسوس، وقت کے اُس موڑ پر ایک خاموشی نے ایک خواب چھین لیا ۔ میری سوچوں کا کارواں جب بھی بچپن کی گلیوں میں بھٹکتا ہے تو ایک چہرہ بار بار سامنے آ جاتا ہے ، بسپا کا۔ آج بھی اس کا معصوم چہرہ، اس کی جھجک بھری مسکراہٹ، اور وہ معصوم آنکھیں دل کے آئینے پر جیسے نقش ہیں۔ وقت کے دریا نے ہمیں دور بہا دیا، مگر میری سوچیں اس کنارے پر جا ٹھہرتی ہیں جہاں بسپا نے اپنی تعلیمی کشتی چھوڑ دی تھی۔
میں اکثر اپنے تصور کی دنیا میں اُسے دیکھتا ہوں۔ ایک بوڑھا بسپا، جس کے بالوں میں برف کی چاندنی اتر آئی ہے، اپنے نواسوں، نواسیوں، پوتوں اور پوتیوں کے درمیان بیٹھا ہوا ہے۔ بچوں کے قہقہوں میں وہ مسکراتا ہے، مگر کبھی کبھار اس کی آنکھوں میں ایک خاموش اداسی تیرنے لگتی ہے،شاید تیسری جماعت کے اُس دن کی یاد میں، جب اس نے اسکول کی دہلیز ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی تھی۔ شاید وہ بھی کبھی سوچتا ہوگا کہ اگر قسمت کچھ اور لکھتی تو وہ اردو کے الفاظ کے رنگوں سے اپنے خوابوں کو سجاتا، اس زبان کو گلے لگاتا جس سے اس کا دل محبت کرتا تھا۔ مگر اس وقت وہ کتنا اکیلا محسوس کرتا ہوگا، سب کے درمیان ہو کر بھی، ایک اجنبی سا ۔ شاید کلاس روم کی گھٹن بھری فضا، وہ اجنبی نظریں، وہ خاموش فاصلہ ، سب نے اسے تھکا دیا تھا۔ اور اس نے سمجھ لیا کہ باہر کی کھلی ہوا ہی اس کے لیے بہتر ہے۔ مگر کون جانے، اس کے دل کے کسی کونے میں آج بھی وہ حسرت زندہ ہو،کاش میں اردو کے حروف کے ساتھ اپنی کہانی لکھ پاتا۔مجھے کبھی کبھی یہ وہم سا ہوتا ہے کہ اچانک بسپا میرے سامنے آ کھڑا ہو، جیسے وقت کی گرد ہٹ جائے اور وہی تیسری جماعت کا معصوم چہرہ میری آنکھوں کے سامنے زندہ ہو اُٹھے۔ میں بے اختیار ہو کر اُسے گلے سے لگا لوں، اتنی شدت سے کہ برسوں کے فاصلے، برسوں کی خاموشیاں، اور دل کی وہ ساری گِلے شکوے میرے آنسوؤں کے ساتھ پگھل جائیں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ میری دھڑکنوں کی تپش میں محسوس کرے کہ ہم نے اُسے کبھی بھلایا نہیں، بس وقت نے ہمارے دلوں کے بیچ دیواریں کھڑی کر دی تھیں۔
کاش وہ لمحہ آ جائے جب میری باہوں کی گرمی اُس کے دل کے زخموں کو بھر دے، اور وہ، وہ سب بھول جائے، وہ دن، وہ احساس کہ ہم نے اُسے اپنا نہیں سمجھا۔
میں چاہتا ہوں کہ وہ میری آنکھوں میں دیکھے اور جانے کہ ہمارے بچپن کی معصوم دنیا میں کوئی غیر نہ تھا، صرف دوست تھے، صرف ہم تھے، اور اُس کے بنا وہ دنیا ادھوری تھی۔
کاش اُس لمحے میرے آنسو اُس کی روح کو چھو جائیں، جیسے پچھتاوے کی نمی زمین میں اُتر کر صلح کے پھول اگا دے۔ میں چاہتا ہوں کہ بسپا ہنس دے، وہی بچپن والی معصوم ہنسی تاکہ میری عمر بھر کی خلش کو سکون ملے، اور میرے دل کے بوجھ ہلکے ہو جائیں۔ شاید تب میں کہہ سکوں،’’بسپا، ہمیں معاف کر دو۔ہم تمہارے دوست تھے ،مگر دوستی نبھانا ہم بھول گئے تھے۔
بسپا جہاں بھی ہو، خوش رہے، سلامت رہے، یہی میری دل کی سچی دعا ہے۔ مگر جب کبھی اس کی یاد کا چراغ دل کے کسی گوشے میں ٹمٹماتا ہے تو ایک کسک سی جاگ اٹھتی ہے، جیسے وقت نے ایک انمول رشتہ ادھورا چھوڑ دیا ہو۔ میں اکثر سوچتا ہوں، اگر اُس وقت ہم نے ایک ہاتھ بڑھا دیا ہوتا، ایک مسکراہٹ بانٹ دی ہوتی، تو شاید اُس کے دل پر چھائی تنہائی کی دھند کچھ کم ہو جاتی۔ آج برسوں بعد بھی دل گواہی دیتا ہے کہ قصور بسپا کا نہیں، ہمارا تھا۔اسی احساسِ ندامت کے ساتھ میں اپنی دعا کے لفظوں میں اُس کے لیے روشنی، امن اور مسرتیں مانگتا ہوں ،کہ شاید کہیں وقت کے اُس پار، بسپا بھی ایک لمحے کو ٹھہر کر مسکرا دے۔
