ہمارے شادی محل

مضامین

از۔ڈاکٹر محمد نصراللہ خان(شیموگہ) ۔9845916982

حیات اور موت کائنات کے دو حقائق ہیں ۔ہر ایک کی زندگی میں شادی ایک اہم مرحلہ و مقام ہے۔نظام کائنات میں انسانی سماج کا ایک اہم حصہ شادی ہے ۔اکثر لوگ شادی کرکے بھی پچتاتے ہیں اور نہ کرکے بھی پچھتاتے ہیں۔کئی قوموں میں لوگ شادیاں نہیں کرتے بس خدمت خلق میںزندگی گزاردیتے ہیں۔ اب یہ بھی کوئی قابل قبول بات تو نہیں ہے۔’’ سنسار سے بھاگے پھرتے ہو بھگوان کو تم کیا پائوگے‘‘ کے مصداق شادی ضروری ہے ۔زندگی کی تکمیل کے لئے شادی ضروری ہے۔ شادی اور موت سے متعلق مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں ’’شادی بعد از وقت اور موت قبل از وقت معلوم ہوتی ہے‘‘ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے ہر ایک کی زندگی کے خد وخال طئے ہوتے ہیں۔شادی کو خانہ آبادی کہا جاتا ہے بالکل درست بھی ہے۔دنیامیں ہر چھوٹا بڑا شادی ضرور کرتا ہے۔چلے جو موضوع پرہے اس پر آجائیں۔لفظ شادی اکثر و بیشتر روز مرہ زندگیوں میں ہم سنتے ہیں۔
ہر لفظ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک لفطی معنی اور دوسرا اصطلاحی معنی۔ لفط شادی کے لفظی معنی تو خوشی ، شاد ، مسرت یا شادمانی کے آتے ہیں ۔ لیکن اصطلاحی معنی میںشادی نکاح ،عقد یا جوڑ کو کہا جاتاہے ۔شادی ایک بندھن ہے جو ایک مرد اور عورت کے بیچ ہوتا ہے ۔ اس رشتہ کی تکمیل کے لئے یا نکاح کے لئے ایک وکیل ، دو گواہ اور دفتر کے ساتھ قاضی کا ہونا ضروری ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کے طور طریقے بدلتے رہتے ہیں ۔ الفاط اور اس کے معنی بھی بدلتے رہتے ہیں۔استعمال بھی بدلتے رہتے ہیں آج کل لفظ شادی ،بیاہ جو رشتئہ ازدواجی ہے اس کے لئے خوشی کے معنی تو ٹھیک ہے لیکن شادی کے لئے نکاح یا عقد یا جوڑ کیلئے استعمال ہونا چاہئے ۔ ہر کوئی ایسا کہے گا کہ فلاں شادی کو جا رہا ہوں ۔فلاں کے نکاح میں شریک ہونے جا رہا ہوں یہ بھی کہیںسننے کو مل جائیگا ۔ فلاں کے عقد یا جوڑ کی تقریب میں شریک ہونے جا رہا ہوں ایسا کہا نہیں جاتا ۔حقیقی معنی میں فلاں کے نکاح میں شریک ہونے جا رہاہوں صحیح ہے۔ زندگی کے طرز عمل نے ہمارے رہن سہن کو بدل دیا ہے ۔ انسانی سوچ کس قدر بدلنے لگی ہے اس سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اب چلے مقام شادی پر بات کریں۔جس مقام پر یا جس ہال یا جس عمارت یا جس بلڈنگ میں شادی ہوگی (گھر کو چھور کر )اس کو شادی محل کہتے ہیں ۔ ویسے بھی ہندوستان میں صدیوں تک مسلمانوں کی حکومتیںرہی ہیں تو محل بہت مشہور ہے ۔ جیسے تاج محل ، ممتاز محل ،رنگ محل ، شاہی محل، گل محل وغیرہ۔ اب جو نکاح کی کارروائی جس مقام پرہو گی اس مقام کو یا اس عمارت کو ہم نے شادی محل بنادیا ۔ جہاں تک دین اسلام یا شریعت کا سوال ہے شادی محل کا تصور دور دور تک اسلام میں نہیں ہے۔نہ حضور ﷺ اور نہ کسی صحابیؓ نے شادی محل بنائے اور نہ کبھی اس کی تعمیر کا حکم دیا۔ ہاں اسلام میں ، مساجد، مدرسے ، قیام گاہیں، درسگاہیں، مسافر خانے ،دواخانے ، یتیم خانے ، رہائش گاہیں وغیرہ کا تذکرہ ملتا ہے ۔ کہیں بھی اور کبھی بھی شادی محل کا تصور نہیں ملتا۔ یہ سب بہت قریب کے دور کی ایجاد ہے ۔ ورنہ بادشاہوں کے دور میں بھی شادی محل نہیں ہوتے تھے۔اصل میں نکاح کی تقریب مسجد میںہونا ہے ۔اور مختصر لوگوں کے بیچ ہونا ہے ۔اس لئے کہ لوگ مسجد میں با وضو رہوتے ہیں ۔ نکاح کا خطبہ سننا دو رکعت فرض نماز کا ثواب بھی ہے ۔اب شادی محل میںجو نکاح کی تقریب ہوگی اس میں ہزاروں لوگ ہوتے ہیںاب اس میںکتنے باوضو ہوں گے یہ سوالیہ نشان ہے۔
جہاں تک نکاح ی کا سوال ہے میرا مطلب شادی کا سوال ہے اسے تو سادی(سیدھی سادھی) ہونا چاہئے ہم نے اسے شادی بنادیا۔ اب مسلمانوں میں شادی محلوں کی تعمیر میں ایک ہوڑ سی لگی ہے کہ میرا شادی محل سب سے بڑا ہونا چاہئے ۔شادی محل بنانے والوں میں مقابلہ آرائی شروع ہوگئی ہے کہ میرا شادی محل ایسا ہونا ہے ، سب سے اچھا ہونا ہے، دیکھنے میں سب کو متاثر کرنے والا ہو ،ہر طرح سے آرائش و زیبائش کے ساتھ شہر میں بڑا دکھنا ، خوب صورت دکھنا اور لوگ میرے شادی محل کی جانب مائل ہونا وغیرہ وغیرہ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ قرب قیامت عرب کے لوگ جو کبھی بھوکے ، ننگے اور بغیر چپل پہنے رہنے پر مجبور تھے وہ عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے میں مصروف ہوں گے کہ میری عمارت سب سے اونچی ہونی چاہئے ۔ یہ بات بھی واضح کرتا چلو کہ وہ حدیث میں کہی ہوئی بات سچ ثابت ہو رہی ہے کہ بر ج خلیفہ جو دنیا کی سب سے بڑی عمارت ہے اب اس کا رکارڈ ٹوٹنے والاہے ۔سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی عمارت بن گئی ہے عنقریب اس کا افتتاح ہونے والاہے۔
اب ان بڑے اور نامور شادی محلوں میں اپنے بچوں کی شادیاں کرنے والوں میں بھی ایک ہوڑ سی لگی ہے کہ میری بیٹی یا بیٹے کی شادی فلاںشادی محل میں ہی ہونی چاہئے تاکہ دنیا دیکھے کتنی زبردست شادی ہوئی ۔ اس کی سجاوٹ ، لائٹنگ ،ڈکوریشن ، بورڈس ، نام ، نصب ، شجرہ ، محلہ وغیرہ درج ہوگا ، باہر کا ڈکوریشن اور اندر کا ڈکوریشن ،ایسالگتا ہے کہ دلہن کی طرح شادی محل کو سجادیا گیا ہے۔اب یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ شادی کس کی ہو رہی ہے کیا دلہا دلہن کی شادی ہو رہی ہے شادیوں محل کی شادی ہو رہی ہے یہ بتانا مشکل ہے ۔ساتھ ہی کار کی سجاوٹ گویا کار خود کار ہوکر دوسروں کو بیکار بنارہی ہے۔ اس کے علاوہ بونس کے طور پر گانا ، باجا ، ڈھول ، ڈھپہ ، موسیقی ، رقص ، پٹاخے ، گھوڑا گاڑی ،رنگ وروغن ، فوٹوگرافی ویڈیو گرافی ایسی کہ کوئی فلم کی شوٹنگ ہو رہی ہو ، آرکسٹرا ، قوالی ، غزل ،گویئے ، ناچ گانا ، میوزک ، گیت ، سنگیت یہ ان شادیوں کے مناظر ہوتے ہیں جہاں لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم ایک تاریخ رقم کر رہے ہیں ۔اصل میں تاریخ رقم نہیںمسلمانوں کی تاریخ ختم کر رہے ہیں۔
مسلم قوم ہر ایک میں سمجھوتہ کرسکتی ہے کبھی کھانے کے معاملے کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔ اس حسین موقع پر لذیذ پکوان ، مرغ مسلم ،گوشت ، کباب ، شامی ، تندوری ، (درجنوں قسم ہاں قسم کے گوشت ،روٹیاں، بریانیاں)مچھلی ، انڈا، بکرہ ، بریانی اس کی مقدار ، ان پکوانوں کے ساتھ فروٹ ، سافت ڈرنکس ، جوس، آئیس کریم ،پان ایسا لگتا ہے کہ سارے پکوان آسمان سے اتاریں گئے ہیں اس میںرنگ برنگ سویٹ ، مٹھائی ، کھجور ، بادام ، مسری ، چاکلیٹ ، کلفی ،غرض کہ جنت کی نعمتوں کو زمیں پر لایا کر سجا یا گیا ہے ۔ مرازا غالب سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا دستر خوان تو بہت ہی اعلیٰ ہے ۔تو غالبؔ نے اس کا جواب یوں دیا کہ’’ میرا دستر خون دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ یزید کا دستر خوان ہے ۔اس میں کھانے کی مقدار کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ با یزید کا دستر خوان ہے‘‘۔ اس طرح ہم ایک دن کی شادی کے لئے ہزاروں لاکھوں ،کروڑوں کے روپئے پانی کی طرح بہا رہے ہیں ۔ شادی محل بھی ایسے کہ اس کے نام بھی سیدھا آسمان سے ہی اتا رے گئے ہیں ، کسی کا نام آسمان سے منسوب تو کسی کا نام تاروں ،ستاروں سے منسوب ، کسی کا چاند سے منسوب توکسی کا سورج سے کسی کا جنت سے منسوب تو کسی کا اور کسی سے غرض کہ پوری کائنات دیکھنا ہو تو ان شادی محلوں کے ناموں سے بھی آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یقینا اس کے نام رکھتے وقت یا اس کی تعمیر کے وقت ضرور فرشتے آکر وحی کے ذریعے بتائے ہوںگے کہ یہی نام رکھنا ہے۔ اس لئے کہ اس میں پورے نظام شمسی کو مد نظرکھ کر ہی نام کا انتخاب ہوتا ہے۔
ان شادی محلوں کی تعمیر بھی ایسی کہ تاج محل اور لال قلعہ بنانے والے آرکٹکٹ بھی پھیکے پڑ جائیں گے۔ پھر اس پر سجاوت اس طرح کہ ہر کوئی ان کی جانب مائل ہوجاتا ہے ۔ تاکہ شہر گائوں میں چرچا کہ میں اپنے فرزند یا دختر کی شادی فلاںشادی محل میںکیا گویا ایسا لگتا ہے کہ وہ دنیا کی آخری شادی ہے ۔ اس کے بعد کوئی شادی نہیں ہوگی ۔بس ایک دن کی تقریب کے لئے سارا آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔
شادیوں کی قسمیں اس عنوان سے ہر کوئی چونک سکتا ہے کہ شادیاں تو شادیاں ہوتی ہیں اس کی قسمیں کیسی۔ غور کیجئے تو شادیوں کی قسمیں ہوتی ہیں جیسے سیاسی شادیاں، آج کل سیاسی شادیوں کا چلن بہت عام ہوگیا ہے اس میں زیادہ تر براہ راست یا بلا وسط طور پر سیاست دانوں کی شمولیت ہوتی ہے۔ اس میںاکثر و بیشتر لوگ یاتو سیاست کے سورما ہوتے ہیں یا پارٹ تائم سیاست دان ہوتے ہیں۔ جو بھی ہو لیکن بھیڑ اتنی کہ شادی محل بھی اپنے آپ کو یہ کہتے ہوئے معلوم ہوتا کہ کاش میرا دامن اور وسیع ہوتا ۔ اس بھیڑکو میں کلیجے سے لگا لیتا ۔جہاں دیکھوں بس لوگ ہی لوگ ۔ جسے بیٹھنے کی جگہ مل گئی سمجھ لیجئے کہ وہ آج کا سب خوش قسمت انسان ہے ۔ جسے وقت پر کھانا مل گیا سمجھ لیجئے کہ وہ پورا رمضان روزے رکھ رکھ کر دعا کرکے آیا ہوگا کہ مجھے پہلی صف میں جگہ مل جائے اب شرف قبولیت کا مقام ہے ۔ ایسے ماحول میں کئی اس سے کیسے بچ کر نکلنا ہے یہ سوچ کر پریشان ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کی بھیڑ کو دیکھ کر ایک مضمون مجتبیٰ حسین کا لکھا جس کا عنوان ہے ’’ریلوی منتری بن گئے مسافر ‘‘ کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ اتنی بھیڑکو اور لوگوں کو جو پریشانیاں ہو رہی ہیں اس کے علاوہ باہر جو کاریں، سواریاں ہیںاس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ یہ غیر معمولی شادی ہے ۔جسے کار پارکنگ یا گاڑی کھڑا کرنے کی جگہ مل گئی تو سمجھ لیجئے کہ اس کی کئی ہفتوںکی دعا قبول ہوگئی ۔
افیشل شادیاںیہ شادی دراصل وہ شادیاں ہیں جو زیادہ تر آفیسرس ، سرکاری یا غیر سرکاری ملازم اپنے گھروںکی شادیاں اتنے دھوم دھام سے کرتے ہیں کہ سارا عملہ اس میںشریک ہوکر شادی کے افیشل ہونے کا ثبوت پیش کرتا ہے ۔ کم وبیش ایسی شادیاں بھی انہیں شادی محلوں میں ہوتی ہیں جہاں اپنی عزت اپنا وقار اور اپنی پہچان ثابت ہو ۔ورنہ چھوٹے موٹے شادی محلوں میں شادیاں کرنے سے برادری میںناک کٹ جائیگی۔جس سے اپنے افیشل پن کا مزاق اڑجائے گا۔شادی صرف شادی نہ رہی بلکہ ایک کارنامہ ہے جو ہر کس و ناکس سے ممکن نہیں۔ اس کیلئے بہت پاپڑ بیلنے نہیں پڑتے بلکہ پاپڑ کے فیکٹریاںبنانے پڑتے ہیں۔
بڑے کار وباری گھرانوں کی شادیاں، نام سے ہی ظاہر ہے کہ بڑے اور کار وباری گھرانے اپنے گھروں کی شادیوں کو بھی بڑے دھوم دھام سے کرتے ہیں۔اپنے پیشہ سے وابسطہ لوگ تو شریک ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ان لوگوں کوبھی مدعو کیا جاتا ہے جو کسی نہ کسی طرح ان کے لئے فائدہ مند ہو آج نہیں تو کل وہ ضرور ان کے لئے سود مند ہوں گے ۔ دراصل یہ سب فیوچر پلان ہوتا ہے۔شادی اب شادی نہیں رہی بلکہ ایک مستقبل کا ایک پلان ہے جس کو بہت سوچ سمجھ کر عملی جامہ پہنایا جاتا ہے ۔
اب بچے عام لوگ جو یا تو غریب ہوتے ہیں یا مشکلوں سے زندگی گزار تے ہیں ۔درمیانی طبقے سے جڑے ہوئے لوگوں کے لئے شادی ایسا مسئلہ ہے جس کو عیاں اور بیاں کرنا نہایت ہی مشکل کام ہے۔ شہر وگائوں کا ماحول ایسا بنادئے ہیں کہ وہ اپنی استطاعت سے بڑھ کرخرچ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ جس کے لئے کسی کو ادھار لینا پڑتا ہے تو کسی کو اپنا گھر ، کھیت یا باغ بیچنا پڑتا ہے ۔ کسی کو بینک ،فینانس یا سوسائٹی سے لون لینا پڑتا ہے تو کسی کو گھر ، کھیت ، باغ ، سونا یا کوئی قیمتی شئے گروی رکھنا پڑتا ہے ۔ کسی کو سود پر پیسہ لینا پڑتا ہے تو کسی کو اپنی چھوٹی موٹی تجارت کو ختم کرنا پڑتا ہے ۔دورِ حاضر کے بے لگام تقاضے ہمیں دنیا میں جہنم کی سیر کرا رہے ہیں۔سماج میں پھیلے ہوئے بے جا رسومات اور اسراف خرچ کے ریگستان ہماری زندگیوں کو اس طرح سو کھا کر دئے ہیںکہ اب ہر نفس جینے کے لئے قطرئہ آب کو ترس رہی ہے۔ فرسودہ اور بیکار اعمال نے ہمیں دکھاوا ، ریاکاری اور بدکاریوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔ان سب کو ہم نے زندگی کا نصب العین سمجھ لیا ہے ۔ واقعی جلال الدین محمداکبر اور اس کے ہم خیال دیگر بادشاہ و نوابوں نے ہمیں کچھ دیا ہے یا نہیں پتہ نہیں لیکن غیر اسلامی رسومات کا تحفہ ضرور دیا ہے ۔ آج اتنے علم والے اتنے سمجھ دار اتنے تجربہ کار ہونے کے باوجود لوگ انہیں رسموں ، ریتوں اور رواجوں کو گلے لگائے بیٹھے ہیں ۔جو ایک خرافاتی عمل کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ جس میں ہمار پیسہ ، ہمارا سرمایہ ، ہمارا وقت سب برباد ہو رہا ہے۔ یہ سب شادیاں کم تماشہ زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔ اس طرح کے غیر شرعی عمل سے یقیناًقوم کیلئے تباہی و بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیںہو گا۔ اللہ خیر کرے۔
ہماری حکومتیں چلی گئی، سلطنتیں ختم ہوگئی،بادشاہت ، نوابیت سب ختم ہوگئے ۔ لیکن ہم آج بھی اسی طرز کی زندگی جینے کی کوشش میں لگیں ہیں۔وہی اکڑ وہی غرور وہی رنگ ڈھنگ ۔کاش کہ ان سب فضول خرچیوں کے بجائے اچھے اسکول ، اچھے مدرسے ، اچھے کالج ، اچھے یونیورسٹیاں، اچھے تعلیم و تربیتی ادارے ، اچھی درسگاہیں، اچھے اسپتال،اچھے ہاسٹل، ٹریننگ سنٹرس کارآمد انجمنیں ، مثالی تنظیمیں ، جدید علوم کے مراکز ، سائنس وٹکنالوجی کے ادارے ، ادبی انجمنیں، سماجی فلاح وبہبود کی تنظیمیں قائم کرتے تو یقیناً ہماری قوم آج ہندوستان میںترقی یافتہ قوم کہلاتی ۔ اور ہمیں غیروں کے اداروں میںاپنے بچوں کو داخلہ دلواکر غیروں کی تہذیب کو نا چاہتے ہوئے بھی اپنا نا نا پڑ تا۔جو غلط رسم و رواج ، جو نشہ،جو غلط کاریاں، مرتد ہورہی ہماری لڑکیاں، جو تباہیاں ، جو بربادیاں ہو رہے ہیں سب اسی کا نتیجہ ہیں کہ ہم ان تعمیری کاموں کے بجائے دکھاوے کے کام کررہے ہیں۔
کاش ہم ان شادی محلوں اور شادیوںکے غیر ضروری ،بے جا اسراف سے بچ کر سماج اور قوم کا بھلا کرپاتے۔ تو ایک اچھے اور صحت مند سماج کی بنیاد رکھ پاتے ۔ موجودہ نسل اپنے سنہرے مستقبل کے خواب دیکھ پاتی جس سے آنے والی نسلیں بھی ہماری مرہونِ منت ہوتیں۔