ادارۂ ٹیپوشہید پالی ٹیکنیک ہبلی میں انجینئرس ڈے کے موقع پر مقررین کاخیال
ہبلی:۔ ادارۂ ٹیپو شہید پولی ٹیکنیک ہبلی میں” انجینئرز ڈے ” پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی انجینئر و معروف صنعت کارشری نوین کرکی نے کہا کہ انجینئرس ہمیشہ سماجی ضروریات کی تکمیل میں پیش پیش رہے ہیں۔ چنانچہ انہیں فن تعمیر کاماہر اور ملک وسماج کا معمار جیسے القاب سے یاد کیا جاتاہے۔ لیکن ایک اچھا ، قابل وباصلاحیت انجینئربننےکیلئے سخت محنت، ذہنی قابلیت، لیاقت اور مشاہدہ درکارہے۔ طلباء ان تمام صفات کو پروان چڑھائیں اور ملک کی ترقی میں نمایاں رول اداکریں‘‘ ۔ مزید کہا کہ انجینئرس ڈے بطور خراج عقیدت سر ایم۔ ویشویشوریاکی یوم پیدائش کے دن پرمنایاجاتاہے۔ سرایم وشوشوریا اپنی ساری زندگی ہندوستانی عوام اور ملک کی خاطر وقف کردی اور آج ہندوستان میں شعبۂ انجینئرنگ سے جڑی ہوئی تمام ترقیات انہیں کی مرہونِ منت ہے۔ شری نوین کرکی مزید کہاکہ ملک کی ترقی میں انجینئر کا کردار بہت اہم ہے۔ انجینئرز ملک کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ٹیکنالوجی کی ترقی، اور صنعتوں کو جدید بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ پل، سڑکیں، عمارتیں اور ڈیم جیسے منصوبے بناتے ہیں جو معیشت کو مستحکم کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور تحقیق میں انجینئرز کی جدت طرازی سے ملک کی صنعتیں ترقی کرتی ہیں اور عالمی سطح پر مسابقت بڑھتی ہے۔ توانائی، مواصلات اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں انجینئرز کی خدمات سے عوامی سہولیات بہتر ہوتی ہیں، جس سے ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اور معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے۔اس موقع پر اعزازی مہمان پروفیسر مشتاق احمد یس ملا ریٹائرڈ پرنسپل ٹیپو شہید پولی ٹیکنیک ہبلی نے طلباء کو مشورہ دیاکہ وہ اپنی کمیونیکیشن اسکلز کو بہتر بنائیں تاکہ انڈسٹریزکی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جدید دور میں صرف تکنیکی مہارت کافی نہیں ہوتی بلکہ اپنے خیالات کو مؤثر انداز میں پیش کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ اپنے آپ کو انڈسٹری کی توقعات کے مطابق ڈھالیں اور نئے رجحانات کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ وہ اپنے کیریئر میں کامیاب ہو سکیں۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کامیابی کا راستہ ہمیشہ محنت اور لگن چاہتا ہے۔ کوئی بھی بڑی کامیابی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے محنت کریں اور کبھی ہار نہ مانیں۔ پروفیسر مشتاق احمد نے کہا کہ صرف محنتی اور اپنے فن میں ماہر لوگ ہی زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں، اور یہی کامیابی کی کنجی ہے۔صدارتی خطاب میں پرنسپل رویندرا سنگھ نے کہا کہ طلباء کا صرف سند یافتہ ہونا کسی تابناک مستقبل کا ضامن نہیں ہوسکتا۔ اچھے مارکس کے علاوہ ان تمام ضرورتوں کو پورا کرنا لازم ہے جو کہ آج کی انڈسٹریز کی ضرورت ہے۔ طلباء میں بات چیت کا سلیقہ، مسائل کو حل کرنے کی اہلیت ودیگر خصوصیات جو صنعت وحرفت کا جزہیں، فقدان پایاجاتاہے، ان تمام باتوں کو اپنے اندر پروان چڑھائیں ۔مذید کہا کہ آج کل فنیشنگ اسکولوں کا چلن عام ہے جہاں پر طلباء کو صنعتی ضروریات کے تحت تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ نصابی کتب وصنعتی مانگ کے درمیان خلاء کو پُر کرسکیں ۔ آگے کہا کہ طلباء مرکزی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے پروگرام اسٹارٹ اپ انڈیا کا فائدہ اٹھائیں جو خود کفیل بننے کی طرف نشان دہی کرتے ہیں۔پروگرام میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ محمد علی با گلکوٹ ،عبدالرزاق ملا،ملک دھارواڑ ، چندرشیکھر تو پد ،ایم ایس ،سمِ انکٹتی ، مسعود احمد جنیدی ،بسوراج کبیر شریک رہے۔پروگرام سے دیگر ہائی اسکولوں کے پرنسپل ڈاکٹر کرن کمار نائیک ، اشفاق ہریکمبی، اشفاق بانکا پور اور یلی گار نے بھی خطاب کیا۔پروگرام کا آغاز سراج احمد ہا ویری کے تلاوت پاک سے ہوا۔مہمانوں کا تعارف تاج الدین میسور نے کیا۔ اِس موقع پر تمام مہمانوں کی ادرہ کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی ۔ پروگرام کی نظامت پروفیسر کرن کمار منٹو ر نے کی۔ پروفیسر بالیش ہیگناور نے سبھی کا شکریہ ادا کیا ۔
