مسجد میں نعرہ اورکرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ; مذہبی مقامات کا احترام اور سماجی ہم آہنگی کا تحفظ

سلائیڈر مضامین

از : عبدالحلیم منصور۔9448381282


حالیہ دنوں میں کرناٹک ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ سامنے آیا ہے کہ مسجد میں ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے سے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی۔ یہ فیصلہ، باوجود اس کے کہ قانونی طور پر دیا گیا ہو، سماجی ہم آہنگی اور بین المذاہب تعلقات کے تناظر میں سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
سب سے پہلے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آئین ہند ہر شہری کو اپنی مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے۔ دفعہ 25 کے تحت ہر فرد کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اس حق کے تحت ہر مذہبی مقام کا تقدس برقرار رکھنا ضروری ہے۔ جب کسی مذہبی مقام میں کسی اور مذہب کے نعرے لگائے جاتے ہیں، تو یہ اقدام وہاں کی مخصوص عبادات اور مذہبی آزادی کے منافی سمجھا جاسکتا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسے نعرے لگانے سے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی۔ تاہم، یہ اہم ہے کہ ہندوستان کی عدلیہ اس طرح کے معاملات کو سماجی تناظر میں بھی دیکھے، نہ صرف قانونی نقطہ نظر سے۔ ایک مسجد، جہاں مسلمان عبادت کرتے ہیں، ایک مقدس مقام ہے۔ ایسے مقامات پر کسی بھی قسم کی ایسی حرکت جو وہاں کے مذہبی ماحول کو متاثر کرے، ایک حساس مسئلہ ہے اور اس سے مذہبی ہم آہنگی پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔
ہمارے ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ جب مختلف برادریوں کے لوگ ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں، تو ملک میں امن اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔ عدلیہ کا کردار نہ صرف قانونی معاملات کا حل نکالنا ہے بلکہ سماجی طور پر بھی ایسے فیصلے کرنا ہے جو عوامی بھلائی اور ہم آہنگی کو بڑھاوا دیں۔
عدلیہ کو ایسے معاملات میں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ عوام میں نفرت اور تفرقہ پھیلانے والے عناصر فائدہ نہ اٹھائیں۔ اس طرح کے فیصلے سے کچھ عناصر غلط پیغام لے کر سماجی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں، جو ہمارے کثیرالمذہبی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ہماری عدلیہ اور حکومت دونوں کا فرض ہے کہ وہ ایسے فیصلے کریں جو سماج کے تمام طبقات کے لیے مفید ہوں۔ مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کا احترام برقرار رکھنا صرف مذہبی نہیں، بلکہ ایک سماجی ضرورت بھی ہے تاکہ ملک میں امن اور بھائی چارہ برقرار رہے۔ آئین کے مطابق تمام مذاہب کی آزادی کا احترام ہر شہری کا حق ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنائیں۔
پس منظر:
حالیہ دنوں میں ایک متنازعہ واقعہ سامنے آیا جس میں کچھ افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے24 ستمبر 2023 کی رات تقریباً 10:50بجے دکشن کنڑا ضلع کڈبہ تعلقہ کی بدریہ مسجد میں داخل ہوکر "جے شری رام” کے نعرے لگائے۔ اس واقعہ کے بعد ایک مقدمہ درج ہوا، جس میں یہ دلیل دی گئی کہ یہ اقدام مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور امن و امان کو خراب کرنے کے ارادے سے کیا گیا تھا۔ اس کیس کی سماعت کے دوران کئی قانونی سوالات اٹھائے گئے جن میں سب سے اہم یہ تھا کہ کیا ایسے عمل کو مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، یا یہ محض مذہبی آزادی اور اظہار رائے کی حد میں آتا ہے؟
عدالت نے اس کیس میں یہ فیصلہ دیا کہ مسجد میں "جے شری رام” کے نعرے لگانے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی اور یہ عمل کسی جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کا نعرہ لگانا ہندوستان کے آئین کے تحت آزادی اظہار رائے اور مذہبی آزادی کے حق کے تحت آتا ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی نیت نہیں پائی گئی جس سے دوسرے مذہب کے لوگوں کو تکلیف پہنچے۔
قانونی نکات:
اس فیصلے میں کچھ اہم قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا،
مدعی نے اس واقعے کے خلاف دفعہ 295A کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا، جو کسی بھی فرد کے ذریعے کسی مذہب یا مذہبی عقائد کی دانستہ اور بدنیتی سے بے حرمتی کرنے سے متعلق ہے، جس سے دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ لیکن عدالت نے کہا کہ اس کیس میں نعرے لگانے کا مقصد جان بوجھ کر کسی کی مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ثابت نہیں ہو سکا۔
آرٹیکل 25 ہندوستان کے ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے اور اس کا اظہار کرنے کی آزادی دیتا ہے، جب تک کہ اس سے عوامی نظم و ضبط اور اخلاقیات متاثر نہ ہوں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس نعرے کو لگانے کا مطلب مذہبی منافرت یا بدنیتی سے کرنا ثابت نہیں کیا جاسکا۔
قانونی و سماجی اہمیت:ملی ذمہ داری
اگرچہ عدالت نے قانونی لحاظ سے اسے جرم قرار نہیں دیا، لیکن فیصلے میں اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا کہ مختلف مذہبی مقامات کا احترام ضروری ہے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رہے۔
اس فیصلے کے بعد مختلف حلقوں نے اس پر تنقید کی اور کہا کہ ایسے فیصلے سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ مذہبی مقامات کی حرمت کا ہر حال میں خیال رکھنا ضروری ہے، اور اس طرح کے نعرے کسی دوسرے مذہب کے مقدس مقامات پر لگانے سے معاشرتی توازن خراب ہو سکتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایسے واقعات کے نتیجے میں تشدد بھڑکنے یا فرقہ وارانہ منافرت بڑھنے کے خدشات ہیں۔
اس فیصلے نے ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے کہ کس حد تک اظہار رائے کی آزادی اور مذہبی آزادی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں، جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک ساتھ رہتے ہیں، ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ دوسرے مذہب کے مقدس مقامات کا احترام کرے۔ اسی طرح عدلیہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے فیصلے کرے جو نہ صرف قانون کے دائرے میں ہوں، بلکہ سماجی ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینے میں بھی معاون ہوں۔تاہم
مسجد میں "جے شری رام” کے نعرے لگانے کے واقعے پر عدالتی فیصلہ قانون کے مطابق تھا، لیکن اس فیصلے نے سماجی اور مذہبی حساسیت کے مسائل کو بھی اجاگر کیا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہر طبقہ ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرے اور ایسی کارروائیوں سے گریز کرے جو سماجی تناؤ کو ہوا دے سکتی ہیں۔اس فیصلے کو فاضل جج نے کس نقطۂ نظرسے دیکھ کر صادر کیا اور مقدمے کی پیروی کرنے والے وکلاء نے کیا دلیلیں پیش کیں اور مقدمہ کی تحقیقات کرنے والی پولیس نے کیا شاہد پیش کیے اور کس طرح ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر اس طرح کا فیصلہ دیا اس پر بحث کرنے سے زیادہ ملت کے ذمہ داروں کو بالخصوص مسلم وکلاء کو چاہیے کہ اس فیصلے کی انوکھی تعبیرات نکالنے سے پہلے ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع ہوں، مسجد کو عوامی مقام قرار دیتے ہوئے عدالت نے یہ فیصلہ دیا ہے، جبکہ سوال یہ ہے کہ سرکاری دفاتر کا شمار بھی عوامی مقام ہوتاہے ،اور کام کاج کے اوقات کے بعد یہاں پر داخل ہونا غیر قانونی ہی ہوتا ہے’تو رات 11 بجے کے قریب مسجد میں داخل ہونا کیسے درست ہے، تاہم اس فیصلے کے خلاف قانونی طور سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مذہب کا احترام و تقدس برقرار رہے۔
(مضمون نگار کرناٹک کے معروف صحافی وتجزیہ نگار ہیں)