’’کالے کمارسوامی ‘‘ کہنے پر قومی جنرل سکریٹری جنتادل (یس) ظفراللہ خان کی پریس کانفرنس میں وضاحت
بیدر:۔ کل 8؍اپریل کو بسواکلیان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنتادل (یس) کے نیشنل جنرل سکریڑی ظفراللہ خان نے کہاکہ اس ملک میں ہر سیاسی پارٹی کو آزادی ہے۔ اسی آزادی کی رو سے ووٹ مانگنے کاحق حاصل ہے۔ اس کے لئے ہماری پارٹی (جنتادل یس) کی طرف سے کسی پر اعتراض نہیں ۔ لیکن سیاست کا درجہ گراتے ہوئے ، بدزبانی کرتے ہوئے ہماری پارٹی پر الزامات لگانا یاہمارے لیڈروں پر الزامات لگاناسراسرغلط ہے ، اس لئے میں ساری پارٹیوں کے لیڈروں کوآگاہ کرتاہوں کہ آئندہ سے یہ حرکتیں بند کردیں۔ اپنی پارٹی کی بھلے تعریف کریں لیکن اگر ہماری پارٹی کی برائی کریں گے تو اس کاانجام بہت برا ہوگا۔ ظفراللہ خان نے انتباہ دیاکہ پھر میں آؤں گا ڈیبیٹ کے لئے ہر دستاویز کے ساتھ ۔ اگر وہ گالی دینا جانتے ہیں ، دوتین چار دس زبانوں میں گالی دینا چاہتے ہیں۔ان شاء اللہ تعالیٰ میں کم سے کم 30سے 35زبان میں گالی دے سکتاہوں ۔لیکن یہ ہم لوگوں کو سکھایانہیں گیا ۔ ہم بدزبانی کرسکتے ہیں لیکن میں کرنا نہیں چاہتا۔ بھلے کوئی ہم سے بدزبا نی کرے۔اسکے اخلا ق ہیں اس کے سنسکار ہیں ۔ وہ جہاں سے پڑھ لکھ کر آیاہے وہ اپنارنگ دکھائے گا۔ ہم اپنی قابلیت ، اخلاق اور انسانیت دکھائیں گے جوہماری پارٹی سے ہے ۔ جو ہمارے لیڈر شریمان دیوے گوڈا جی اور شریمان کمارسوامی جی نے جو اخلاق سکھایاہے اس پر چلنے والے لوگ ہیں۔ہم بدزبانی نہیں کریں گے۔ یہاں تک کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سکھایاہے جو پتھرپھینکتا کرتاتھا اس کے حق میں دعا کرتے تھے ۔ جو کچر اپھینکا کرتاتھا اس کی صحت پوچھنے کے لئے جاتے تھے۔ ایسے نبی کی امت میں سے ہوں ۔میں مسلمان ہوں۔ جناب ظفراللہ خان نے زور دے کر مبینہ طورپر کہاکہ کسی لیڈر نے کہا ہمارے شریمان کمارسوامی جی کالے ہیں۔ فخر ہے اس کالے رنگ پہ حضرت بلال (رض) بھی تو کالے تھے۔ جنہوں نے مدینہ کی مسجد میں اذان دئے تھے۔ تم کالے رنگ کو کس طرح (نام رکھتے ہو۔ ہر ہندوستانی کالا ہوتاہے ۔ گورے وہ تھے جو دیش چھوڑ کر چلے گئے۔ ہم وہ گوروں میں سے نہیں بھلے ہم کالے ہوں ۔ موصوف نے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ کانگریس پہلے اپناگھر سنبھالے۔ اس گھر سے کبھی روشن بیگ چلے جارہے ہیں۔کہیں ضمیر بیٹھا رو رہاہے۔ سی ایم ابراھیم کو پارٹی میں گھٹن ہورہی ہے کیوں ۔ کیا ہم نے پوچھا ۔ تم کیوں پوچھتے ہو کہ بی ایم فاروق کاکیاہوا؟ہماری صد فیصد حکومت آئی ہوتی تو انھیں ڈپٹی سی ایم بنایاجاتا۔ اسی کانگریس پارٹی نے غیرمشروط تعاون کی بات کہی تھی ۔ غلام نبی آزاد بھی اس وقت موجودتھے۔ لیکن بعد میں کانگریس نے جس طرح کی حرکات کیں اس سے شریمان کمارسوامی کے بھیجے میں کینسر ہوجاتا لیکن اچھا ہواکہ کانگریس اور جنتادل (یس) کی مشترکہ حکومت چلی گئی ۔مسٹر خان نے بیف پرلگائی گئی پابندی کے بارے میں کہاکہ بیف پرپابندی سے پورے ملک کانقصان ہواہے۔ لیدر انڈسٹری بھی برباد ہوکر رہ گئی۔ سوال یہ ہے کہ اس ضمن میں کانگریس پارٹی نے آواز کیوں نہیں اٹھائی ؟ اس کے اراکین اسمبلی کی تعداد زیادہ تھی ۔ جنتادل (یس) کے اراکین اسمبلی کم تھے۔ کانگریس بسواکلیان میں مسلمانوں کاگمراہ کررہی ہے۔ مسلمانوں ووٹوں پر صرف کانگریس کاحق نہیں ہے۔ مسلمان ووٹ ڈالنے کے لئے پوری طرح آزا دہے۔ اس صحافتی کانفرنس کے موقع پر ان کے ساتھ پارٹی کے امیدوار یثرب علی قادری ، اور دیگر پارٹی قائدین موجودتھے۔
