BREAKING NEWS: امجد خان کاانتقال

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر کرائم

شیموگہ۔ شہر کے آر ایم ایل نگر وارڈ میں ایک شخص پر جان لیوا ہتھیاروں سے خوفناک حملہ کیا گیاتھا۔ امجد نامی شخص 2 اکتوبر کی رات کے وقت حملہ آوروں نے جان لیوا ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ وہ زندگی اور موت کے درمیان جوج رہا تھا اور اسے میکس ہسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل کیا گیا تھا۔یہ واقعہ آر ایم ایل نگر میں بھارت فائونڈری کے پیچھے پیش آیاتھا۔ جہاں امجد اپنے دوست شاہد کے ساتھ کھڑا تھا۔ اچانک حملہ آوروں نے دھاوا بول کر جان لیوا ہتھیاروں سے بلا روک ٹوک حملہ کیا۔ امجد کی ہاتھ کی انگلیاں کاٹ دی گئیں، ایک ہاتھ زخمی ہوا، اور پیٹ میں چھرا گھونپا گیا، جس سے اس کی حالت نازک تھی۔ شاہد پر بھی حملہ کیا گیا۔ شہر میں امجد اور اس کے دوست شاہد پر چھرا زنی کے واقعے کے بعد دوڈاپیٹے پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ شیموگہ ضلع ایس پی متھون کمار جی کے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ 2 اکتوبر کی شام 7:30 بجے پیش آیا۔ امجد اور اس کا دوست بائیک پر جا رہے تھے جب دو نامعلوم افراد نے، جو بائیک پر تھے، چھرا زنی کی اور فرار ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں میں نابالغ بھی تھے۔ایس پی نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کو تیز کر دیا گیا ہے اور پانچ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں ایک اہم حملہ آور بھی شامل ہے۔ دوڈاپیٹے پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج ہے۔

امجد خان وہ نام جو اکثر جوئے اور قمار بازی کے سرغنہ کے طور پر پیش کیا جاتا تھا… مگر حقیقت میں امجد ایک طرح سے پولیس محکمے کے لیے خفیہ ایجنٹ کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس نے کئی ایسے سنگین مقدمات میں اہم کردار ادا کیا جن میں ملزمان کی گرفتاری پولیس کے لیے چیلنج بن گئی تھی۔ امجد کے فینس کی تعداد بہت زیادہ تھی، مگر اسے کبھی یہ گمان بھی نہیں تھا کہ پولیس کی مدد کے لیے کیے گئے اس کے کام ہی ایک دن اس کی جان لے لیں گے۔ امجد جانتا تھا کہ جو راستہ اس نے چُنا ہے وہ خطرناک ہے، مگر پھر بھی وہ اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے نبھاتا رہا۔

پولیس کے تقریباً 500 مقدمات میں اہم گواہ

ریاست کی تاریخ میں شاید ہی کوئی شخص اتنے بڑے پیمانے پر مجرمانہ مقدمات کاانفارمر اور گواہ رہا ہو… مگر امجد نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر پولیس کے حق میں گواہی دی اور پولیس کا خاص مانا جاتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ اسکے دشمنوں نے اسے موت کے گھاٹ اتاردیا۔۔ اگر آج امجد زندہ ہوتا تو شاید اس کے یہ کارنامے عوام کے سامنے نہ آتے۔ اب وہ دنیا میں نہیں رہا۔