از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی ۔ 9902672038

کسان دِیوس بھارت میں ہر سال 23 دسمبر کو نہایت احترام اور وقار کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ دن ملک کے عظیم عوامی رہنما اور سابق وزیرِ اعظم چودھری چرن سنگھ کی یومِ پیدائش کی یاد میں منایا جاتا ہے، جنہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی کسانوں، دیہی عوام اور زرعی اصلاحات کے لیے وقف کر دی۔ وزیرِ اعظم چودھری چرن سنگھ ہندوستان کے عظیم کسان رہنما تھے۔ انہوں نے زرعی اصلاحات، زمین کی منصفانہ تقسیم اور چھوٹے و متوسط کسانوں کے حقوق کیلئےبھرپور جدوجہد کی۔ زرعی پیداوار میں خود کفالت، دیہی معیشت کی مضبوطی اور کسانوں کو بااختیار بنانا ان کی پالیسیوں کا مرکز تھا۔ وہ جاگیرداری نظام کے سخت مخالف تھے اور کسانوں کو قومی ترقی کی بنیاد سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنی مشہور کتاب Poverty and Its Solution Indiaمیں ملک کی غربت کی وجوہات بیان کیں اور زرعی اصلاحات، دیہی ترقی اور خود انحصاری کو غربت کے پائیدار حل کے طور پر پیش کیا۔
حکومتِ ہند نے سن 2001 سے اس دن کو باضابطہ طور پر قومی کسان د یوس کے طور پر منانے کا اعلان کیا، تاکہ کسانوں کی بے مثال خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے اور زرعی شعبے کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ کسان دیوس کا مقصد نہ صرف کسانوں کے مسائل کو سامنے لانا ہے بلکہ پالیسی سازوں، تعلیمی اداروں اور سماج کو یہ احساس دلانا بھی ہے کہ کسانوں کی خوشحالی قوم کی خوشحالی سے جڑی ہوئی ہے۔ بھارت ایک زرعی ملک ہے جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ کسان ہمارے لیے اناج، دالیں، سبزیاں، پھل اور دیگر زرعی اجناس پیدا کرتے ہیں، جن کے بغیر انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ اس کے باوجود آج کا کسان شدید معاشی، سماجی اور ماحولیاتی مسائل سے دوچار ہے۔ پانی کی قلت، بارشوں کی بے قاعدگی، سیلاب اور خشک سالی جیسی قدرتی آفات فصلوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ مہنگے بیج، کھاد اور زرعی ادویات کسان کی لاگت میں اضافہ کر دیتے ہیں جبکہ منڈی میں فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے کے سبب کسان قرض کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ بعض اوقات درمیانی تاجر اور ذخیرہ اندوز کسان کی محنت کا پورا فائدہ خود سمیٹ لیتے ہیں، جس سے کسان مزید کمزور ہو جاتا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ کسانوں کو فصل کی منصفانہ امدادی قیمت فراہم کرے، زرعی قرضوں کو آسان شرائط پر مہیا کرے اور فصل بیمہ اسکیموں کو مؤثر بنائے تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں کسان کو سہارا مل سکے۔ جدید آبپاشی نظام، مائیکرو اریگیشن، بارش کے پانی کا ذخیرہ اور موسمی پیش گوئی کی بروقت فراہمی کسانوں کے لیے بے حد مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسانوں کو جدید زرعی ٹکنالوجی، ڈیجیٹل منڈیوں اور سائنسی طریق کاشت سے روشناس کرانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کسان دیوس ہمیں یہ اہم پیغام دیتا ہے کہ کسان صرف اناج اگانے والا نہیں بلکہ قوم کا معمار ہے۔ اگر کسان خوشحال ہوگا تو دیہی معیشت مضبوط ہوگی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کسانوں کے وقار، حقوق اور مفادات کا ہر سطح پر تحفظ کیا جائے اور زراعت کو ایک باوقار اور منافع بخش پیشہ بنایا جائے۔
ایگریکلچرل کالجز اور یونیورسٹیز کسانوں کو معاشی طور پر مضبوط بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ سب سے پہلے یہ ادارے جدید زرعی تحقیق کے ذریعے بہتر بیج، جدید کاشتکاری کے طریقے، کم لاگت اور زیادہ پیداوار دینے والی ٹیکنالوجیز متعارف کرا سکتے ہیں، جس سے کسان کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے۔ دوسرے، زرعی تعلیمی ادارے کسانوں کے لیے تربیتی پروگرام، ورکشاپس اور فیلڈ ڈیمانسٹریشنز منعقد کر کے انہیں جدید مشینری، مٹی کی جانچ، پانی کے مؤثر استعمال اور فصلوں کی بیماریوں سے بچاؤ کے طریقے سکھا سکتے ہیں۔ اس عملی علم سے کسان کی لاگت کم اور منافع زیادہ ہوتا ہے۔تیسرے، یہ ادارے کسانوں کو ایگرو بزنس، ویلیو ایڈیشن، فوڈ پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کی تربیت دے سکتے ہیں تاکہ وہ صرف پیداوار تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنی فصل کو بہتر قیمت پر فروخت کر سکیں۔ کسان پروڈیوسر آرگنائزیشنز (FPOs) کے قیام میں رہنمائی بھی معاشی استحکام میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ مزید برآں، زرعی یونیورسٹیز سرکاری اسکیموں، سبسڈی، فصل بیمہ اور کریڈٹ سہولتوں سے متعلق آگاہی فراہم کر کے کسانوں کو مالی تحفظ دے سکتی ہیں۔ اس طرح ایگریکلچرل کالجز اور یونیورسٹیز علم، تحقیق اور عملی رہنمائی کے ذریعے کسانوں کو خود کفیل اور معاشی طور پر مضبوط بنا سکتی ہیں۔
کسانوں کی خودکشی کی بنیادی وجوہات میں قرض کا بوجھ، فصلوں کی ناکامی، کم از کم امدادی قیمت کا نہ ملنا، قدرتی آفات، مہنگے زرعی آلات، اور سرکاری مدد تک رسائی کی کمی شامل ہیں۔ ذہنی دباؤ اور سماجی دباؤ بھی اس مسئلے کو سنگین بناتے ہیں۔ اس رجحان کو روکنے کے لیے کسانوں کو بروقت مالی مدد، سستے قرضے، فصل بیمہ، مناسب قیمتیں، جدید زرعی تربیت، پانی کے بہتر وسائل، اور ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔ مضبوط زرعی پالیسیاں اور کسان دوست نظام ہی اس المیے کا مستقل حل ہیں۔
کسان کے محنت کش ہاتھ ہماری زندگی کی بنیاد ہیں، جو دھوپ، بارش اور فاقوں میں بھی ہمیں غذا مہیا کرتے ہیں۔ ان ہاتھوں کا وقار ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر کسان مسکرائیں گے تو گھر آباد ہوں گے، اور اگر ان کا احترام ہوگا تو قوم مضبوط اور خوشحال ہوگی۔ کسان کے ہاتھ صرف مٹی نہیں تھامتے، وہ ہماری سانسوں، صحت اور مستقبل کو سنوارتے ہیں۔ پسینے کی ہر بوند میں قربانی چھپی ہے۔ ان ہاتھوں کا احترام دراصل انسانیت کا احترام ہے۔ جب کسان محفوظ ہوگا، تبھی معاشرہ مطمئن، قوم مضبوط اور وطن سرفراز ہوگا۔
