ڈھاکہ:۔ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے مضافاتی صنعتی علاقہ روپ گنج میں قائم ایک جوس فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی سے 52 لوگوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی ہے جبکہ درجنوں لوگ لاپتہ بھی بتائے جارہےہیں۔بہت بڑے پیمانے پر آگ بھڑکنے کے سبب کچھ لوگوں نے اپنی جان بچانے کے لیے کھڑکیوں سے باہر بھی چھلانگیں لگا ئی ہیں اور اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق ‘ ہاشم فوڈ اینڈ بیوریجز‘ نامی اس فیکٹری میںجمعرات کو شام قریب پانچ بجے آگ لگنے کی واردات پیش آئی تھی تاہم جمعہ کی صبح تک اس فیکٹری سے آگ کے شعلے بھڑکتے دکھائی دے رہے تھے۔ دریں اثناء فیکٹری میں کام کرنے والے کارکنوں کے رشتہ داروں اور فیکٹری کے دیگر مزدوروں اور کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کافی مزدور ابھی بھی فیکٹری کی عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں ۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں اب تک کم از کم 52 افراد کی اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔ قبل ازیں پولیس انسپکٹر شیخ کبیرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آگ لگنے کے اس حادثے میں کم از کم 30 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کچھ اس چھ منزلہ عمارت میں آگ کے شعلے تیزی سے بھڑکنے کے بعد بالائی منزل سے کود پڑنے کی وجہ سے زخمی ہوئےہیں۔آگ بجھانے والے عملے کے ایک ترجمان دبا شش بردھان کے حوالے سے میڈیا میں آئی رپورٹ کے مطابق ’’جب آگ پر مکمل طور پر قابو پالیا جائے گا تب ہم فیکٹری کے اندر سرچ آپریشن کر کے ہی بتا سکیں گے کہ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد کتنی ہے۔‘‘ اُدھر فائر فائٹرز نے فیکٹری کی عمارت کی چھت، جہاں نوڈلز اور مشروبات تیار کی جاتی تھیں، سے 25 افراد کو بچانے میں کامیاب بھی ہوئےہیں۔ آگ لگنے کے حادثے میں بچ کر فرار ہونے میں کامیاب ہونے والے ایک ورکر محمد سیفل نے بتایا کہ جب آگ کے شعلے بھڑکنا شروع ہوئے تو فیکٹری کے اندر درجنوں کار کن موجود تھے۔ ان کا کہنا تھاکہ تیسری منزل پر دونوں سیڑھیوں کے دروازے بند کر دیے گئے تھے۔ دیگر ساتھی یہ کہہ رہے ہیں کہ اُس وقت فیکٹری کے اندر 48 افراد موجود تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔فیکٹری کے ایک اور کارکن مامون نے بتایا کہ وہ خود اور 13 دیگر ورکرز آگ بھڑکتے ہی چھت کی طرف بھاگے اور دیکھتے دیکھتے فیکٹری کو سیاہ دھوئیں نے پوری طرح ڈھانپ لیا۔ مامون نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ آگ بجھانے والے عملے کے کارکنوں نے ہمیں رسی کے ذریعے نیچے اتارا۔‘‘ فیکٹری کی آتشزدگی کے سبب عمارت کے ارد گرد پھیلنے والے سیاہ دھوؤں کو دیکھتے ہی سینکڑوں افراد اپنے لواحقین کی خیریت جاننے کے لیے عمارت کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئے۔ انہی میں سے ایک نذرالاسلام بھی تھے جنہوں نے کہاکہ ہم یہاں اس لیے پہنچے کہ میری بھانجی کچھ دیر سے ہماری فون کال کا جواب نہیں دے رہی تھی اور اب تو فون کی گھنٹی بھی نہیں بج رہی ہے۔ ہم بہت پریشان ہیں۔
