گلبرگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔ضلع گلبرگہ کے تین تعلقوں کے تقریبا 50 دیہات کے لوگوں نے جمعہ کی رات کو زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے۔ اس واقعے نے لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنے گھروں سے بھاگ جائیں اور حفاظت کے لیے پوری رات باہر گزاریں۔ گلبرگہ رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر امیش جادھو اور سیڑم ایم ایل اے راجکمار پاٹل ٹیکور رات گئے گاؤں پہنچے اور گاؤں والوں کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ ضلعی حکام نے گاؤں والوں کو پرسکون کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور انہیں یقین دلایا کہ زلزلہ نہیں آیا۔ زلزلے کے جھٹکے گلبرگہ ضلع کے سیڑم، چنچولی اور کالگی تعلقہ جات کے گاؤں میں شام 7 بجے کے درمیان محسوس کیے گئے اور گاؤں والوں نے جمعہ کی رات 9 بجے شور بھی سنا۔ وہ اپنے گھروں سے باہر کھلے میدانوں میں بھاگتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ زلزلہ آیا ہے۔ دیہات میں ڈھول بجا کر لوگوں کو گھروں کے اندر نہ سونے کا اعلان کیا گیا۔ مقامی دیہاتیوں نے بتایا کہ وہ ایک طویل عرصے سے تیز شور، ہلکے جھٹکے محسوس کر رہے ہیں۔گڈیکسوارا کے دیہاتی ایک عرصے سے زلزلے جیسے جھٹکے محسوس کر رہے ہیں۔ تین تعلقہ جات کے 50 سے زیادہ دیہات نے جمعہ کی رات سونے کے دوران ا سے محسوس کیا گیا۔ دیہاتی اس قدر خوفزدہ تھے کہ انہوں نے اسے سمجھاجیسے یہ ان کی زندگی کا آخری دن ہے۔ گلبرگہ ضلعی عہدیدار واقعے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ چونے کے پتھر سے مالا مال ہے اور جب بھی پانی جمع ہوتا ہے تو ایک تیز آواز نکلتی ہے۔ گلبرگہ گاؤں تلنگانہ کے ضلع وقارآباد کی سرحد پر واقع ہے جہاں 20 اگست کی رات زلزلے محسوس کیا گیا تھا۔
