دہلی(انقلاب نیوزبیورو):۔ سپریم کورٹ نے فرضی خبروں پرتشویش ظاہرکرتے ہوئے کہاہے کہ کسی خبرکوفرقہ وارانہ رنگ دیناتشویش ناک ہے۔اورسوشل میڈیاکے زمانے میں یہ کافی بڑھ گیاہے۔مرکزنظام الدین دہلی کے معاملہ پرفیک نیوز اور فرضی خبروں کے خلاف ایک عرضی پرسماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کیاہے۔اس نے کہاکہ ویب پورٹلوں اوریوٹیوب چینلوں پرکوئی پابندی نہیں ہے۔اگرایسا رہا توملک کانام بدنام ہوگا۔جسٹس سوریہ کانت اورجسٹس اے ایس بوپناکی بنچ نے کہاہے کہ نجی میڈیاکے ایک طبقہ میں دکھائی گئی چیزیں فرقہ وارانہ رنگ کی ہوتی ہیں۔سپریم کورٹ میں کیبل رولز 2021 اور ڈیجیٹل میڈیا آئی ٹی رولز 2021 میں ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس جسٹس این وی رمنانے کہاہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ویب پورٹل پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ وہ جو چاہیں چلاتے ہیں۔ ان کا بھی کوئی احتساب نہیں۔ وہ ہمیں کبھی جواب نہیں دیتے۔ وہ اداروں کے خلاف بہت بری طرح لکھتے ہیں ،لوگوں کو بھول جاتے ہیں ، وہ ادارے کے لیے کچھ بھی لکھتے ہیں ہے اور ججوں کے لیے بھی۔ ہمارا تجربہ رہا ہے کہ وہ صرف وی آئی پی کی آوازسنتے ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ آج کوئی بھی اپنا ٹی وی چلا سکتا ہے۔ اگر یوٹیوب پر دیکھا جائے تو ایک منٹ میں بہت کچھ دکھایا جاتا ہے۔سی جے آئی نے کہا ہے کہ میں نے کبھی فیس بک ، ٹویٹر اور یوٹیوب کے ذریعے ایکشن نہیں دیکھا۔ وہ جوابدہ نہیں ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے پوچھا کہ کیا اس سے نمٹنے کے لیے کوئی طریقہ کار موجودہے؟ آپ کے پاس الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات کا انتظام ہے ، لیکن ویب پورٹل کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔ ان دو قوانین کو چیلنج کرنے والی کئی درخواستیں کئی ہائی کورٹس میں زیر التوا ہیں۔ بنچ نے کہاہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ہر چیز اور موضوع کو فرقہ وارانہ رنگ کیوں دیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس این وی رمنانے مرکزی حکومت سے پوچھاہے کہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کی نگرانی کے لیے کمیشن کے قیام کے وعدے کا کیا ہوا؟ اس پر کتنا کام ہوا ہے! این بی اے نے عدالت کوبتایاہے کہ انہوں نے ان قوانین کو چیلنج کیا ہے کیونکہ یہ قوانین میڈیا کی خود مختاری اور شہریوں کے حقوق کے مابین توازن قائم نہیں کرتے۔ قوانین میڈیا اور شہریوں کو سہولیات کے تین درجے دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پرنٹ پریس میڈیا کے لیے ریگولیشن اورکمیشن ہے ، الیکٹرانک میڈیا سیلف ریگولیشن کرتا ہے لیکن باقیوں کے لیے کیاانتظام ہے؟ سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ٹی وی چینلز کی دو تنظیمیں ہیں لیکن یہ آئی ٹی قوانین سب پر مل کر لاگو ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں دائر تمام درخواستوں کی چھ ہفتوں کے بعد ایک ساتھ سماعت ہوگی۔
