از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
سعودی عرب میں خواتین کی فوج بن کر تیارہوچکی ہے،خواتین کا پہلا دستہ تربیت پاکر سعودی فوج کا حصہ بن چکی ہے،افغانستان میں علماء برادری نے حکومت بنائی ہے اور افغانستان کو شرعیہ دائرے میں چلانے کا عزم کیاہے۔اسی طرح سے مختلف ممالک میں مسلمان ایک نئے رنگ روپ میں نظرآرہے ہیں،لیکن وطنِ عزیز بھارت میں مسلمان ابھی تک اپنی شکل بدلنے کیلئے تیارنہیں ہیں۔بھارت کے مسلمان فی الوقت سوشیل میڈیاکے بحث ومباحثے،کینٹین کے تبصرے،نائی کے دکان پر الیکشن کےتجزئیے،ٹرین کے ڈبوں میں مناظرے،واٹس ایپ گروپ میں ایک دوسرے کی کھینچ تان کے جال سے باہرنہیں نکلے ہیں۔ان کی دُنیا بس تصوراتی وخیالی دُنیا بن رہ گئی ہے اور جو نوجوان نسل ہے وہ نسل مستقبل کی فکر سے دور، حال سے نا واقف اور ماضی سے لاعلم نسل ہے۔ان کے نزدیک اگر کوئی خاص مقصد ہے تو وہ ہاتھوں میں مہنگے موبائل،وقت گذاری کیلئے سوشیل میڈیاپر نظریں،مزید ترقی کرکے ٹک ٹاکر،یوٹیوبر،ریلر بن رہے ہیں اور ان کاموں کو انجام دینے میں اس قدر مشغول ہوچکے ہیں کہ انہیں اچھے بُرے کی تمیز بھی معلوم نہیں ہے۔جس عمرمیں نوجوانوں نے انقلابات برپاکئے تھے،تحریکیں چلائی تھیں،جنگیں لڑی تھیں ،اُن کی عمرکے نوجوان آج بھی اب بھی مائوں کے لاڈلے ،باپ کے پیسوں پر پلنے والے،نہ دین کی فکر کرنے والے ،نہ دنیا داری کوجاننے والے بنے بیٹھے ہیں۔اب سوال یہ اٹھتاہے کہ آخر اس قوم کے نوجوانوں کی تربیت کیلئے کیا کیاجائے؟۔اس کاآسان حل یہی ہے کہ اب نوجوانوں کی تربیت کیلئے ،فکر کو بدلنے کیلئے ہمارے ملی ودینی قائدین اپنے طریقہ کار کو بدلیں۔نوجوانوں کو روایتی نصیحتیں کرنے کےبجائے موجودہ حالات کے مدِ نظر اُن کی تربیت کی جائے،انہیں اس بات کا احساس دلایاجائے کہ قوم کیاچیزہے،قوم کی امامت کیاہے،قوم کونوجوانوں سے کیا چاہیے،قوم سے نوجوان کیسے کام لے سکتے ہیں اور کس طرح سے ملت کاسرمایہ یہ لوگ بن سکتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی قومیں آج متحد ہوکر آگے بڑھنے لگی ہیں،جبکہ مسلم نوجوانوں کے گروہ اب بھی ہوٹلوں کے سامنے،کیرم کے اڈوں پر،شراب کی دکانوں میں،جوئے کےا ڈوں میں،سڑکوں کے کنارے بیکار وقت ضائع کرتے ہوئے،کالجوں کے سامنے گھومتے ہوئے،سواریوں پر چکر لگاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ایسے کئی سینکڑوں نوجوان ہیں جو تعلیم یافتہ ہیں لیکن ان کے پاس زندگی گذارنے کا کوئی مقصدنہیں ہے،کوئی طریقہ نہیں ہے،کوئی راہ دکھانےو الانہیں ہے،کوئی آسرا نہیں ہے۔ایسے میں ان نوجوانوں کی تربیت کیلئے وقتاً فوقتاً تربیت کا اہتمام کیاجائے۔اس میں مسلک مسلک کھیلنے کے بجائے اپنے ہی مسلک کے طریقہ کارسے رہنمائی کی جائے،یقیناً مسلک کو چھوڑ کر کوئی آنے والانہیں ہے لیکن مسلک کے دائرے میں رہ کر اپنے اپنے نوجوانوں کیلئے کام کریں،اُن کی زندگی بنائیںا ور اُن کےروزگارکیلئے راہیں بنائیں،تب جاکر قوم وملت میں بے روزگارکا خاتمہ ہوگا،شر ختم ہوجائیگا،نوجوان بے راہ روی کا شکارہونے کے بجائے راہِ راست پر چلنے لگیں گے،جب ان کے پاس خودکی نوکری اور ذمہ داری ہوگی تب جاکروہ جرائم سے پاک ہونے لگیں گے۔اسی طرح جمعہ کے خطبوں میں بھی نوجوانوں کی تربیت کی مہم چلائی جائے،عنوان کسی بھی فضیلت یا شریعت کے نکات کا ہو،ساتھ میں نوجوان کی تربیت کیلئے کم ازکم دس منٹ کا وقفہ نکالاجائے،ہر مسجدمیں اس طرح کانظام قائم کیاجائے اور یہ نظام خطبے کے آخری دس منٹوں میں رائج کیاجائے،کیونکہ اول کے خطبےمیں تو سوائے بزرگوں کے اور کوئی مسجدمیں داخل نہیں ہوتا۔جمعہ کادن مسلمانوں کی تربیت کیلئے بہترین موقع ثابت ہوسکتاہے،اس بہترین موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوانوں کی تربیت کیلئے قدم اٹھایاجائے،روزبروز جرائم میں مسلم نوجوانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے،اس تعدادمیں کمی لانے کیلئے اب مسلمانوں کو جاگنے کی ضرورت ہے،اگر اب بھی نہ جاگیں گے تو آنے والے دنوں میں حالات بد سے بدتر ہوسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس دُنیا میں ہر انسان کواپنا خلیفہ بنا کر بھیجاہے،اس دُنیامیں کوئی بھی بے مقصد پیدانہیں ہوا،بس ضرورت اس بات کی ہے کہ مقصد کو سمجھاجائے۔شاعر نے لکھا ہے کہ
تیرکی مانند اُٹھی ہے دعائے جبرئیل
اُٹھ تیراحامی وناصر ہو اللہ العالمین
