شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔شہر کے مختلف علاقوں میں اس وقت تعمیراتی کام عروج پر ہے ، لیکن کسی بھی علاقے میں نہ تواحتیاطی تدابیر اختیار کئے جارہے ہیں اورنہ ہی تعمیراتی کاموں کو صحیح ڈھنگ سے انجام دیا جارہا ہے۔ شہر بھر میں دھول، مٹی ، بڑے بڑے کھڈے، کیچڑ سے بھرے راستے ، کھودے گئے کھڈوں کو صحیح طریقے سے پُر نہ کرنے کی وجہ سے سواریوں کے حادثے ، زمین کی عریاں کاری کی وجہ سے پیڑ پودوں کا گرنا، عام بات ہوچکی ہے۔ ان تما م مسائل کیلئے کسی سے کچھ بھی نہیں پوچھا جاسکتا اورنہ ہی کوئی اسکے لئے ذمہ داری لینے کیلئے تیار ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں سڑکوں کی مرمت صحیح طریقے سے نہ ہونے کے سبب چلنے پھرنے والی سواریاں حادثوں کاشکار ہورہے ہیں۔ بعض مقامات پر دھول مٹی کی وجہ سے لوگ بیماریوں کا شکار ہونے لگے ہیںاور تو اور لوگوں کو سڑکوں کی تعمیر کےدوران جہاں چلنے پھرنے میں پریشانیاں ہورہی ہیں وہیں پر غیر تکنیکی طریقوں سےکھودے جانے والے کھڈوں کی وجہ سے کبھی بجلی کی تاریں کٹ رہی ہیں تو کبھی پینے کے پانی کی لائن منقطع ہورہی ہے۔ سڑک کنارے کھودے جانے والے کھڈوں کو دوبارہ پر بھی نہیںکیا جارہا جس کے سبب سواریاں یہاں تک کےپیر بھی کیچڑ میں پھنسنے لگے ہیں۔ جب متعلقہ افسروں سے سوال کیا جاتا ہے تو آسان جواب یہ ملتا ہے کہ اسمارٹ سٹی کام ہورہا ہے۔ تو یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا اسمارٹ سٹی کے نام پر لوگ گھروں سے نکلنا ہی بند کردیں۔ جسطرح سے مودی راج میں لوگ اچھے دن کے بجائے برے دن کے بھی طلب گار ہیں اسی طرح سے اب شیموگہ کے لوگ یہ کہنے کیلئے مجبور ہوچکے ہیں کہ "آپ ہمیں اسمارٹ سٹی نہ سہی نارمل سٹی کے ہی حالات بناکردیں”۔
