شیموگہ: ۔اس دفعہ ضمنی انتخابات میں ترقی، تحفظ و سیاسی مدعوں کو چھوڑ کر مسلم لیڈروں نے جسطرح سے دین اسلام کو سیاسی مدعا بنایا لیا ہے وہ قابل تشویش بات ہوتی جارہی ہے، حال ہی میں جے ڈی ایس کے ریاستی جنرل سکریٹری ظفراللہ خان نے اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ حضرت بلال کا کالارنگ اور کمار سوامی کا کالارنگ ایک ہے جس سے کمار سوامی کے رنگ کی تشبیہ حضرت بلال کے ساتھ کی جارہی ہے۔ ابھی اس معاملے کو گذرے چند وقت بھی گذرا نہیں تھا کہ بیدار کے رکن اسمبلی اور سابق ریاستی وزیر رحیم خان نے بسوا کلیان کے ضمنی انتخابات کی انتخابی تشہیر کے دوران پرجوش کے ساتھ کہتے ہوئے کہا کہ سدرامیا مسلمانوں کے مشکل وقت میں خدا کی شکل لیکر اُترے ہیں وہ ایک طرح سے مسلمانوں کیلئے خد اکا تحفہ کہہ سکتے ہیں۔ کرناٹک میں اب تک سیاسی معاملات میں اب تک اسطرح کے سیاسی ناٹک نہیں چل رہے تھے، لیکن اچانک کرناٹک کے مسلم سیاسی قائدین بھی اپنے سیاسی آقائوں کو خوش کرنے کیلئے جو الفاظ القاف کا استعمال کررہے ہیں وہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیاست کیلئے سالاکچھ بھی کریگا۔ ایکطرف سیاسی قائدین کی زبان درازی کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب مسلم سماج کے وہ قائدین جو غیروں کے تبصروں پر احتجاج کیلئے سڑکوں پر اُتر آتے ہیں وہ رحیم خان ، ظفراللہ جیسے لوگوں کی زبان درازی اور حماقتوں پر کیوں خاموشی اختیار کررہے ہیں۔ عام لوگوں کی باتوں پر جہاں شکایتیں درج ہوتی ہیں اور ان پر کارروائی کی جاتی ہے تو ان پر کیوں شکنجہ نہیں کسا جارہا ہے۔
