منگلورو:۔میڈیکل کالج کی طالبات اور طالب علموں کے گروپ کا ایک ساتھ سفر کرنے پر سورتکل ٹول پلازہ کے بجرنگ دل کارکنان کی طرف سے روکنے اور حملہ کرنے کے معاملے پولیس نے پانچ ملزمین کو گرفتارتو کرلیا مگر ایسی کمزور دفعات کے تحت کیس درج کیا کہ پولیس اسٹیشن میں ہی ان کی ضمانت کرکے انہیں رہا کردیا گیا ۔ پولیس کے اس رویہ پر عوام نے بے اطمینانی اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج میں زیر تعلیم مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے پانچ دوست ملپے بیچ پر سیر کے لئے گئے تھے ۔ جب وہ واپس منگلورو کی طرف لوٹ رہے تھے تو بجرنگ دل کارکنان کی ایک ٹولی نے سڑک پر ان کی کار روک کر حملہ کیا اور گالی گلوچ کرتے ہوئے ہنگامہ کھڑا کردیا ۔ ان بجرنگی حملہ آوروں نے ہندو لڑکیوں سے مسلمان لڑکوں کے ساتھ سیر اور سفر کرنے پر سوالات کھڑے کیے مگر بعد میں پتہ چلا کہ گاڑی پر صرف مسلم اور عیسائی طلبہ و طالبات تھیں ۔واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس انسپکٹر شریف نے مداخلت کی اور اس گروہی ہنگامہ پر قابو پالیا ۔ میڈیکل اسٹوڈنٹس کی ٹیم میں شامل ساویو ٹی آلنسو (20) کی شکایت پر پولیس نے قابل ضمانت دفعات کے تحت کیس درج کرنے کے بعد مورل پولیسنگ کے الزام میں بجرنگ دل ڈسٹرکٹ چیف پریتم شیٹی ، ارشیت، سرینواس ، راکیش اور ابھیشیک کو گرفتار کرلیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ میڈیکل کالج طالب علموں کی ٹیم میں کوئی ہندو لڑکی موجود نہیں تھی بلکہ اس میں 2عیسائی اور ایک مسلم لڑکا تھا اور تین مسلم لڑکیاں شامل تھیں ۔عوام اب پولیس کے رویہ پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب بنگلورو میں مسلم لڑکی ہندو لڑکے کے ساتھ گھومنے کے الزام میں مسلم نوجوانوں نے ہنگامہ کھڑا کیا تھا تو پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے ناقابل ضمانت دفعات لگائی تھیں اور انہیں جیل میں ٹھونس دیا تھا ۔ چیف منسٹر اور ہوم منسٹر تک اس معاملے میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کی مورل پولیسنگ کو کسی قیمت پر بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ پولیس نے سورتکل معاملے میں بجرنگ لیڈروں کے ساتھ ڈھیلا ڈھالا رویہ کیوں اپنایا ہے اور ایسی دفعات لگادیں ہیں کہ پولیس اسٹیشن میں ہی ان کی ضمانت ہوجاتی ہے ؟ ۔پولیس کمشنر ششی کمار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سورتکل معاملے کا کسی اور جگہ پیش آئے ہوئے معاملے سے موازنہ نہ کیا جائے ۔ پولیس نے کوئی نرم رویہ نہیں اپنایا ہے۔ جس قسم کی دفعات ضروری تھیں وہی لگائی گئی ہیں ۔
