روزہ نہ رکھیں،مریض چاہ رہاہے یہی،ڈاکٹر دے رہاہے وہی

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز

شیموگہ:۔دنیا بھر میںروزہ رکھنے اور روزے کے فوائد کے تعلق سے بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں،محققین نے روزے کے تعلق سے تحقیق کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کیاہے کہ روزہ رکھنے سے صحت پر منفی اثرات کے بجائے مثبت اثرات پیش آتے ہیں،لیکن پچھلے تین چار سالوںسےیہ بات دیکھی جارہی ہے کہ مسلمانوںکو بیشتر ڈاکٹر روزہ رکھنےسے منع کررہے ہیںاور اس بات کی دلیل دے رہے ہیںکہ روزہ رکھنے سے ان کی صحت پر اثر ہوگا۔لیکن مسلمان یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیںکہ ان کی تجویزکے پیچھے براہ راست تعصب ہے اور مسلمانوں کودین کے معاملات میں کمزور کرناہے۔شوگر، ہارٹ،بی پی،کولسٹرال،اسیڈیٹی ،حاملہ خواتین اورجگر کے امراض سے متاثر ہونے والے مریضوں کو کچھ سال پہلے تک لازمی طور پر روزہ رکھنے اور غذائی ضروریات کو کنٹرول کرنے کیلئے ڈاکٹرس روزہ رکھنے کی تجویز دیتے تھے،لیکن اچانک ڈاکٹروںکی تجویز میں فرق آنے لگاہے۔اب سیدھے سیدھے طور پر ڈاکٹرس مریض کو یہ تجویز دے رہے ہیں کہ وہ رمضان کے روزے نہ رکھیں،جبکہ میڈیکل سائنس میں روزے نہ رکھنے کیلئے کہیں بھی تحقیق نہیں ہوئی ہے،البتہ جو مریض شوگر میں مبتلا ہیں اور وہ انسولین کا استعمال کرتے ہیں وہ روزہ رکھنے کیلئے ڈاکٹروں سے صلاح مشورہ کرسکتےہیں۔ دیگر امراض اور حاملہ خواتین کیلئے ایسی کوئی تجویزنہیں ہے۔ مسلم ڈاکٹروں کا کہناہےکہ اکثر مریض یہی امید لیکر آتے ہیںکہ ڈاکٹر ایک بار کہہ دے کہ روزہ نہ رکھیں،بس اس کے بعد ان کی روزہ چھوڑنے کی عادت کو سرٹیفکیٹ مل جاتی ہے۔مسلم ڈاکٹروں کا کہناہے کہ مریض کسی بھی ڈاکٹر کے پاس اپنا علاج کروائیں،لیکن روزہ کا معاملہ آتاہے تو مسلم ڈاکٹروں سے ایک دفعہ صلاح مشورہ کرلیں۔اس سے رمضان کی تعظیم میں کمی نہیں آئیگی اور نہ ہی دین کو کمزور کرنے کی جو سازش غیروںکی جانب سے ہورہی ہے وہ کامیاب ہوگی۔