جبراً مذہب تبدیلیوں کے خلاف مہم چلائیگی کرناٹک حکومت

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹک میں پسماندہ ذاتوں اور اقلیتوں کی بہبود سے متعلق آئینی کمیٹی نے ریاست میں مشنری گرجا گھروں کے سروے کا حکم دیا ہے۔ بتایا گیا کہ اس کا مقصد غیر قانونی چرچ اور جبری تبدیلیوں کو روکنا ہے۔ حکومت کے بہت سے محکمے اور اضلاع کے کمشنر یہ خدمت انجام دیں گے۔یہ فیصلہ 13/ اکتوبر کو بی جے پی ایم ایل اے شیکھر کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں کیا گیا۔ ایم ایل اے نے کہا کہ یہ قدم ریاست میں جبری مذہب تبدیلیوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔بی جے پی ایم ایل اے نے کہا کہ پسماندہ ذاتوں کے نمائندوں اور محکمہ اقلیتی، ہوم، ریونیو اور محکمہ قانون نے بھی کہا ہے کہ ریاست میں تقریبا 1790 چرچ ہیں۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ اس بات کا پتہ لگایا جائے کہ ان میں سے کتنے غیر قانونی طور پر چلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کے مطابق جبری مذہب تبدیلی کے 36 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔شیکھر نے کہا ”جبری مذہب تبدیلی کی سماجی برائی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ کئی جگہوں پر رہائشی کالونیوں کو گرجا گھروں اور بائبل سوسائٹیوں میں بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ہمیں غیر قانونی پادریوں اور اس طرح کے گرجا گھروں کے بارے میں معلوم کرنا ہوگا اور ان کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ بائبل سوسائٹی اور گرجا گھر جو رجسٹرڈ نہیں ہیں اور اجازت نہیں دی گئی ہے وہ غیر قانونی سمجھے جاتے ہیں۔ ‘اس فیصلے کی مخالفت میں گرجا گھروں سے وابستہ کئی پادری کھڑے ہو گئے ہیں۔ ایک پادری نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے ہمارے مذہب کے لوگوں اور پادریوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ہم نے پہلے بھی ایسے واقعات دیکھے اور سنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر عیسائی مذہبی تبدیلیوں کو غلط طریقے سے کرتے ہیں تو ان کی تعداد اتنی کم کیوں ہے۔ حکومت کسی بھی مذہب کی عبادت میں مداخلت کی کوشش کیوں کر رہی ہے؟ لگتا ہے کہ وزیراعلی بنیاد پرست تنظیموں کے دباؤ میں ہیں۔