شیموگہ:۔ خواتین، بچوں اور کمزوروں کو بااختیار اور برابری فراہم کرنے کیلئےبنائے گئے خصوصی قوانین اورسہولیات سے آگاہ کرنے کا کام ہونا چاہئے۔ آشا، آنگن واڑی کارکنان اور اساتذہ سمیت تما م کو اپنی سطح پر ان قوانین کے بارےمیں معلومات ہونی چاہئے، اورہر کوئی اپنے کاموں کی جگہ آنےوالی ضرورتمند خواتین کو اسکے متعلق معلومات فراہم کرنا چاہئے۔ ان باتوں کا اظہار ضلع پنچایت سی ای او ایم ایل ویشالی نے کیا ہے۔ انہوں نے آج نیشنل ویمن کمیشن، حکومت ہند، کرناٹک اسٹیٹ لیگل سروس اتھارٹی، بنگلور، ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی، ضلع پنچایت اور ڈسٹرکٹ وکلاء اسوسیشن شیموگہ کے زیر اہتمام خواتین کے حقوق وقانونی بیداری پروگرام کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، بھارت کے آئین نے تمام کو یکساں حقوق دئے ہیں۔ خواتین کو مساوی تنخواہ، زچگی کی چھٹی اور دیگر سہولیات تمام شعبوں میںفراہم کی جاتی ہیں۔قانون کی نظر سبھی برابر ہیںاورتمام کو یکساں مواقع فراہم کرنے کےمقصد سےاور خواتین ،بچوں، پسماندہ اور کمزور طبقوں کو بااختیار بنانے کیلئے حکومتیں متعدد قوانین بنائے ہیں۔لیکن ان سب کی معلومات نہ ہونے کے سبب یہ سہولیات ان تک نہیں پہنچ پاتی ہیں۔ ایسے میںمعلومات رکھنے والی خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی مدد کریں یا ان تک معلومات پہنچانے کا کام کریں۔ نشست کی صدارت کررہی سینئرسول جج اور ضلع لیگل سروس اتھارٹی کی رکن وسکریٹری سرسوتی کے این نے بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین، بچوں اور کمزور طبقے قانون سے پوری طرح سےواقف نہیں ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے، حکومت ہند کی نیشنل ویمنس کمیشن اورقانونی خدمات اتھارٹی نے خواتین کے حقوق اور قوانین کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کیلئے اسطرح کے پروگراموں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اجلاس میں شریک وکلاء اسوسیشن کے صدر دیویندرپا این نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور کہا کہ اگر قانون ہو تو آرام دہ زندگی ممکن ہے۔عوام کو ، عوام کیلئے اورعوام سے ہی ملک کا وجود ہے اوریہی قانون ہمیں سیکھاتا ہے کہ سماج کے آخری طبقے کیلئے بھی قانون مساوی ہونا چاہئے۔ اس موقع پر محکمہ بہبودی خواتین واطفال کی افسر گنگو بائی سی نے کہا کہ خواتین اور بچوں کی ترقی کیلئے محکمہ نے کئی سہولیات فراہم کی ہیں۔ اسکو ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ گائوں ، گائوں اور کونے ،کونے میں آشاکارکن ، آنگن واڑی کارکنوں اوراساتذہ کو ان قوانین کے بارے بیداری لانے کا مطالبہ کیا۔
