موبائل کا استعمال بچوں کو سنگین نقصان پہنچا رہا ہے: جسٹس مصطفی حسین

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض کابھی خیال رکھتے ہوئے اس پرعلم کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر قانون کے نتائج جاننا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اسکی معلومات ہونا ضروری ہے۔ اس بات کا اظہار ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ جج مصطفیٰ حسین ایس اے نے کیا ہے ۔انہوں نے آج ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی، نیشنل سروس پلان، اے ٹی این سی سی کالج، ڈسٹرکٹ اٹارنی اسوسیشن اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ شیموگا کے زیر اہتمام خواتین اور بچوں کی غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق قانونی آگاہی پروگرام کے افتتاحی موقع پر خطاب کیا۔شہر کے اے ٹی این سی سی کالج ہال میں منعقدہ اس تقریب میںانہوںنے کہا کہ سب کومساوی  انصاف فراہم کرنے کیلئے قومی سطح سے لیکر تعلقہ سطح تک لیگل سروس اتھارٹی کے ذریعے عام لوگوں میں بیداری پیدا کرنے اور مفت قانونی مدد فراہم کرنے کیلئے کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 18سال سے کم عمر کے بچوں کو موٹر سائیکل یا دوسری گاڑی چلانے سے پہلے متعلقہ قوانین جیسے ڈرائیونگ لائسنس اور انشورنس سے واقف ہونا چاہیے۔ اس بات کو سمجھے بغیراگر کسی طالب العلم کے ساتھ کوئی حادثہ یا ناگریز واقع پیش آتا ہے تو پورے خاندان کو اسکا نقصان اورتکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ جدید دور میں موبائل کا استعمال بچوں کیلئے سنگین نتائج کا باعث بنتا جارہا ہے۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ موبائل کے بے تحاشہ استعمالات سے کئی طرح کے جرائم بڑھتے جارہے ہیں۔ اگر اس کو وقت رہتے نہیں روکا جاتا ہے تو ہماری نئی نسلیں، نوجوان طبقہ ، ذہینی، جسمانی اور قانونی مشکلات میں مبتلاء ہونے کے خوی امکانات ہیں۔ اس موقع پر اے ٹی این سی سی کالج پرنسپل پروفیسر ایچ ایم سریش، نیشنل ایجویشن کمیٹی کےنائب صدر اشوت نارائن شیٹی، ڈسٹرکٹ اٹارنی اسوسیشن کے صدر این دیویندرپا ، پروفیسر کے ایم ناگراجووغیرہ موجودتھے۔