بڑے کا گوشت حلال،چوری کرنا حرام،چوری کا گوشت کھاکر مسلمان ہورہے ہیں بدنام

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔اسلام میں چوری کرنا حرام ہے جبکہ بڑے جانوروں کا گوشت کھانا حلال ہے،لیکن ملناڈکے کچھ علاقوں میں بڑے جانوروں کی چوری کرتے ہوئے ان جانوروں کا گوشت عام مسلمانوں کو کھلا کر ساری قوم کو بدنام کرنے کا کام خود کچھ لوگ کررہے ہیں،بدقسمتی سے ان لوگوں کی اکثریت مسلم قوم سے ہے۔ملناڈمیں بڑے کے گوشت کاکاروبار برسوں سے چلتا آرہاہے اور یہاں کے قریش برادری وقصائی کسانوں اور تاجروں سے جانور خریدتے رہے ہیں۔لیکن پچھلے کچھ دنوں سے بڑے جانوروں کی چوری کرتے ہوئے کچھ لوگ قصائی خانوں کو تاجروں کی طرح پیشہ وارانہ طریقے سے جانوروں کی فروخت کررہے ہیں،ان جانوروں میں اکثر جانور غیر مسلموں کے پوجاپاٹ کیلئے استعمال ہونے والے جانور مانے جاتے ہیں۔ایسے ہی گروہ کو یہاں کے ساگر اور تیرتھ ہلی پولیس نے پکڑاہے جو جانوروں کی چوری کرکے انہیں تاجروں کی شکل میں جاکر قصائی خانوں کو فروخت کیا کرتے تھے۔سوال یہ ہے کہ جس جانورپر بسم اللہ کہہ بغیر ذبح کرنے پر مسلمان گوشت نہیں کھاتے،اُن مسلمانوں کو خود مسلمان ہی چوری کئے ہوئے جانوروں کا گوشت کھلا رہے ہیں۔حالانکہ عام خریداروں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتاہے کہ جانور چوری کا ہے یا خریداری کا، انہیں صرف گوشت سے مطلب ہے ۔لیکن یہاں سب سے بڑی ذمہ داری قصائی خانوں اور قریشیوںکی ہے جو چوری شدہ جانوروں کا اندازہ لگاکر بھی چوروں کے پاس سے جانور خریدرہے ہیں۔پچھلے دو مہینوں میں شیموگہ،داونگیرے اور ہاویری کے مضافات میں 20 سے زائد جانوروں کے چوروں کو گرفتارکیاگیاہے اور یہ چور شیموگہ،داونگیرے اور منگلوروسے تعلق رکھنے والے ہیں۔بتایاجاتاہے کہ منگلوروسے تعلق رکھنے والاایک گروہ جانوروں کی چوری میں مددکرتاہے اور وہ گروہ اس قدر ماہر ہوچکاہے کہ بڑے بڑے جانوروں کو چھوٹی کاروں میں بھی دباکر بھرلیتے ہیں اور انہیں قصائی خانے پہنچاتے ہیں۔اس تعلق سے کئی دفعہ پولیس نے چھاپے بھی مارے ہیں،ان چھاپوں میں غیرمسلم بھی گرفتارہوئے ہیں،مگر ہربار بدنام تو صرف مسلمان ہی ہورہے ہیں۔ان حالات میں خریداروں اور قریشیوں کوبنیادی طور پراحتیاط کرنے کی ضرورت ہے،ورنہ چوری کے جانوروں کو کھانے سے نہ صرف قانونی قصوروار کہلائینگے بلکہ عبادتوں اور دعائوں کا اثر بھی چلا جاتارہے گا۔یہ اور بات ہے کہ دکانداروں سے یہ پوچھانہیں جاسکتاکہ یہ مال چوری کاہے یا خریداری کا،البتہ اس سمت میں قریشیوں،عمائدین و علماء کوبھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اگر چوری کے جانوروں کو خریداجاتاہے تو ا س سے چوروں کے حوصلے بلند ہونگے،آخرمیں یہ پورا معاملہ مسلمانوں پر ہی تھوپا جائیگااور قوی امکانات ہیں کہ یہ معاملہ فرقہ وارانہ رنگ میں ڈھل جائیگا۔مسلسل بڑےجانوروں کی چوریوں کو انجام دینے والے نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرح کا کام کرتے ہوئے کاروبارنہیں بلکہ سب کو بربادی کی طرف لے جارہے ہیں۔تصویرمیں جن نوجوانوں کو دکھایاجارہاہے وہ نہ تو قریشی ہیں اور نہ قصائی ہیں،بلکہ وہ پوری طرح سے جانوروں کی تسکری کرنے والاگروہ کہاگیاہے۔شیموگہ ضلع پولیس نے ان ملزمان کو عدالتی تحویل میں بھیجاہے ،جہاں پر انہیں کچھ دن بعد ضمانت تو ملے گی،لیکن جو بدنامی اور بےعزتی ہورہی ہے وہ دوبارہ نہیں ملے گی۔اس سلسلے میں حقیقی قریشیوں کاکہناہے کہ ان چوروں سے ہمارا کوئی لینا دینانہیں ہے ،ہم جانوروں کی خریداری بازاروں یا کسانوں کے پاس کرتے ہیں اور اس کیلئےہم سند بھی لیتے ہیں،لیکن کچھ لوگ ہیں جو ان چوروں کی ہمت افزائی کررہے ہیں۔گوشت بھی ملتا ہے:کئی چور زیادہ پیسے کمانے کے چکرمیں سارے جانورکو قصائیوں کو فروخت کرنے کے بجائے سنسان علاقوں میں لے جاکر جانور کاٹتےہیں،ممکن ہے کہ یہ جانور ذبح شدہ بھی نہ ہوں،انہیں دکانوں میں لاکر فروخت کردیتے ہیں،جس سے انہیں خالص جانور سے زیادہ اچھی رقم مل جاتی ہے۔اسی چکرمیں یہ لوگ سنسان جگہ پر جانوروں کو مارکر قصائیوں کو گوشت فروخت کرتے ہیں۔ذبح اس لئے نہیں کہاجاسکتا کہ یہ لوگ چوری شدہ مال کو پاکی ناپاکی کی حالت میں ،بغیر وضویا نشے کی حالت میں جانور پر چھری پھراتے ہیں،اس بنیاد پر یہ گوشت حلال بھی نہیں کہاجاسکتااور یہی گوشت کچھ دکاندار فروخت کرتے ہیں۔