دہلی:۔ لکھیم پور کھیری کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یوپی حکومت سے کہا ہے کہ سپریم کورٹ تحقیقات کی نگرانی کے لیے ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کو مقرر کر سکتی ہے۔ عدالت جسے بھی درست سمجھے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم جسٹس راکیش جین کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج مقرر کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم ایک دن چاہتے ہیں۔ ہمیں جج سے بھی بات کرنی چاہیے۔ اب اس معاملے کی سماعت بدھ کو ہوگی۔ اس پر یوپی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے ہریش سالوے نے کہا کہ ہم کسی بھی جج سے تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔ سپریم کورٹ نے یوپی پولیس کی ایس آئی ٹی کو اپ گریڈ کرنے کی ہدایت دی ہے، جو اس جانچ میں شامل ہے۔ عدالت نے یوپی حکومت سے منگل تک آئی پی ایس افسران کی فہرست طلب کی ہے۔ سپریم کورٹ نے یوپی حکومت سے کہا کہ یہ افسران یوپی کیڈر کے ہوں، لیکن یوپی کے باشندے نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کے نام منگل تک طلب کئے گئے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کی جانچ کو لے کر سنگین سوالات اٹھائے تھے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے سماعت کے دوران واضح طور پر کہا تھا کہ ہمیں یہ کہتے ہوئے افسوس ہورہا ہے کہ ابتدائی طور پر ایسا لگتا ہے کہ 2 ایف آئی آر کو اوور لیپ کرکے ایک خاص ملزم کو فائدہ دیا جا رہا ہے۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہاکہ اب کہا جا رہا ہے کہ دو ایف آئی آر ہیں۔ ایک ایف آئی آر میں جمع ہونے والے شواہد کو دوسری ایف آئی آر میں استعمال کیا جائے گا، ایک ملزم کو بچانے کے لیے ایک طرح سے دوسری ایف آئی آر میں ثبوت اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دونوں ایف آئی آر کی الگ الگ جانچ ہونی چاہیے۔
