شیموگہ:۔شیموگہ شہرکے این ٹی روڈ اور او۔ٹی روڈ کے درمیان سوائی پالیہ کے قدیم قبرستان کو لیکر پچھلے چند دنوں سے جو تنازعہ چل رہاہے ،اس تنازعہ کو حل کرنے اور قبرستان کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے دن رات جدوجہد کی جارہی ہے،کمیٹی کے اراکین پوری ایمانداری کے ساتھ اس کام کو انجام دے رہے ہیں ،لیکن سوشیل میڈیامیں اس تعلق سے کچھ لوگ غلط فہمیاں پھیلارہے ہیں،اُنہیں چاہیے کہ وہ اس طرح کی غلط فہمیاں پھیلانے سے گریز کریں۔اس بات کی اپیل سوائی پالیہ کے قدیم قبرستان یعنی ٹیپوسلطان کے دورکے تحفظ کیلئے جدوجہد کررہی کمیٹی اور سوائی پالیہ جامع مسجدکے صدرواراکین نےکی ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں روزنامہ کوتفصیلات دیتے ہوئے کہاکہ سال1981 سے یہ معاملہ اے سی کے ریونیوکورٹ میں چل رہاہے،جبکہ شروعات میں اس معاملے کو صرف ایک اِملی کے جھاڑکی نسبت سے مقدمہ درج کیا گیاتھا،لیکن آہستہ آہستہ اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیاگیا۔یہ زمین صدفیصد مسلمانوں کی ہے،یہاں پر موجود قبریں ٹیپوسلطان کے لشکرکے سپاہیوں اور سپہ سالاروںکی ہیں،جب ٹیپوسلطان کے دورمیں توپوں کو یہاں محفوظ کیاگیاتھا تو اُس وقت سپاہیوں کی موت واقع ہوئی تھی،جس کی وجہ سے انہیں یہی پر دفن کیاگیاتھا۔یہ قبریں آگرہ،سری رنگاپٹن،نگر جیسے علاقوں میں موجود قبروں اور مزارت سے تشبیہ رکھتے ہیں،اس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ قبرستان مسلمانوں کا ہے۔کمیٹی کے صدروسکریٹری نے مزید بتایاکہ ریونیوکورٹ میں ہونے کے سبب اس معاملے کی سنوائی اور کارروائی تاخیر سے ہورہی تھی،لیکن اب اس معاملے کو سیول کورٹ میں درج کیاگیاہے،یہ معاملہ خالص عدالتی ہے،اس لئے اس پر صبر وتحمل سے کام کرناہوگا ، جذبات اورمشتعل ہوکر کام نہیں کیاجاسکتا۔اس درمیان بعض لوگ سوشیل میڈیامیں کمیٹی کے خلاف اور وکلاء کے طریقہ کار کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کررہے ہیں،اس سے نقصان ہی ہوگا ۔مزید درخواست کی گئی ہے کہ کمیٹی اپنا کام کررہی ہے،دیگر مسلمان اس سمت میں کمیٹی کا اخلاقی تعائون کریں اور ہمت افزائی کریں۔کمیٹی کے لوگ اس معاملے کو سلجھانے کیلئے ہائی کورٹ ودیگر سینئروکلاء سے بھی رجوع کرچکے ہیں اوراُن سے بھی مثبت رائے ملی ہے۔آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مسلمانوں کے حق میں ہی رہے گا،مسلمان کامیابی کیلئے بھی دعاکریں۔
