لدھیانہ:۔مجلس احرار اسلام ہند کے قومی صدر دفتر میں احرار کے کارگزار صدر غلام حسن قیصر کی صدارت میں مجلس عاملہ کی اہم میٹنگ ہوئی ،جس میں اتفاق رائے سے قائد نوجوان پنجاب کے شاہی امام مولانا محمد عثمان لدھیانوی کو مجلس احرار اسلام ہند کا قومی صدر چن لیا گیا ۔ قابل ذکر ہیکہ گزشتہ 10؍ستمبر کو امیر احرار شیر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی ؒکا انتقال ہو گیا تھا، جس کے بعد سے اس عہد پر قیصر کارگزار صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ قابل ذکر ہیکہ مجلس احرار اسلام ہند کا قیام 1929ء میں مشہور مجاہد آزادی رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی اول ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، چودھری افضل الحق مرحوم ، شیخ حسام الدین ،مرحوم جسے عظیم الشان مجاہد علماء نے لاھور میں کیا تھا ، احرار نے اپنے یوم قیام سے لیکر آج تک صف اول میں عقیدہ تحفظ ختم نبوتؐ کی تحریک چلائی ہے اور اسلام دشمن طاقتوں کو بھی بار ہاں ناکو چنے چبوائے ہیں ، ملک کی جنگ آزادی میں بھی مجلس احرار اسلام ہند کی عظیم الشان قربانیاں ہیں جن میں سول نا فرمانی کی تحریک ، انگریز فوجی بھرتی بائیکاٹ کی تحریک ، وہ معروف کارنامے ہیں جن سے انگریز خوفزدہ ہو گیا تھا ، احرار کے بانی و اول صدر رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی اول مرحوم نے اپنی خداداد جرائت مندانہ صلاحیتوں کے ساتھ منکرین ختم نبوتؐ کے گڑھ قادیان میں عقیدہ ختم نبوتؐ کا پرچم لہرا دیا تھا ، نیز رئیس الاحرار نے جنگ آزادی کے دوران انگریزوں کی جانب سے چلائی گئی ہندو پانی ، مسلمان پانی کی تفریق کو بھی ختم کر کے یہ بات واضع کردی تھی کہ احرار دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنانے کا فن رکھتے ہیں ، آج لدھیانہ کی تاریخی جامع مسجد کے احاطہ میں واقع مجلس احرار اسلام ہند کے قومی صدر دفتر میں اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے قائد احرار مولانا محمد عثمان لدھیانوی نے کہا کہ میں اپنے اکابرین اور احرار بانیان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت ؐ کا تحفظ کرتے ہوئے قادیانیت کی شرانگیزیوں سے بے نقاب کرتا رہونگا ، انہوں نے کہا کہ احرار کی تاریخ گواہ ہے کہ احرار نہ کبھی اللہ کے علاوہ کسی سے ڈرے ہیں اور نہ جھکے ہیں احرار اپنی روایتوں پرقائم رہیں گے ، مولانا محمد عثمان لدھیانوی نے کہا کہ مرحوم شیر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی ؒ نے جس بے باکی اور جرائت کے ساتھ ہمیشہ وقت کے حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھائی اس روایت کو مزید آگے بڑھایا جائیگا ۔
