شیموگہ : غذائی قلت اور خون کی کمی جیسے مسائل سےعوام کو بچانے کے مقصد سےحکومت نے 2024 تک ملک بھر میں معیاری وتغذیاتی چاول(یعنی طاقتور چاول) فراہم کرنے کا ہدف لیا ہے۔ ان باتوں کا اظہاردہلی کےپاتھ ادارے کے ریسورس پرسن، ستیہ برت پدھی نے کیا ہے۔ محکمہ خوراک، سویل سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئر اور مرکزی حکومت کی این جی او پاتھ ادارے کے اشتراک سے آج ڈپٹی کمشنر دفتر میں منعقدہ فورٹیفائیڈ رائس کے تعلق سے سینسٹیشن پروگرام کا اہتمام کیا گیا جس میں ریسورس پرسن کے طور پر انہوں نے بتایا کہ غذائیت سے بھرپور ان چاولوں کی اہمیت، اس کا معیار، پیداوار اور تقسیم کیلئے راشن کی دکانیں، اکشرا داسوہا، محکمہ بہبود خواتین واطفال،کے افسران اورعملے کو معلومات دی گئی ہے۔ ملک میں تقریباً 65 فیصد لوگ کھانے کیلئے چاول استعمال کرتے ہیں۔ وہ جو چاول استعمال کرتے ہیں اسے پالش کیا جاتا ہے اورپالش کئے ہوئے چاولوں میںصحت بخش غذائیت کاکوئی مادہ باقی نہیں رہتا ہے۔لہٰذا ملک میں لوگ غذائی اجزاء کی کمی جیسے خون کی کمی اور اندھے پن کا شکار ہیں۔ریاست میں تقریباً 65فیصد بچے، 49.4 خواتین اور 26.5 مرد خون کی کمی کا شکار ہیں۔ 19.5 لوگ عمر کے لحاظ سے اتنے لمبے نہیں ہیں اور 32.9 فیصد لوگوں کا وزن ان کی عمر کی مناسبت سے کم ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2024 تک ان مسائل سے بچنے کے مقصد کے راشن کی دکانوں میں، مالز، چاول کی فراہمی کے مراکز سمیت ہر جگہ فورٹیفائیڈ چاولوں کو آسانی سےفراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔چاولوں کے تھیلوں پر پلس ایف (+F) کی علامت کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ فوٹیفائیڈ رائس چاولوں کی نشانی ہے اور اس تصور کی وجہ سے باقاعدہ چاولوں کی شناخت کرنا بہت آسان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صرف چاول ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء مثلاً دودھ، نمک، تیل، گیہوںکا آٹاجیسی اشیاء میں ، آئرن، فائبر، فولک ایسڈ، وٹامن بی 12 اور وٹامن ڈی کی خوراک، مناسب مقدار میں ملاکر محکمہ خوراک اور مڈے میل کے کھانے میں استعمال کئے جانے کی اطلاع دی ہے۔ محکمہ خوراک، شہری سپلائی اور کنزیومر افیئرز کے جوائنٹ ڈائریکٹر منجوناتھن اور دیگر افسران اور عملہ اس وقت موجود تھا۔
