تمل ناڈو وقف بورڈ:15 سو سال پرانے مندر کی زمین کی ملکیت کا دعویٰ

نیشنل نیوز
چنئی: تمل ناڈو وقف بورڈ نے 1500 سال پرانی منادیاولی چندر شیکھر سوامی مندر کی زمین پر ملکیتی حقوق کا دعویٰ کیا ہے۔  تمل ناڈو کے تروچی ضلع کے تروچین تھورائی گاؤں اور اس کے آس پاس اس مندر کی 369 ایکڑ کی جائیداد ہے۔وقف بورڈ کا یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب ایک مقامی کسان نے اپنی زرعی زمین بیچنے کی کوشش کی۔جب راج گوپال نے تروچین تھورائی گاؤں میں اپنی 1.2 ایکڑ زمین کسی دوسرے شخص کو بیچنے کی کوشش کی تو رجسٹرار کے دفتر نے اسے بتایا کہ یہ زمین ان کی نہیں بلکہ تمل ناڈو وقف بورڈ کی ہے۔راج گوپال نے بتایا کہ رجسٹرار نے انہیں بتایا ہے کہ یہ زمین ان کی نہیں بلکہ تمل ناڈو وقف بورڈ کی ہے اور انہیں چنئی میں وقف بورڈ کے دفتر سے این او سی حاصل کرنا ہوگا۔  کسان نے رجسٹرار کو بتایا کہ اس نے زمین 1992 میں خریدی تھی۔ مالک ہونے کے باوجود اسے وقف بورڈ سے این او سی کیوں لینا پڑے گا؟راج گوپال کے مطابق تمل ناڈو وقف بورڈ نے دستاویزات کے محکمے کو 250 صفحات پر مشتمل ایک خط بھیجا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تروچین تھورائی گاؤں میں زمین کا کوئی بھی لین دین صرف این او سی کے ساتھ کیا جائے گا۔ تمل ناڈو وقف بورڈ نے یہ بھی کہا کہ گاؤں کی پوری زمین اس کی ہے۔ مقامی لوگ وقف بورڈ کی ہدایت کے بارے میں جان کر حیران رہ گئے اور گاؤں میں تقریباً سبھی کے پاس زمین ہے۔ بی جے پی تروچی ضلع سکریٹری الور پرکاش سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پورا گاؤں ہندو اکثریتی علاقہ ہے۔ وقف بورڈ اس جائیداد کی مالک کیسے ہوسکتی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں میں چندر شیکھر سوامی مندر کے قریب 389 ایکڑ اراضی ہے اور یہاں ایک 1500 سال پرانا مندر ہے۔ کیا یہ زمین بھی وقف کی ملکیت ہے؟ اس دوران تروچی کے ضلع کلکٹر نے راج گوپال اور دیگر لوگوں سے کہا جنہوں نے انہیں اس مسئلہ سے آگاہ کیا تھا کہ اس معاملے کی جانچ کی جائے گی اور آنے والے دنوں میں مزید کارروائی کی جائے گی۔  وقف بورڈ کی جانب سے کئے گئے دعوؤں کی تفصیلی جانچ جاری ہے۔