بنگلورو:۔سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آرایس) 2020 کی رپورٹ کے مطابق یہ تشویشناک حقیقت ہے کہ ریاست کرناٹک میں لڑکیوں کی تعداد میں روز بروز کمی واقع ہو رہی ہے، مرکزی حکومت کی طرف سے کرائے گئے سروے کے مطابق اس بات کاانکشاف ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت ریاست کرناٹک میں ہر ہزار لڑکوں کے مقابلے میں صرف 916 لڑکیاں ہیں۔ دیہی علاقوں میں فی ہزار لڑکیوں کی تعداد 942/ اور شہری علاقوں میں 871 ہے۔ اس چونکا دینے والی تعداد سے واقف ریاست کے محکمہ صحت کو الرٹ رہتے ہوئے جنین کے ٹسٹ کروانے والوں پر سخت نظر رکھنی چاہیے۔اورعام لوگوں سمیت پڑھے لکھے جاہلوں کو قبل از پیدائش کا پتہ لگانے کے قانون کے بارے میں بیداری لانے کی ضرورت ہے۔۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ غیر قانونی ایمبریو ڈٹیک شن سنٹرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ریاست میں سخت قوانین کے نفاذ کے پیش نظر جنین کی جانچ کا کام مہاراشٹر، تمل ناڈو اور آندھرا کی سرحد پر خاموشی سے جاری ہے۔ اس بارے میں معلومات جمع کرنے کے بعد مرکزی مجاز اتھارٹی کے عہدیداروں اور ریاستی مجاز اتھارٹی کے عہدیداروں نے مشترکہ طور پر کئی جگہوں پر چھاپے مارے ہیں۔ منڈیا ضلع ملولی تعلقہ میں ایک ا سکین سنٹر پر خفیہ آپریشن کر کے 9 لوگوں کے خلاف شکایت درج کرائی گئی۔ اس کے علاوہ کولار میں 6 مراکز، ٹمکور ضلع کے پاواگڈا میں تین مراکز، آندھرا پردیش کے ہندو پور میں چار مراکز اور بنگلورو میں ایک آئی وی ایف اور ایک اسکین سنٹر کے خلاف مقدمہ رجسٹر کیا گیا ہے۔ڈی رندیپ کمشنر ریاستی محکمہ صحت نے کہاکہ ہماری ریاست میں سخت قانون کے نفاذ کے پس منظر میں لوگ بیرونی ریاستوں میں جا کر ایمبریو کلنگ ٹسٹ کروا رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹروں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ معالجین لوگوں کوسمجھائیں کہ صنفی مساوات میں عدم توازن بڑھتا جارہاہے، معالجین لالچ میں نہ آئیں، جنین کی جنس کا تعین کرناقانون کے خلاف ہے۔اطلاعات کے مطابق لوگ ریاست کی سرحدوں سے باہر جنین کی تشخیص کروارکرانہیں ماں کے پیٹ میں ہی ماررہے ہیں۔ آندھرا کے ہندو پور میں چار مراکز پر چھاپہ مارا گیا ہے۔ بہت سے ڈاکٹروں کے بارے میں الزامات سننے کو مل رہے ہیں کہ وہ تربیت حاصل کر چکے ہیں اور جنین کا پتہ لگانے والے ا سکینراپنے فارم ہاؤز، فیکٹریوں اور گھروں میں رکھتے ہیں۔ماں کے پیٹ میں جنین کی تعیین پر پابندی کا ایکٹ 1994 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ریاست میں خاموشی سے کارروائی کی جارہی ہے۔اب تک عدالت میں 90 مقدمات درج کئے گئے ہیں،56 مقدمات میں سزائیں دی گئی ہیں۔34 مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں۔
