شیموگہ:۔پچھلے کچھ سالوں سے مسلم قیادت کو کمزور کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں نہایت چالاکی کے ساتھ کام کررہی ہیں اور اپنی اپنی پارٹیوں میں شامل مسلم لیڈروں وکارکنوں کو ایسے عہدے دیکر خوش کررہے ہیں جس سے کارکنان ولیڈران بھی خوش اور پارٹی بھی خوش ہورہی ہے۔حال ہی میں کانگریس پارٹی کی جانب سے کئی مسلم لیڈروں کوبلاک کانگریس صدر،سکریٹری اور دیگر عہدوں کی ذمہ داری دی گئی ہے،اس کے علاوہ اقلیتی شعبے کے صدرکا عہدہ بھی مسلمان کو ہی دیاگیاہے کیونکہ اقلیتوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہی ہوتی ہے۔ان عہدوں کو لیکر مسلم کانگریسی خوش ہوگئے ہیں جبکہ اصل عہدے جس سے مسلمانوں کی قیادت ممکن ہے اُن عہدوں کیلئے غیروں کو منتخب کیاجارہاہے،اس بات کو لیکر مسلمان نہایت لاپرواہی کامظاہرہ کررہے ہیں،لیکن پارٹی کی جانب سے دئیے جانے والے چھوٹے موٹے عہدوں پرلیکر مطمئن ہورہے ہیں ۔ شیموگہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہونے کے باوجود یہاں پرپچھلے25 سالوں میں ایک دفعہ میرعزیز احمد کو ایم ایل سی بنایاگیااور ایک دفعہ اسماعیل خان کو پارٹی نے اسمبلی حلقے کاٹکٹ دیاجس میں اسماعیل خان کو ہرانے کیلئے خود کانگریس پارٹی کے نامور اور قدآوارلیڈروں نے انہیں ہرانے کی کوشش کی تھی اس کے بعد کے ہر الیکشن میں مسلمانوں کو سوائے ووٹراور کانگریسی مسلم لیڈروں کو سوائے جئے جئے پکارنے کی ذمہ داری کے علاوہ اور کچھ نہیں دیا گیا۔وہیں ایم ایل سی کے معاملے میں بھی کئی دفعہ وعدے توکئے گئے مگر ہاتھ کچھ نہیں لگا۔کانگریس پارٹی میں بھدراوتی کے سینئرلیڈرسابق ڈپٹی مئیر ثناء اللہ کو پچھلے آٹھ انتخابات میں اسمبلی کی ٹکٹ کے بجائے دوسرے عہدے دینے کی بات کی گئی ،مگر کبھی یہ بات سچ ثابت نہیں ہوئی۔ہر الیکشن کے دوران ٹکٹ مانگنے والے مسلم لیڈروں کو دوسرے عہدے دینے کا وعدہ ایساکیاجاتاہے جیسے کہ رونے والے بچے کو لالی پاپ کی لالچ دی جاتی ہے ۔پچھلے چار انتخابات میں شیموگہ کے سینئرلیڈر امتیازخان کابھی یہی حال رہاہے،پارٹی ان سے فائدہ اٹھاتی رہی ہے مگر اس کے عوض میں انہیں صرف دلاسے اور وعدے ہی دیتی آئی ہے۔اس دفعہ لوگوں میں خودیہ سوال اٹھ رہاہے کہ آخر کب تک کانگریس کے مسلم لیڈران بے فائدہ عہدے لیکر قاعدے کے ساتھ کام کرتے رہے گیں اور اپنے آپ کو مسلم لیڈروں میں شمارکرتے رہے گیں۔
