دہلی: ہندوستان کے لاء کمیشن نے غداری قانون پر اپنی رپورٹ مرکزی حکومت کو سونپ دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی پی سی کی دفعہ 124 اے، جو غداری سے متعلق ہے، اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کچھ حفاظتی اقدامات کے ساتھ برقرار رکھا جانا چاہیے۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس پروویژن کے استعمال کے حوالے سے مزید وضاحت لانے کے لیے کچھ ترامیم کی ضرورت ہے اور سیکشن 124 اے کے غلط استعمال پر غور کرتے ہوئے رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ غلط استعمال کی جانچ کے دوران مرکز کو ماڈل گائیڈ لائنز جاری کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر قانون ارجن رام میگھوال کو اپنے کورنگ لیٹر میں 22 ویں لاء کمیشن کے چیئرمین جسٹس ریتو راج اوستھی (ریٹائرڈ) نے بھی کچھ تجاویز دی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ آئی پی سی کی دفعہ 124 اے جیسی شق کی عدم موجودگی میں، حکومت کے خلاف تشدد کو بھڑکانے والے کسی بھی اظہار کے خلاف خصوصی قوانین اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت ضرور کارروائی کی جائیگی۔ جس میں ملزمین سے نمٹنے کے لیے مزید سخت دفعات ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘آئی پی سی کی دفعہ 124 اے کو صرف اس بنیاد پر منسوخ کرنا کہ کچھ ممالک نے ایسا کیا ہے درست نہیں کیونکہ ایسا کرنا ہندوستان میں زمینی حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔۔نوآبادیاتی میراث ہونے کی بنیاد پر بغاوت کو منسوخ کرنا۔ اس کی منسوخی سے ملک کی سالمیت اور سلامتی پر اثر پڑ سکتا ہے۔آپ کو بتاتے چلیں کہ مرکزی حکومت غداری قانون میں ترمیم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسے لیکر پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں بھی تجویز پیش کی جا سکتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال مئی کے مہینے میں غداری کے قانون کو معطل کر دیا تھا۔ تب عدالت نے ریاستی حکومتوں سے کہا تھا کہ وہ اس دفعہ کے تحت تمام زیر التواء کارروائیوں میں اس وقت تک تحقیقات جاری نہ رکھیں جب تک کہ مرکزی حکومت کی طرف سے اس قانون سے متعلق جانچ پوری نہیں ہو جاتی۔ اس کے علاوہ سیکشن 124 اے کے سلسلے میں کوئی ایف آئی آر درج کرنے یا کوئی سخت قدم اٹھانے سے گریز کرنے کی ہدایت دی۔
