شیموگہ:۔ جب بھی کوئی الیکشن آتا ہے، سیاسی جلسہ منعقدہوتا ہے تو اچانک سماجی کارکنان، خادمینِ خلق اور ہمدردوں کی بھیڑ بھی سڑکوں پرامنڈ آتی ہے، اورجہاں دیکھو وہاں پر خدمت خلق کا جھنڈہ لئے گھوم رہے لیڈران دکھائی دیتے ہیں۔ کئی لیڈران تو ایسےہوتے ہیں کہ وہ الیکشن میںجیتیں یا ہاریں عوام کے درمیان رہ کرکام کریںگے،خدمت خلق کرنا انکا اولین فرض قراردیتے ہیں۔ الیکشن کے موقعوں پر جاری کرنے والے پمفلٹ وپوسٹرس میں جو وعدے دکھائی دیتے ہیں ان وعدوں کو پڑھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے، مانو کہ ان سے بڑے حاتم کوئی نہیں ہیں اور ان سے بڑا دل والابھی کوئی نہیں ہے، مگر کورونا کے ان سنگین ایام میں یہ تمام دردمند،ہمدرد،دل سے رونے والے ، راتوں کو نیندیں گنوانے والےاور چلاچلا کر اپنے آپ کو مسیحا کہنے والے لیڈران غائب ہوچکے ہیں اورعوام کی مدد کیلئے ہاتھ بڑھانے کے بجائے چھپ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ لیڈر نہیں بلکہ بارش کے مینڈک ہیں جو بادل دیکھ کر ٹر ٹرآتے ہیں۔ اس وقت کورونا کے پریشان حالات میں خدمت خلق کیلئے وہی سماجی وملی تنظیمیں خدمات انجام دے رہے ہیں جو خدمت خلق کو مستقل طورپر انجام دیتے رہے ہیں، انکے سامنے نہ کبھی الیکشن آیا ہے، نہ ہی یہ خادمین کبھی لیڈربننے کی چاہ رکھ رہےتھے۔ اس وقت وہ نوجوان ہی خدمت انجام دےرہے ہیں جن کے تعلق سے لوگوں کو امید بھی نہیں تھی، معمولی چھوٹے چھوٹے گروہ میں بڑے بڑے کام انجام دے رہے ہیں، اپنی معمولی کمائی کی بچت کو خدمت خلق کیلئے استعمال کررہے ہیں، جبکہ ایسی کئی تنظیمیں بھی ہیں جو رمضان، بقرعید ، ماہانہ چندہ، سالانہ چندہ لیکربھی لوگوں کی خدمت کیلئے ایک روپیہ خرچ نہیں کررہے ہیں۔ اس وقت قوم کو طبی ومعاشی امداد کی ضرورت ہے، ایسے میں الیکشن میں 10 لاکھ، 20 لاکھ خرچ کرنے والے لیڈران کا دور دور تک پتہ نہیں چل رہا ہے۔ جب برے وقت میں ہی یہ لوگ کام نہیں آرہے ہیں تو اندازہ لگائےکہ اچھے وقت میں کیسے کام آئیںگے۔ ہرطرف نفسی نفسی کا عالم ہے، غریب ومتوسط گھرانے کے لوگ پریشان حال ہیں، مگر مالدارطبقہ، سیاستدانوں کا طبقہ اورالیکشن لڑنے والوں کا جھنڈ اس وقت راحتی کام سے دور ہوچکا ہے۔ کچھ ہی لوگ باربار خدمت خلق انجام دے رہے ہیں،اورکچھ مخصوص کمیٹیاں ہی اس کار خیر میں حصہ لے رہے ہیں۔ اب عام لوگوں کوہی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں بارش کے مینڈک چاہئے یا پھر مستقل کام کرنے والے بے لوث خدمتگار؟۔
