بہوجن کرانتی مورچہ کے ریاستی اڈیشنل انچارج نے خصوصی انٹرویومیں مسلمانوں سے کی خصوصی اپیل
شیموگہ:۔بہوجن کرانتی مورچہ کے ریاستی اڈیشنل انچارج عبدالعزیزنے انقلاب نیوزکو انٹرویودیتے ہوئے کہاکہ آر ایس ایس سماج میں جتنا خوف پھیلانےکی کوشش کررہاہے،اُس کےمقابلے میں بہوجن کرانتی مورچہ لوگوں میں خوداعتمادی کرنےکیلئے کام کررہاہے۔آر ایس ایس کے ہر عمل کا ردِ عمل پیش کرنے کیلئے بمسیف کے قومی صدر وامن مشرم کام کررہے ہیں،جب این آر سی اور سی اے اے کا سلسلہ شروع ہواتھا تو اُس وقت نے بمسیف نے اس بات کا مطالبہ کیاتھاکہ این آر سی اور سی اے اے کاغذکی بنیادپرنہیں بلکہ ڈی این اے کی بنیاد پر کی جائے،اس دعوے کے بعد آر ایس ایس خاموشی ہوگیا اور این آرسی کے معاملے کو دبا دیا ہے ، اسی طرح سے گیان واپی مسجدکا مسئلہ چل رہاہے، اس پر بمسیف کی بُدھسٹ ونگ کی جانب سے اس بات کا مطالبہ کیاگیاہے کہ بھارت کےتمام مندروں کا سروے کرنے کا مطالبہ کیا ہے،جس کی وجہ سے سنگھ پریوارمیں بوکھلاہٹ پیداہوئی ہے۔مزید انہوں نے بتایاکہ آزادی کے75 سال کے بعد سے مسلسل ہندو مسلم فسادات،غربت اور بے روزگار ی کے مسائل سے جوج رہاہے،ایسے میں کانگریس ہویا بی جے پی دونوں ہی یہاں کی عوام کا استحصال کررہے ہیں،ایسے میں بھارت کے لوگ تیسری طاقت کو مضبوط کرنے کیلئے لگے ہوئے ہیں اور یہی کام بمسیف کررہاہے۔جب ان سے یہ پوچھا گیاکہ کرناٹک میں اس وقت کانگریس کی حکومت ہے اور اس حکومت سے یہاں کے مسلمان ، دلت اور پسماندہ طبقات مطمئن ہیں تو کیوں کانگریس حکومت کی مخالفت کی جائے؟تو اس پرانہوں نے بتایاکہ یقیناً ریاست میں کانگریس حکومت نے عوام کیلئے مختلف منصوبے جاری کئے ہیں ، لیکن یہ منصوبے عارضی طورپر لوگوں کیلئے مددگار ہیں ، لوگوں کو2000 روپئے کھاتوں میں جمع کرنا،مفت بس کی سہولت دینےاور مفت بجلی دینے کے بجائے اگر ہر گھرکیلئے روزگار کے وسائل فراہم کئے جاتے ہیں تو یہ مستقل حل ہوگا، اس طرح سے عارضی منصوبوں سے جو لوگ مطمئن ہیں وہ دورکی نہیں سوچ رہے ہیں ۔ کرناٹک حکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری خزانے کو خالی کرنے کے بجائے سرکاری خزانے کے ذریعے سے لوگوں کو روزگار فراہم کرے۔اگلے پارلیمانی انتخابات کیلئے اپوزیشن جماعتیں متحد ہوئی ہیں،لیکن تمام اپوزیشن جماعتوں کو ای وی ایم مشینوں کاڈرستایاجاہاہے،جب تک ای وی ایم مشینوں کا سلسلہ جاری رہے گا اُس وقت تک بی جے پی کو اقتدارسے دورنہیں کیاجاسکتا، اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ای وی ایم مشینوں کی مخالفت کریں اور انتخابی نظام سے اسے ہٹانے کی پہل کریں ۔اس سلسلے میں بمسیف سپریم کورٹ سے رجوع کرچکی ہے، بمسیف کی جدوجہد سے ہی سپریم کورٹ میں وی وی پیاٹ کو نافذ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں،اب ہماری کوشش ہے کہ ای وی ایم مشینوں کو ختم کرنے کیلئے پہل ہو ۔ اس موقع پر انہوں نے بتایاکہ بنگلورو،ہبلی اور شیموگہ کے نوجوان یواے پی اے کا سامنا کررہے ہیں ، اس کیلئے بمسیف بھی اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے تیار ہے،دراصل ایسے فسادات کانگریس اور بی جے پی کیلئےایک غذاکی طرح ہے ، جب فسادات ہوتے ہیں تو مسلمان کانگریس کی طرف جاتے ہیں اور ہندو بی جے پی کی طرف جاتے ہیں ، دونوں ہی فسادات کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کررہے ہیں۔جب تک مسلمانوں میں سماجی اور سیاسی لیڈرشپ نہیں بڑھتی اُس وقت تک وہ سیاسی سازشوں کا شکارہوتےہی رہیں گے۔اس بات کو لیکربمسیف مسلمانوں میں سیاسی بیداری لانے کیلئے راشٹریہ مسلم مورچہ کے بیانرتلے کام کرر ہا ہے ، مسلمانوں کو صرف الیکشن کے وقت پر سیاست میں سرگرم ہونے کے بجائے ہر معاملے میں سیاسی نظریات کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے ، برتھ سرٹیفکیٹ سے لیکر ڈیتھ سرٹیفکیٹ تک سیاست چلتی رہتی ہے،ایسے میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سیاست سے دورنہ رہیں،اگر ایسارہاتو دوسرے انہیں سیاسی طورپر ختم کردینگے۔
