شیموگہ:۔عام طورپر ایم ایل اے الیکشن کیلئے مسلمانوں میں خاص تجسس پایاجاتاہے اور ایم ایل اےالیکشن کو ہی آخری حدکا الیکشن مانتے ہیں،لیکن اسمبلی الیکشن کے علاوہ اور ایک الیکشن ہے جو ایم ایل سی یعنی ودھان پریشدکے رکن کیلئے کیاجاتاہے۔اس وقت ٹیچرس اسمبلی حلقہ اور گریجوئٹ اسمبلی حلقہ کے ایم ایل سی کے انتخاب کیلئے ووٹروں کا رجسٹریشن چل رہاہے،جس کیلئے مسلمانوں کو خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے،اسمبلی میں منظورہونےوالے قوانین کی منظوری ودھان پریشدکے اراکین کرتے ہیں اس وقت کرناٹک کے ودھان پریشدمیں اکثریت بی جے پی اراکین کی ہےجبکہ اگلے سال کے آغازمیں نئے سرے سے ایم ایل سی کے انتخابات ہونگے،ان انتخابات میں گریجوئٹ اسمبلی حلقہ اور ٹیچرس اسمبلی حلقہ کیلئے ووٹنگ کی جائیگی۔ٹیچرس اسمبلی حلقے کیلئے وہ اساتذہ ووٹ دے سکتے ہیں جوہائی اسکول اور کالجوں میں بطور ٹیچریا لکچرر خدمات انجام دے رہے ہیں،جبکہ گریجویٹ کانسٹیٹیونسی کیلئے سال2020 سے پہلے کسی بھی منظورشدہ یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کئے ہوئےافراد بطور ووٹر ووٹ ڈال سکتے ہیں،لیکن اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ اُنہیں گریجوئٹ کانسٹیٹیونسی کی لسٹ میں اپنا نام درج کراناہوگا ۔فی الحال یہ سلسلہ شروع ہوچکاہے،جس کیلئے گریجوئٹ کانسٹیٹیونسی نام رجسٹرکرانے کیلئے الیکشن کمیشن کی طرف سےجاری کردہ اپلیکیشن فارم نمبر18پر تفصیلات درج کرتے ہوئےووٹر آئی ڈی کارڈ،دو فوٹو،کانوکیشن سرٹیفکیٹ یا تینوں سال کی سرٹیفکیٹ دیناہوگا۔ہر بار گرایجویٹ کانسٹیٹیونسی مسلم ووٹروں کی تعدادنہ کہ برابرہوتی ہے،جس کی وجہ سے گریجویٹ کانسٹیٹیونسی کا ایم ایل سی عام طورپر بی جے پی سے منتخب ہوتاہے۔اس وجہ سے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس دفعہ ایم ایل سی الیکشن میں پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے ناموں کا اندراج کرائیں،مزید معلومات کیلئے آج کا انقلاب کے دفتر سے بھی رابطہ کیاجاسکتاہے اور آج کا انقلاب کے دفترمیں اس رجسٹریشن کا فارم بھی حاصل کیا جاسکتاہے۔فارم بھرتی کرنے کے بعد روزنامہ آج کا انقلاب کے دفتر کوپہنچائیں۔مزید معلومات کیلئے اس نمبر پررابطہ کرسکتے ہیں ۔ 9741641612
