راجدھانی بنگلورومیں وقف کا بڑا گھوٹالہ:جی اے باوا سمیت کئی افراد پر ایف آئی آر درج

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

بنگلورو:۔شہرکے کبن پیٹ میں موجود حضرت حمید شاہ اورحضرت محیب شاہ قادری وقف انسٹیٹیوشن میں بڑے پیمانے پر گھوٹالے ہونے کی بات کو لے کریہاں کے ہلسورگیٹ پولیس تھانے میں سماجی کارکن عالم پاشاہ نے ایف آئی آر درج کروائی ہے،جس میں سابق ڈی سی پی اورادارے کےصدرجی اے باواسمیت کئی افراد کا نام شامل ہے۔سماجی کارکن عالم پاشاہ نے ہلسورگیٹ پولیس تھانے میں شکایت درج کروائی ہے،جس میں بتایاگیاکہ حضرت حمید شاہ اور حضرت محیب شاہ قادری وقف ادارے ہیں،اس ادارے کے صدراور اڈمنسٹریٹر جی اے باوا گذشتہ آٹھ سالوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔جوائنٹ سکریٹری کےطورپر سید رشید احمد،ضیاء اللہ شریف(سابق صدر سی ایم اے)اس ادارے سے جڑے ہوئے ہیں،اس ادارے کے ماتحت 128 کمرشیل دکانیں،کوآپریٹیو بینک ،کالج کی عمارت،پارکنگ،مسجد،درگاہ اور گنبد موجودہے۔وقف ادارے کو سالانہ1 کروڑ روپئے سے زیادہ آمدنی ہے،جس میں سے7 فیصد کی آمدنی وقف بورڈکو اداکی جارہی ہے۔سال2018 سے اب تک ایم پی اے ایل ڈی فنڈسے173492روپئے اس ادارے کو منظورکئے گئے ہیں،لیکن اس رقم کو باوا،رشیداحمداور دوسرے لوگوں نے اپنے ذاتی اخراجات کیلئے استعمال کرتے ہوئے ادارے کو نقصان پہنچایاہے۔اسی طرح سے سال2023 میں ادارے کے جوائنٹ سکریٹری سید رشیداحمد کے نام پر38 لاکھ28ہزار438 روپئے کا چیک جاری کیاگیاہے،ای پی ایف کیلئے مختص کردہ 3 لاکھ29 ہزار808 روپئے کی رقم بھی جی اے باوانے اپنے لئے استعمال کرتے ہوئے ادارے کو دھوکہ دیاہے۔ادارے کی جانب سے وقف بورڈکو18لاکھ60 ہزار روپئے اداکرنے تھے،لیکن وہ رقم بھی ادانہیں ہوئی ہےاور اس رقم کو بھی ذاتی استعمال کیلئے حاصل کی گئی ہے۔سال2021 میں حمید شاہ کامپلکس سے40لاکھ50 ہزار روپئے کرایہ کے طورپر وصول کئے گئے ہیں،اس رقم کوادارے کے اکائونٹ میں جمع کر نے کے بجائے اسے بھی جی اے باوااور دوسرے لوگوں نے ہضم کیاہے۔سال2023 میں بھی 158 کمرشیل شاپس کا کرایہ1کروڑ70 لاکھ روپئے وصول نہ کرتے ہوئے ادارے کو نقصان پہنچانے کی شکایت کی گئی ہے۔حمید شاہ کامپلکس میں لاکھوں روپیوں کا غبن ہواہے،جس میں راست طورپر وظیفہ یاب ڈی سی پی جی اے باوا،ضیاء اللہ شریف،سید رشید احمد،جاوید پٹیل نے کروڑ روں روپیوں کاحساب نہ دیتے ہوئے گھوٹالے کو انجام دیاہے،اس لئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔شکایت موصول ہونے کے بعد ہلسورپولیس تھانے میں ملزمان کے خلاف بی این ایس2003 کے مطابق3(5)،316(2)،316(4)،318(4)اور61(2)کے تحت معاملہ درج کیاگیاہے۔غورطلب بات ہے کہ ایک طرف نئے وقف قانون کی مخالفت کرنے کیلئے مہم چلائی جارہی ہے،تو دوسری طرف خود مسلمانوں کا طاقتورطبقہ وقف اداروں کو دیمک کی طرح کھوکھلاکررہاہے۔