ادارۂ فروغِ اردو ہبلی کے زیرِ اہتمام تعزیتی اجلاس

اسٹیٹ نیوز

 

ہبلی۔ ادارۂ فروغِ اردو ہبلی کے زیرِ اہتمام ایک پُرووقار تعزیتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کی معزز ادبی، سماجی، تعلیمی اور علمی شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے ممتاز اسلامی شاعر عزیزالدین عزیز بلگامی مرحوم کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اجلاس کا آغاز مولانا کفایت اللہ مکاندار کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد مجیب اللہ مکاندار نے مرحوم کا نعتیہ کلام بڑے سوز و عقیدت سے پیش کیا۔ادارۂ فروغِ اردو ہبلی کے صدر خالد احمد جمعدار نے مرحوم کی علمی و تحقیقی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عزیز بلگامی معروف شاعر عطاالرحمٰن عطا ہبلی کی حیات و خدمات پر ایم۔فل کا تحقیقی مقالہ تحریر کیا تھا، جو ان کی سنجیدہ علمی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کی شخصیت میں سادگی، شرافت، اصول پسندی اور دینی شعور نمایاں تھا۔مرحوم ترنم کے بادشاہ نعتیہ کلام کے ماہر ، سوز اور صداقت کی پہچان تھی ۔معروف ادبی شخصیت اور سابق پرنسپل ٹیپو شہید انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شتاق احمد مُلّا نے مرحوم کا جامع تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ عزیز بلگامی ایک منکسرالمزاج، شائستہ اور فکری وقار رکھنے والے شاعر تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں یہ سعادت حاصل ہوئی کہ انہوں نے مرحوم کا تفصیلی انٹرویو دوردرشن کے لیے ریکارڈ کیا، جس کے ذریعے عزیز بلگامی کو قومی سطح پر شناخت اور پذیرائی ملی۔ ان کے مطابق مرحوم کی گفتگو اور شخصیت دونوں میں سچائی، نرمی، دین داری اور وقار نمایاں تھا۔مولوی کفایت اللہ مکاندار عرف چراغ ہبلوی نے اپنے بیان میں کہا کہ مرحوم کی زندگی قرآن و سنت کی عملی تصویر تھی۔ سودی نظام سے اجتناب کرتے ہوئے بینک کی ملازمت چھوڑ دینا ان کے ایمان، دیانت اور دینی غیرت کا روشن ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزیز بلگامی نے ہمیشہ تقویٰ کی بنیاد پر فیصلے کیے۔وہ امت کے دکھوں کا ترجمان، اخلاص وادب کے درخشاں ستارے تھے۔ ان کاکلام نوجوانوں کیلئے ایک مشعلہ راہ ہے۔ معروف شاعر عبدالرشید شاد نے کہا کہ عزیز بلگامی ان خوش قسمت شعرا میں شامل تھے جنہوں نے خالص اسلامی فکر، ایمانی حرارت اور اصلاحی پیغام کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا۔ ان کا خلا برسوں محسوس کیا جاتا رہے گا۔تقریب سے سابق چیئرمین اقلیتی کمیشن حکومتِ کرناٹک ڈاکٹر عبد الکریم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عزیز بلگامی سادگی، اصول پسندی، اعلیٰ اخلاق اور مضبوط کردار کے حامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے عمل اور زبان دونوں سے دین کی خدمت کی، اور نوجوان نسل کے لیے ان کی زندگی ایک روشن عملی مثال ہے۔اور ان کا کلام دلوں کو جگاتا ہے اور تقویت بخشتا ہے۔ پروگرام سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین اردو اکیڈمی اورسکریٹری انجمن اسلام دھارواڑپروفیسر ڈاکٹر قدیر ناظم سرگرو نے عزیز بلگامی کے فکری، ادبی اور بالخصوص نعتیہ مقام پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عزیز بلگامی نعت کے صرف شاعر نہیں بلکہ نعت کے خادم تھے۔ ان کی نعتوں میں عشقِ رسول ﷺ کا جو سوز، خلوص اور روحانی تاثیر ہے وہ دلوں کو منور کر دیتی ہے۔ ان کے کلام میں لطافت، پاکیزگی اور دینی جذبہ اس سطح پر ملتا ہے کہ قاری کے دل میں نور کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ڈاکٹر ناظم نے کہا کہ بلگامی کی شاعری محض جذبات نہیں بلکہ دعوت، اصلاح اور روحانی تربیت کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسلام کی روح کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے علامہ اقبال، مولانا جلالدین رومی ، حفیظ جالندھری، حافیظ میرٹھی جیسے عظیم فکری ستونوں کے ساتھ ساتھ عزیزالدین عزیز بلگامی جیسے صدقِ دل رکھنے والے شاعر کو بھی پڑھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزیز بلگامی کے اشعار انسان کو دین، اخلاق اور عشقِ رسول ﷺ کے قریب لے آتے ہیں، اسی بنا پر انہوں نے مرحوم کو اسلام کا سچا پیکر ،عشق رسول ،دلوں کا شاعر ، امت مسلمہ کی آواز اور ادب کا درخشاں ستارہقرار دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں جب بھی نعتیہ ادب پر علمی اور تحقیقی کام ہوگا تو عزیز بلگامی کا نام ایک مستند، معتبر حوالہ رہے گا۔ ان کا مجموعۂ کلام نہ صرف ادبی حلقوں بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک قیمتی سرمایہ ہے۔مرحوم عزیزبلگامی کی رحلت ملت اسلامیہ کے لئے ایک ناتلافی نقصان ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملت کو ان کا نعمل بدل عطا فرمائے۔ اجلاس کے اختتام پر پروفیسر جاوید خطیب نے اظہارِ تشکر پیش کیا، جبکہ نظامت کے فرائض ادارۂ فروغِ اردو کے رکن اور ڈائریکٹر و ایگزیکٹیو ٹرسٹی ثنا شاہین، محمد ایوب سونور نے نہایت وقار، سلیقے اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیے۔تقریب میں شہر کی معزز شخصیات پروفیسر سردار حسین، حیدر مظہری، غلام رسول، ڈاکٹر رضوی سونور، شبیر کرڈی گڈ، عزیز بروجو والے، خلیل منیار، شکیل قاضی، اقبال لشکری، غفران مُچالے، شاہنواز مُلّا، مسعود خطیب ، عمران سنڈکے ،نذیر احمد لکنڈی ، افضل اونٹی اور زین العابدین نے شرکت کی، جس سے اجلاس کے وقار میں مزید اضافہ ہوا۔ چراغ ہبلوی کی دعا کے ساتھ تعزیت نشت کا اختتام ہوا۔