شیموگہ:۔کانگریس پارٹی میں اقلیتی طبقے کے ساتھ ناانصافی ہونے کا الزام سامنے آیا ہے۔ معروف وکیل اور کانگریس لیڈر ایچ جی نیاز احمد خان کو لکھے گئے ایک مکتوب میں پارٹی قیادت پر اقلیتوں سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔مکتوب میں کہا گیا ہے کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں اقلیتی طبقے نے سو فیصد حمایت کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کو کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں پارٹی 139 نشستیں جیت کر کرناٹک میں اقتدار میں آئی۔ مکتوب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پارٹی کی کامیابی میں اقلیتی کارکنان اور قائدین کی ایمانداری اور محنت کا بڑا حصہ رہا، تاہم اقتدار میں آنے کے بعد پارٹی کی جانب سے اقلیتوں کو مناسب نمائندگی اور عہدے دینے کے وعدے پورے نہیں کیے گئے، جس سے اقلیتی طبقے میں مایوسی پائی جا رہی ہے۔مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاست میں جلد ہی مختلف کارپوریشنوں، بورڈز اور اداروں کے صدور اور ڈائریکٹرس کی مدت ختم ہونے والی ہے۔ ایسے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہر ضلع میں ان عہدوں پر اقلیتی قائدین اور کارکنان کو لازمی طور پر نامزد کیا جائے تاکہ اقلیتوں کو ان کا حق مل سکے اور پارٹی کے ساتھ ان کا اعتماد مزید مضبوط ہوسکے۔مکتوب نگار نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ طویل عرصے سے کانگریس پارٹی کے ایک مخلص کارکن کے طور پر دن رات کام کرتے رہے ہیں اور شیموگہ سٹی اسمبلی حلقہ سے پارٹی ٹکٹ کے خواہشمند بھی تھے۔ بی فارم نہ ملنے کے باوجود انہوں نے اقلیتی ووٹروں کو متحد کر کے کانگریس امیدواروں کو کامیاب بنانے میں بھرپور محنت کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی ریاستی اور مرکزی قیادت پر انہیں مکمل اعتماد ہے اور امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں خالی ہونے والے عہدوں پر اقلیتی قائدین کو موقع دے کر سماجی انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔ اسی دوران عام کانگریسیوں کا ماننا ہے کہ اگر اقلیتی طبقے کی نمائندگی کو نظرانداز کیا گیا تو اس سے سماجی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ بروقت نمائندگی دینے سے پارٹی کو آئندہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں فائدہ ہو سکتا ہے۔
