شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔اسمبلی ایوانوں میں بی جے پی کا صحیح طریقے سے مقابلہ کرنے میں شائد کانگریس ناکام ہوتی جارہی ہے اور ایسا محسوس ہورہاہے کہ کانگریس پارٹی جان بوج کر اس طرح کا رویہ اختیارکررہی ہے۔مرکزی حکومت اورریاستی حکومت کے خلاف کانگریس پارٹی یوں تو پریس کانفرنس اور اجلاس میں خوب آڑے ہاتھ لیکراپنے آپ کو اپوزیشن پارٹی میں ہونے کا ثبوت پیش کررہی ہے لیکن اسمبلی میں اس کی بولتی بند ہوچکی ہے اور جوجوش باہر دکھائی دے رہاہے وہ اندردکھائی نہیں دے رہا،جن مدعوں پر سختی او ربرہمی کامظاہرہ کرناہے وہ اسمبلی میں دکھائی نہیں دے رہاہے،بلکہ محبت کے دوچار بول کہہ کر وقت گذاری کا سلسلہ شروع ہوچکاہے۔ریاست میں یاپھر مرکزمیں کانگریس پارٹی آہستہ آہستہ اپنا وجود کھوتی جارہی ہے اور ہر کام محض برائے نام کررہی ہے ۔ آہستہ آہستہ پارٹی کے سینئرلیڈران بھی خاموشی اختیارکرنے لگے ہیں۔ایسانہیں ہے کہ کانگریس میں تجربہ کار لیڈروں کی کمی ہے بلکہ یہاں پر بی جے پی سے زیادہ تجربہ کار سیاستدان ہیں،باوجود اس کے اپوزیشن پارٹیوں کی ذمہ داری نبھانے میں ناکام نظرآرہے ہیں۔ایوان کی کارروائیوں میں روکاوٹیں ڈالنا،بائیکاٹ کرنا ،ا حتجاج کرنا ہی اپوزیشن کاکام سمجھ کر کانگریس اہم مدعوں پر بحث کرنے اور مخالفت کرنے میں نا کام ہوئی ہے ۔ حال ہی میں پارلیمانی اجلاس میں بھی پیگاسس کے تعلق سےبحث و مباحثے ہوتے رہے،اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیاتھاکہ پیگاسس جاسوسی معاملہ پر پارلیمان میں بحث کی جائے،لیکن برسرِا قتدار بی جے پی نے اس کا موقع نہیں دیا،جس پر اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی اجلاس کی معیادختم ہونے تک صرف احتجاج ہی کرتے رہے،نہ کہ کسی فیصلے پر اجلاس کاخاتمہ ہوا۔وہیں دوسری جانب کوروناکے دوران درپیش مسائل، اموات پربھی بحث ومباحثہ نہ ہوسکااور نہ ہی عوامی مسائل پر بات کی گئی۔اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے20 لاکھ کروڑ کا جو پیاکیج منظورکیاگیاتھااُس پر بھی بحث نہیں کی گئی۔ایک طرف پارلیمان کی یہ حالت ہے تو دوسری طرف ریاست میں بھی منظر کچھ اور نہیں ۔یہاں اپوزیشن اور برسرِاقتدار جماعتیں ایک ہی ہوچکی ہے لیکن پارٹیوں کے نام الگ الگ ہیں ۔اسمبلی میں ہی یہ لوگ اپوزیشن کا کردار ادا کررہے ہیں اور جب بات اسمبلی کے باہر ہو، گھوٹالوں کی ہو،ٹینڈرکی ہویاپھر رشوت خوری کی ہو ، ان تمام معاملات پر اپوزیشن اور رولنگ پارٹی چینی ہندی بھائی بھائی کی طرح ایک ہورہے ہیں ۔ حالانکہ کانگریس کے پاس کئی اہم وٹھوس مدعے ہیں ،جسے لیکر بی جے پی کو نچایاجاسکتاہے۔لیکن ایسا نہیں ہو رہاہے بلکہ ،میں مارونگا تم رونے کاناٹک کرو ،کی طرح گھوٹالوں و بدعنوانیوں پر چھوٹی موٹی تحقیق کردی جاتی ہے جس کے بعد معاملے کو خاموش کردیاجارہاہے۔کوروناکے مسائل ،حکومت کے اعلان کردہ پیاکیج،روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ،پکوان کے تیل کی قیمت میں اضافہ ، پٹرولیم کی قیمت میں اضافہ،تعلیمی وصحت کے شعبوں کےمسائل غیرضروری طو رپرٹیکس اور فیس کی وصولی پر سنجیدگی کے ساتھ بحث نہیں ہورہی ہے ۔ نام کیلئے چارپانچ لیڈران بات کرنے لگتے ہیں مگر اس سے کوئی فائدہ نہیں ہورہاہے۔
